شاعری مجموعی طور پہ خداداد صلاحیت کے نام سے پہچانی جاتی ہے یعنی اسے سیکھا نہیں جاسکتا اور نہ ہی سکھایا جاسکتا ہے۔ اسے نکھارا جاسکتا ہے۔ اس کے قواعد و ضوابط ضرور سمجھے جاسکتے ہیں۔
شاعری کسی فردِ واحد کی میراث نہیں ہے۔ یہ کوئی مقبوضہ جائیداد بھی نہیں ہے۔ یہ کوئی عہدہ بھی نہیں ہے کہ کسی کو اس کی اجازت دے کر بخش دیا جائے۔ یہ جذبہ، یہ شعور، خیالات کی یہ آمد، غربت یا امارات کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ یہ تقلیدی عمل بھی نہیں ہے کہ کسی کی شہرت یا نام دیکھ کر قدم اُٹھایا جائے کہ میں بھی اُسی طرح نام اور مقام کماؤں۔ ’’ارے اُس سے زیادہ بڑا اور روشن نام کمانے کی کوشش کیوں نہ کی جائے؟‘‘
خوشامدیوں سے زیادہ اچھا ہے کسی شاعرکو حاسدوں کا ایک گروہ مل جائے۔ کیوں کہ یہی حاسدین کرام ہی تو نوزائیدہ شاعر کی شاعری میں پختگی کا سبب بنتے ہیں۔ یقین کیجیے، ہمیں اس حسد کا علم نہ تھا کہ یہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے کبھی کوئی خاصا واسطہ پڑا ہے۔ بس کبھی کبھار محسوس ضرور ہوا ہے، مگر ہم جب اپنے آپ کو دیکھتے ہیں، تو حسد والی کوئی خوبی ہی نظر نہیں آتی کہ ہم سے کوئی حسد بھی کرسکتا ہے۔ لہٰذا اس طرف سے تو ہم مطمئن ہیں۔
مگر کچھ لوگوں کو اس مذموم حرکت کا سامنا ہوتا ہی رہتا ہوگا۔ خیر، یہ کچھ تلخ حقیقتیں تھیں۔ جن کا تذکرہ ضرور سمجھا گیا۔ دراصل حالات اور زمانہ کی چال انوکھی ہے، مگر مدد گار تو بہ ہر حال ہر جگہ موجود ہے۔
ویسے بھی ایک با شعور شخص جب بوڑھا ہو جائے، تو وہ شاعر ہی ہوتا ہے بلکہ وہ نثر کی زبان میں بہت حقیقی اور روحانی شاعری کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ خواہ وہ نا خواندہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ شاعرانہ انداز متاثر کن ہوتا ہے۔ شاعری انسانی فطرت میں رچی بسی ہوئی ہے۔ بس طریقۂ واردات ہر کسی کا الگ الگ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شاعر ہو اور وہ بھی روایتی شاعر، پھر نوجوان بھی ہو، تو اُس شاعری کا رنگ ہی جدا ہوا کرتا ہے۔ اپنی عمر اور تجربہ سے بڑھ کر تغزل و ترنم کی شرایط پوری کرتے ہوئے خیال بیان کرلینا، کوئی معمولی بات تونہیں ہے۔
جی ہاں، اگر نوزائیدہ شعراء میں سے کسی کو اُس کی خدمات اور اعلیٰ شاعرانہ خیالات کے تحت تھپکی دے دی جائے، تو اس میں اُس کا حوصلہ مزید بڑھ جائے گا۔
آج کی اس نشست میں ہم ایک نوجوان شاعر کو متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ یوں تو وہ غیر رسمی اور رسمی طور پہ مشاعروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں،انھیں حلقۂ احباب سخن میں ایک مقام بھی حاصل ہے۔ اُن کی شاعرانہ خوبیوں کے ساتھ ساتھ جو منفرد خوبی ہے، وہ اُن کا ترنم کے ساتھ اپنا کلام پیش کرنا ہے۔ شاعر کا نام ندیم خان قلمی نام ندیم چراغؔ ۔ وہ پندرہ مارچ اُنیس سو ستاسی عیسوی کو کاٹلنگ ضلع مردان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول وتکے (ضلع سوات) سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ روایتی شعراء کی طرح غربت ان کے ہم نوا رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ کے بعد انھوں نے پرائیویٹ ایف اے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ روزی و روزگار کی جنگ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ رزقِ حلال کے حصول کے لیے صبح سے شام کر جاتے ہیں۔
