دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کتابوں سے جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں۔ کتابوں کو پڑھتے ہیں اور انھیں پیار سے الماریوں میں سجاتے ہیں۔ بک شاپس پر کوئی نئی کتاب آجائے، تو اسے خرید کر گھر لے جاتے ہیں اور اسے غور سے پڑھتے ہیں۔ جن لوگوں کو مطالعہ کا شوق ہوتا ہے۔ وہ بغیر مطالعہ کے سونے کے لیے بستر میں نہیں جاتے ہیں۔ مطالعہ کے بعد وہ نیند لیتے ہیں۔
واقعی کتابیں پڑھنا ایک مفید مشغلہ ہے لیکن ہر کوئی ہر ایک کتاب پڑھنا پسند نہیں کرتا۔ ہر ایک کی پسند کی کتاب اس کے ذوق کے مطابق ہوتی ہے۔ کوئی تاریخی کتاب پڑھنا پسند کرتا ہے، کوئی نفسیات کی، کوئی فلسفہ کی، کوئی رومانی تو کوئی جاسوسی کتاب پڑھنا پسند کرتا ہے۔ کوئی تصوف پر مبنی کتاب، تو کوئی قرآن و حدیث اور تفاسیر یا سیرت کی کتابیں زیادہ شوق سے پڑھتا ہے۔ اور کوئی کرنٹ آفیئرز پر کتابیں و رسایل پڑھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
قارئین کتب اپنے مطالعہ کو جاری رکھنے کے لیے اپنے اپنے بیڈ روم میں کتب کا شلف ضرور بنواتے ہیں۔ جب کہ بہت سے لوگ پبلک لائبریریوں کا رُخ کرتے ہیں۔ تقریباً ہر کالج اور اسکول میں طالب علموں کے لیے ایک ایک لائبریری ضرور ہوتی ہے، لیکن دیکھا گیا ہے کہ ہماری نئی نسل جنرل بکس سے دور بھاگتی ہے۔ صرف نصابی کتابوں کو ترجیح دیتی ہے۔ تاکہ آنے والے امتحانوں میں ’’اچھے نمبر‘‘ لے کر پاس ہوجائے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ امتحانات کے قریبی دنوں میں امتحانی پرچوں میں نقل مارنے کے لیے پاکٹ سایز گائیڈز خرید کر امتحانی ہالوں میں لے جائے جاتے ہیں اور پاس ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ نقل میں پاس ہوجانا کوئی کمال نہیں بلکہ خود کو اس عمل سے پڑھا لکھا جاہل بنانے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ایسا طالب علم آگے جاکر عملی زندگی میں بری طرح ناکام ہوتا ہے۔
قارئین کرام! جن لوگوں کو کتابوں سے عشق ہوتا ہے، تو کتابیں انھیں بہت کچھ دیتی ہیں اور انھیں ایک بہت بڑے رتبے پر سرفراز کر دیتی ہے۔ انھیں ایک تخلیق کار، ادیب، شاعر، مصور، دانش ور، ساینس دان، آرکیٹکٹ، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر، اُستاد اور نجانے کیا کیا بناتی ہیں۔ ان کتابوں ہی کی وجہ سے وہ معاشرہ کے لیے ایک مفید انسان بن جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہمارے پاکستانی معاشرہ میں کتابوں کے پڑھنے کا رجحان بہت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ بہت کم طالب علم اپنی اسکول لایبریری سے استفادہ کرتے ہیں۔ پبلک لایبریری میں اگر جاکر دیکھا جائے، تو مطالعہ کی میزوں پر جو حضرات مطالعہ کرتے ہیں، وہ زیادہ تر اخباروں کو پڑھتے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں میں کتابیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اگر پبلک کسی لایبریری کی الماریوں میں جھانک کر کتابوں کو دیکھا جائے، تو اُس پر مٹی اور گرد پڑی ملے گی بلکہ کتابوں کی الماریوں کو بڑے بڑے قفل لگے ہوئے ملیں گے۔ اکثر لایبریریوں میں کوالی فائیڈ لایبریرین سرے سے ہوتا ہی نہیں بلکہ میونسپل کمیٹی میں تو کلرک حضرات کی مدد سے پبلک لایبریری کو چلایا جاتا ہے۔ اس طرح اسکول کی سطح پر جو لایبریری ہوتی ہے، وہ عموماً ایک کمرہ پر محیط ہوتی ہے اور ایک اسکول ٹیچر جو عام طور پر اُردو پڑھاتا ہے، وہ لایبریرین کا اضافی عہدہ بھی رکھتا ہے۔ اسکول طالب علم اپنی اسکول لایبریری کا رُخ بھی نہیں کرتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اسکول میں ہفتہ میں ایک دن لایبریری میں رکھی ہوئی کتابوں کی زیارت کرانے کے لیے ایک باقاعدہ کلاس ہو اور لایبریری میں موجود کتابوں کو باقاعدہ طور پر مطالعہ کے لیے طلبہ کو ایشو کرنا چاہیے اور جو طالب علم سال بھر میں زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھ لے، اسے اس کے اس عمل کے باقاعدہ نمبر دیے جانے چاہئیں۔ تاکہ طلبہ کے جنرل نالج میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔ بالکل اس طرح طلبہ کو اسپورٹس میں حصہ لینے پر بھی الگ نمبر دیے جانے چاہئیں۔تاکہ طالب علم شروع دن سے مثبت سوچ کا حامل فرد بنتا جائے۔ پبلک لایبریریوں میں پڑھنے کے لیے کتابیں میزوں پر رکھی جانی چاہئیں اور اگر کوئی کتاب پڑھنے کے لیے گھر لے جانا چاہے، تو اسے ممبر بنا کر اس کے نام کتاب جاری کرنی چاہیے۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی کہ الماریوں میں کتابیں گرد آلود اور دیمک کی خوراک بن جائیں اور کوئی اُسے پڑھنے کی زحمت تک گوارا نہ کرے۔
ترقی یافتہ ممالک میں سفر کے دوران میں بھی لوگ کتابوں کا مطالعہ جاری رکھتے ہیں۔ خواہ وہ ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوں یا ریل گاڑی یا بس یا پھر موٹر کار میں۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز بھی اسی مطالعہ میں پنہاں ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ذہنی سطح بھی اونچی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ چاند کو مسخر کرچکے ہیں اور مریخ پر کمند ڈال رہے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ انسانوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اور انسانیت کو پاؤں تلے روند رہے ہیں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,154 total views, no views today


