قارئین کرام! محترم فضل رازق شہابؔ صاحب نے اپنی ایک تحریر میں سوات کو ’’زنکو ڈھیرء‘‘ سے تعبیر دیا ہے۔ میں اس سے قبل بھی اپنی ایک ٹوٹی پھوٹی تحریر میں موصوف کی مذکورہ تحریر کا حوالہ دے چکا ہوں، مگر آج ایک بار پھر یہی حوالہ سطح قرطاس پر اتارنا ناگزیر ہے۔
شہابؔ صاحب کے بہ قول ’’زنکو ڈھیرء‘‘ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں دنیاجہاں کے بد کردار لوگ جمع ہوتے ہیں اور بغیر کسی جھجھک کے اپنا منھ کالا کرکے واپس اپنے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ سوات بھی ’’زنکو ڈھیرء‘‘ ہی تو ہے، جہاں سرخ فیتہ والوں نے دہشت گردی کی آڑ میں اپنے کاروبار چمکائے۔ بہ حالی کے نام پر انفرادی حیثیت سے لے کر اداروں کے سربراہان تک نے اپنی جیبیں گرم کیں اور اہل سوات کے نام پر اکھٹی ہونے والی امداد کا عُشرِ عشیر بھی یہاں کے بے زبان عوام کو نہیں دیا گیا۔ ہماری آج کی نشست چوں کہ یہاں نئے تعینات ہونے والے کمشنر کے حوالہ سے ہے، اس لیے بہ شرط زندگی ایک نشست سوات میں ’’بہ حالی‘‘ کے نام پر سرگرم شخصیات و اداروں کے ’’کام‘‘ اور اس کی آڑ میں بنائے گئے ’’دام‘‘ کے حوالہ سے ہوگی۔
قارئین کرام! آج سے ٹھیک اُنیس سال پہلے ایک ’’ای اے سی‘‘ کو اس کے کردار کی وجہ سے بے پناہ عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس وقت کی حکومت نے یہاں سے اٹھا لیا۔ اب تبدیلی والی سرکار آپ صاحبان کو ایک بہت ہی بڑی کرسی پر بٹھا کر واپس لانے والی ہے جس کے لیے سوات کی سول سوسایٹی راضی ہے، نہ کاروباری حلقے اور نہ ہی سیاسی حلقے۔
سول سوسایٹی کی طرف سے حاجی رسول خان (جو کہ معروف کالم نگار بھی ہیں) کہتے ہیں کہ چیف سیکرٹری کو چاہیے کہ سوات کے معروضی حالات کا جایزہ لیتے ہوئے کمشنر یا اس جیسے بڑے عہدہ کے لیے شریف اور باکردار لوگوں کا انتخاب کرے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ماضی میں جاوید نامی کمشنر نے جو بویا ہے، آج تک اہل سوات اسے کاٹ رہے ہیں۔ اب کفایت اللہ نامی ایک صاحب کو یہاں پر کمشنر کی مسند پر بٹھایا جا رہا ہے جس کا ماضی داغ دار ہے۔ بعد میں حکومت یہی گلہ کرے گی کہ سوات میں حالات خراب ہوگئے۔ جب یہاں خراب لوگوں کو لاکر ہمارے سروں پر بٹھایا جائے گا، تو حالات تو خراب ہوں گے ہی۔‘‘ کاروباری شخصیات میں سے سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبد الرحیم تو پہلے سے ان کے خلاف طبل جنگ بجا چکے ہیں اور رہی بات سیاسی شخصیات کی، تو پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے درویش منش ڈاکٹر خالد محمود خالد گوجرنے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت اور خصوصی طور پر چیف سیکرٹری سے پرزور اپیل کی ہے کہ ’’کمشنر کے حوالہ سے کیے گئے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے، بہ صورت دیگر امن و امان کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عاید ہوگی۔‘‘ خالد محمود خالد نے مزید کہا کہ ’’آج سے اُنیس سال پہلے ضلع سوات کے ایک ای اے سی کو بدنامی کی وجہ سے عوامی احتجاج کے باوجود تبدیل کیا گیا تھا، وہ نہایت ہی داغ دار ماضی کا مالک ہے۔ ہم اسے بالکل کمشنر کے طور پر نہیں مانتے۔‘‘
قارئین کرام! مثل مشہور ہے کہ’’زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو۔‘‘ ہماری سب سے بڑی کم زوری یہ ہے کہ ہم اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو بہت جلد بھول جاتے ہیں یا پھر آواز اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ ایک جگہ پڑھا تھا کہ یہ دنیا برے لوگوں کی برائی سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے اس نہج پر پہنچی ہے۔
جہاں تک راقم کی بات ہے، تو اس حوالہ سے احمد فرازؔ کا ایک شعر عرض ہے کہ
سبھی کو جان تھی پیاری، سبھی تھے لب بستہ
بس اک فرازؔ تھا ظالم سے چپ رہا نہ گیا
*۔۔۔*۔۔۔*
874 total views, no views today