انھیں ابتدائی عمر ہی سے شعر و شاعری کا روگ لگ گیا تھا۔’’ندیم چراغ‘‘ کا شوقِ شاعری دراصل فطری تھا۔ اس شوق اور فطرت نے اُس وقت انگڑائی لی جب ایک دوست نے کسی اُردو شعر کا مفہوم ان سے سمجھنے کے لیے کہا۔ جانے وہ کون سا شعر تھا مگر ’’ندیم چراغ‘‘ نے حتیٰ الوسع انھیں وہ شعر سمجھادیا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔ ایک کیفیتِ منھ زور نے انھیں گھیر لیا۔ انھوں نے اُسی وقت یہ تہیہ کرلیا کہ اب میں بھی شاعری کروں گا۔ تاکہ لوگ میرے اشعار بھی پڑھیں۔ انھوں نے ہفتہ وار ’’بزم ادب‘‘ میں شرکت کرنا شروع کی۔ یہ 1999ء کا زمانہ تھا، نوعمری اور کم سنی کا دور تھا۔ پرایمری اسکول کا اسٹیج تھا۔ وہ اسٹیج کے مختلف پروگراموں مثلاً حمد و نعت، ملی نغمے اور گانوں میں حصہ لینے لگے۔
انھوں نے اپنے استادِ محترم خوش حال خان مفتون سے اپنے شوقِ شاعری کا اظہار کیا۔ مفتون جو اُس وقت ایک ندی کے کنارے بیٹھ کر شاعری کیا کرتے تھے۔ انھوں نے چراغ کو قواعد، نزاکتوں اور شاعرانہ شرایط سے آگاہ کیا اور قدم قدم پہ اُن کی رہنمائی کرتے رہے۔
مشقِ مسلسل، شوق اور قوتِ ارادی نے چراغؔ کو روشن چراغ بنادیا۔ اگر اُن کی شاعری پہ طایرانہ نظر ڈالی جائے، تو اس دور کے مطابق اچھی شاعری ہے۔ مثلاً اُن کی شاعری میں جدت بھی ہے اور قدامت بھی۔ یاس و حسرت بھی ہے، حوصلہ افزائی بھی اور شکوہ کنائی بھی۔ پڑھنے والوں کے لیے پیغام بھی ہے، حسن و عشق کا تذکرہ بھی ہے اور مقصدیت کا عکس بھی۔ مگر وہ کہاجاتا ہے کہ انسان مکمل تو نہیں ہوسکتا جس طرح کوئی نہ کوئی ارمان دل میں ضرور رہ جاتا ہے، اسی طرح ہر عمل میں بہتر سے بہترین کی گنجایش موجود رہتی ہے۔
چراغؔ کا مشقِ سخن جاری ہے۔ اس میں مزید پختگی اور نکھار کے پہلو روشن ہیں اور یہ دنیائے ادب کے لیے بہت ہی خوش آیند بات ہے۔
سوات آمد کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری تھا۔ ایسے میں شاعر اور معلم جناب عطاء الرحمان عطاءؔ سے اُن کی ملاقات ہوگئی۔ عطاءؔ کی جوہر شناس نگاہوں نے اس ’’چراغِ ادب‘‘ کو کھوجنے میں دیر نہ لگائی۔
جب خپل کور ماڈل اسکول میں امن مشاعرہ کا انعقاد ہوا، تو عطاءؔ نے چراغؔ کو بھی دعوت دی جس سے ان کے حوصلے اور خوابیدہ صلاحیت مزید اُجاگر ہوئی۔ پھر مشاعروں کی دعوت کا یہ سلسلہ چل نکلا۔
حوصلہ افزائی کرنے والوں میں عطاءؔ کے علاوہ عثمان اولس یارؔ اور عطاء اللہ جان ایڈووکیٹ بھی شامل ہوگئے۔ اسی اثناء میں چراغؔ اپنا کہا ہوا کلام اپنے پاس ذخیرہ کرتے رہے۔ اس اُمید پہ کہ ایک نہ ایک دن وہ صاحبِ دیوان شاعر ضرور بنے گا۔ اس کی بھی ایک کتاب ہوگی۔ لوگ اسے پڑھیں گے۔ اس کے باوجود کہ وہ جانتے تھے کہ اس مہنگائی کے دور میں ایک مزدور کار کے لیے یہ ایک خواب کی طرح ہے جو ٹوٹ جانے پہ بکھر جاتا ہے، مگر اُمید کے دامن کو مضبوطی سے تھام کر آگے بڑھتے رہے۔ یہاں اگر عبدالرحیم روغانیؔ کا تذکرہ نہ کیا جائے، تو یہ بے انصافی ہوگی۔ انھوں نے بھی چراغؔ کی رہنمائی کی۔ قیمتی مشوروں سے نوازا اور وہ یہ خواہش کرتے رہے کہ چراغؔ صحیح معنوں ’’چراغ‘‘ بن کر روشنی بکھرنے کے قابل ہوجائیں۔
یوں احباب سخن کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی نے چراغؔ کو اس قابل بنادیا کہ انھوں نے کتاب چھاپنے کا ارادہ کرلیا۔
نادر شاہ روغانیؔ نے کمپوزنگ کرکے اس کی ابتداء کر ڈالی۔ پروفیسر عطاء الرحمان عطاءؔ نے اس کتاب کا نام ’’دَ گل پہ غیگ کے‘‘ رکھا۔ عطاء اللہ جان نے اس پر نظر ثانی کی۔
کتاب کو شایع کرانے میں محمد عادل تنہاؔ نے بھر پور مدد کی۔ مراد آرٹسٹ نے اس کا خاکہ بنایا۔ حنیف قیسؔ نے بھی اس کتاب پہ نظر ثانی کی۔ گلوکار ضیاء الدین ضیاء نے نجی محفلوں میں چراغؔ کی کئی غزلیں بھی گائیں۔
پختون نڑیوال مشاعرہ میں ’’پارسا‘‘ نے انھیں حسن شاعری میں ایوارڈ سے نوازا جو ودودیہ ہال منعقدہ 2014ء عالمی مشاعرہ کے دوران میں وصول کیا گیا۔
2015ء کی ابتداء میں ادبی خدمات کی بنا پر پختون خوا ادبی ایوارڈ سے بھی چراغؔ کو نوازا گیا۔ اب کامیابی کا یہ سفر جاری و ساری ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
724 total views, no views today


