تنقید کرنا اور نقایص ڈھونڈنا تو تقریباً ہر کسی کو آتا ہے مگر اصلاح اور راہنمائی کرنا اور اُس کے لیے راہ دکھانا یہ ایک مشکل کام ہے اور یہ ایسا راستہ ہے جس پر بہت سے لکھاری تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ خصوصاً سوات جیسے شورش زدہ دھرتی کے مرکزی شہر مینگورہ کی ابتر اور بگڑی ہوئی حالت پر تو اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جارہا ہے کہ اُسے احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں، مگر فضل ربی راہیؔ صاحب کی نگارشات مینگورہ شہر کی صفائی کے بارے میں اس لحاظ سے بہت منفرد رہیں اور قابل تعریف بھی ہیں کہ انھوں نے شہر کی صفائی کے لیے بہت آسان اور قابل عمل تدابیر کی طرف نشان دہی کی ہے۔
انھوں نے صرف تنقید سے کام نہیں لیا۔ موصوف کا کالم کئی حصوں میں ’’روزنامہ آزادی‘‘ کی زینت بنا۔ میں اس کے مندرجات یا متن کو دھرانے کی کوشش نہیں کررہا بلکہ یقین جانیے، اُس کے قابل عمل سادہ اور کم لاگت سے عمل میں آسکنے والی عملی تدابیر اور منصوبوں سے متاثر ہوکر قلم اُٹھانے پر مجبور ہوا ہوں۔ اُن کے یہ شذرات ظاہر ہے تمام اداروں تک پہنچ چکے ہوں گے۔ خواہ میونسپل کمیٹی کی میز ہو یا ہمارے ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم صاحب کی میز ہو۔ مینگورہ کی ابتر و آلودہ حالت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ میرے خیال میں اب اس بارے میں ذرا سی بھی غفلت اور سستی سم قاتل ثابت ہوگی۔ اور راہی صاحب کی اس کاوش کو حرفِ آخر سمجھنا چاہیے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
کے مصداق راہیؔ صاحب کی تجاویز دلوں کو چھو لینے والی اور مسحور کردینے والی ہیں۔ قلبِ سوات مجروح و متعفن ہوچکا ہے۔ یہ اب ہمارے میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، کمشنر صاحب اور سوات کے بھاری ووٹوں سے منتخب ہونے والے ممبران صاحب کی غیرت اور دھرتی ماں سے محبت کا سوال ہے کہ وہ راہیؔ صاحب کی تجاویز پر کتنا عمل کرتے ہیں۔ میں اُن کے کالم کی صرف ایک مثال پیش کررہا ہوں۔ انھوں نے چینہ مارکیٹ کے قریب کافی وسیع و عریض متعفن ’’خوڑ‘‘ پر لینٹر ڈال کر اُس پر گاڑیوں کی پارکنگ یا کمرشل پلاٹس بنانے کی جو تجویز دی ہے اور یقین جانیں لوگ ایڈوانس رقم دے کر اتنی قیمتی جگہ پر دکانیں حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بولی دیں گے۔ اور ضلعی خزانہ پر بوجھ بھی نہیں آئے گا۔ اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ پھر نہ وہاں پارکنگ کا مسئلہ ہوگا، نہ گینڈا نما سرکاری گاڑی ہوگی جس کے خونی جبڑوں سے دو نکلے ہوئے آہنی لمبے دانت ہوں گے، جو بے خبری میں کسی بے چارے شہری کی قسطوں میں خریدی ہوئی کار کو اُٹھا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ بھئی، پہلے کار پارکنگ کے لیے جگہ تو بنائیں، پھر اگر کوئی غلطی کرے، تو اُس کی گاڑی کو اُٹھانے کا آپ کو حق ہے۔ راہیؔ صاحب نے خونِ جگر دے کر اور اپنا قیمتی وقت صرف کرکے جو اتنی طویل قابل عمل زمینی تجاویز دی ہیں، تو ان کی کاوشوں کو ضایع نہ کیجیے۔
مجھے اُمید ہے اگر ہمارے ممبران خصوصاً فضل حکیم صاحب جو ڈیڈک چیئرمین بھی ہیں، اگر اس دھرتی کو اپنی ماں سمجھتے ہیں اور تاریخ میں اپنا نام ضمیر فروشوں اور خود غرض و بے غیرت ممبران کی فہرست میں نہیں لکھوانا چاہتے، تو انھیں راہیؔ صاحب کی تجاویز کے مطابق ابھی سے اپنا کام شروع کر دینا چاہیے اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا، تو پھر تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ اور پھر عوامی عدالت میں آپ کا گریبان ہوگا اور عوام کا ہاتھ۔ کیوں کہ عوام کا غیض و غضب کسی بھی وقت لاوا بن سکتا ہے۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ہمارے کمشنر صاحب، میونسپل کمیٹی کے چیئرمین اور بلدیہ مینگورہ کے افسران اپنی لش پش چمکتی گاڑیوں میں اس لتھڑے، آلودہ، پر تعفن، پر ہنگم، بے ترتیب اور گاڑیوں کے ازدحام سے اپنی ناک شریف پر رومال رکھ کر گزر کر اپنے عالی شان گھروں اور دفتروں تک پہنچتے ہیں، مگر جب آنکھوں میں حیاء، غیرت اور احساس ذمہ داری کے سوتے ہی خشک ہوجائیں، تو پھر وہ عوام کی تکالیف کا کیا احساس کریں گے اور کیا مداوا کریں گے۔ پھر تو یہی کہا جاسکتا ہے۔
وطن کی فکر کو ناداں قیامت آنے والی ہے
تیری بردیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
638 total views, no views today


