میرا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہی سکون کا باعث ہے۔ سکون، امن، انصاف اور خوشیاں اس وقت تک ملنی مشکل ہیں جب تک معاشرہ میں تعلیم نہ ہو۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ تو تعلیم یافتہ ہے۔ کالجوں، یونی ورسٹیوں اور اسلامی درس گاہوں سے لوگ دھڑا دھڑ فارغ ہوکر نکل رہے ہیں لیکن میری نظر میں تعلیم اس مثبت تبدیلی کا نام ہے جو انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے اور جس کے نتیجہ میں وہ احکام الٰہی کا پابند ہوجاتا ہے۔ اسے نہ کسی قانون کی گرفت کا ڈر ہوتا ہے، نہ کسی کے ساتھ زیادتی کا سوچ ہی سکتا ہے اورنہ اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے۔ انسان تو انسان وہ دیگر مخلوقات پربھی رحم کرتا ہے اور خود بھی اللہ کے رحم کا مستحق بن جاتا ہے۔ اصل میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیر ساری خصوصیات عطا کی ہیں۔ وہ کسی بھی حیثیت میں ہو اسے کافی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اب اگر یہ تعلیم یافتہ نہ ہو، تو وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے بنی نوع انسان کا مجرم بن جاتا ہے اور ایک مجرم انسان سے پھر خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ جس مخلوق کو آپ خیر نہیں دے سکتے، اس سے آپ خیر کی توقع بھی نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا ایک نفسیاتی الجھن بن جاتی ہے۔ یہ الجھن چاہے ایک انسان کی ہو یا معاشرہ کی بلکہ یہ چاہے ایک چھوٹے سے پرندہ کی ہی کیوں نہ ہو، اس سے جب وہ متاثر ہوتا ہے، تواس کے گرد و پیش میں دیگر مخلوقات پر اس کی الجھن کے اثرات پڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر گلی کا کوئی لاوارث کتا بھی اگر تکلیف میں ہو تو وہ نہ صرف دیگر کتوں اور جانوروں پر جھپٹ پڑتا ہے بلکہ انسان کو بھی نہیں بخشتا اور اس کا اگر بس نہ چلے، تو کم از کم بے جا شور سے ماحول میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ اب جہاں تک انسان کی بات ہے، اس کو جتنا اللہ تعالیٰ نے خوبیوں سے نوازا ہے، تو وہ خوبیاں اگر مثبت انداز میں بروئے کار لائی جائیں، تو خوشیاں اور اچھائیاں جنم لیتی ہیں لیکن ان کو اگر منفی انداز میں استعمال کیا جائے، تو وہ انسان کو انسانیت کے درجہ سے گرا کر جانور سے بھی بدتر درجہ پر فایز کرتی ہیں، جس کو پھر اسلامی معاشرہ میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ کو جسد واحد سے تشبیہ دیا گیا ہے اور جسم کا جو حصہ بھی تکلیف میں ہو،پھر تکلیف سارے جسم کو محسوس ہوتی ہے اور نتیجتاً جسم بے قرار ہوتا ہے۔ بس اسی طرح اگر معاشرہ میں ایک فرد بھی تکلیف میں ہو تو وہ سارے معاشرہ کو مسایل میں مبتلا کردیتا ہے۔ آج جب کہ دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر گئی ہے، تو اس کا بھی بس یہی حال ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونہ کے مسایل باقی ماندہدنیا کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔ کیا ایسے میں ہمیں غور و فکر کی ضرورت نہیں؟ تاکہ ہم یہ سیکھ سکیں کہ جو چیز میں چاہتا ہوں، وہ کسی اور کی بھی عرضی ہے۔ لہٰذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر کسی کو کسی نہ کسی شکل میں ضروریات زندگی میسر ہونی چاہئیں۔ ہر کسی کو جینے کا حق ہے۔ اس سے کسی کو محروم نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کی آسایش جو ہم اپنی ذات، بچوں، بہن بھائیوں اور دیگر اپنوں کے لیے پسند کرتے ہیں، وہی آسایش دیگر لوگوں کی بھی ضرورت ہے۔ وہ بھی اسے پسند کرتے ہیں۔ اب اگر ہم میں یہ شعور ہے کہ ہم دوسروں کے حقوق کا احترام کرسکتے ہیں، تو یوں سمجھیے کہ ہم تعلیم یافتہ ہیں۔ ہمارے ہاں مسایل پیدا نہیں ہوں گے، ہم ایک دوسرے پر پتھر نہیں برسائیں گے۔ ہم امن اور آرام سے زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے۔ ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ حقوق کو حاصل کرنے کے واسطے ہمیں لوہے کے جوتے درکار نہیں ہوں گے بلکہ حقوق ہمیں اپنی دہلیز پر ملیں گے لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور ہم خود غرضی کی انتہا پر ہیں، ساری سہولیات اگر ہم نے اپنے واسطے قبضہ کرنی ہیں اور صرف اپنے بچوں کا خیال رکھنا ہے، تو ہم کسی طور تعلیم یافتہ نہیں کہلائے جا سکتے۔چاہے ہمارے ساتھ جتنی بھی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس ہوں، میرے عقیدہ کے مطابق یہ گدھے کے اوپر کتابوں کا بار رکھنے کے مترادف ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ ایسا مثالی معاشرہ کہاں ہوگا، تو اسلامی تاریخ پر نظر ڈالنے سے ایسا معاشرہ ہماری آنکھوں کے سامنے آسکتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دوسروں کے حقوق کا احترام تو ایک طرف یہاں تک کہ دوسروں کے لیے اپنے حقوق قربان کیے جاتے تھے۔ ہجرت مدینہ میں دیکھیے، انصار نے اپنے کتنے حقوق اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے قربان کیے۔
آج اگر ہماری تعلیم ٹھیک طریقہ سے ہوئی، تو ہم بھی برد باری اور روا داری کا وہ منظر پیش کریں گے، جس کو ایک شاعر نے اپنے ان مختصر الفاظ میں سمویا ہے کہ
لمن مِ ڈکہ دہ د کانڑوں خو سوک نہ ولم پرے
پہ عادتونو کے دا یو عادت د غر لرمہ
788 total views, no views today


