سوات میں ڈینگی کے مچھر کے داخل ہونے کے بعد ’’سالے ایک مچھر ‘‘ نے قیامت برپا کی تھی۔ اس سال پینسٹھ سوات کے بدنصیب لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ساٹھ ہزار سے زاید افراد کو اس مچھر نے شدید درد اور نہ کم ہونے والے بخار میں مبتلا کیا تھا۔ اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر فرخ عتیق نے دن رات ایک کرکے ڈینگی کے خلاف کام کیا۔ ان دنوں ڈینگی بارے درجنوں اجلاسوں میں بہ نفس نفیس شریک ہوئے تھے۔
فرخ عتیق صاحب جب پریزینٹیشن دیتے تھے، تو وہ بیورو کریٹس کم اور ڈاکٹر زیادہ لگتے تھے۔ وہ کسی کا بھی کوئی ناجایز کام نہیں کرتے تھے۔ رکن یا ارکان اسمبلی کے ناجایز کام نہ کرنے کی وجہ سے اس فرشتہ صفت افسر کو سوات سے انصاف والے اراکین اسمبلی نے تبدیل کردیا اور یوں سوات کے عوام کے پر ظلم کی انتہا کردی۔ میں تو یہی بد دعا دے سکتا ہوں کہ جس رکن یا ارکان اسمبلی نے سوات کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے، خدا اُن کو سزا دے۔
پچھلے سال ہمارا خیال تھا کہ ڈینگی گزشتہ سال سے بھی بد تر ہوگا لیکن موجودہ انتظامیہ جس میں ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر، اسسٹنٹ کمشنر اشفاق خان ارمزئی، حامد خان اور دیگر انتظامی افسران نے ڈینگی کی روک تھام کے لیے بہت کام کیا۔ لاروے کا خاتمہ کیا اور انتظامیہ کی محنت رنگ لے آئی۔ نتیجتاً گزشتہ سال ڈینگی وبا نہ ہونے کے برابر تھی جس پر انتظامیہ خراج تحسین کی مستحق ہے۔
گزشتہ روز جرگہ ہال سیدو شریف میں تقریب تقسیم اسناد تھی جس میں مجھ ناچیز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب میں اُن افراد کو سر ٹیفیکیٹ دئے گئے جنھوں نے ڈینگی کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ تقریب میں اشفاق خان ارمزئی اور ڈپٹی کمشنر سوات نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ انھوں نے ڈینگی کے لاروے کا خاتمہ کیسے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے دن رات ایک کرکے اس پر کام کیا۔ رمضان المبارک میں انتظامی افسران نے اکثر اوقات افطاری شہر کے گلیوں میں کی۔ کبھی کبھار دن رات میں ایک گھنٹہ بھی نہیں سوئے۔
جرگہ ہال میں منعقدہ مذکورہ اجلاس میں موجود لوگوں نے انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا اور تالیوں کے ذریعے خوب داد بھی دی۔
قارئین کرام! میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ انتظامیہ نے دن رات ایک کرکے ڈینگی کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کیا اور اپنے سرکاری فرایض بخوبی انجام دیے لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا انتظامیہ کا کام صرف ’’ڈینگی‘‘ کا خاتمہ ہے ؟ کیا سرکار انتظامیہ کو صرف ’’ڈینگی‘‘ کی روک تھام کی خاطر تن خواہ دیتی ہے؟ ڈینگی ایک وبا نام ہے، جو انتظامیہ کے بھر پور تعاون سے ختم ہوئی، لیکن کیا انتظامیہ کی کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے؟ سوات اور خاص کر مینگورہ شہر مسایلستان بنا ہوا ہے۔ ہماری سڑکوں کی حالت دیکھ لیں، کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ لنڈاکے سے کالام، سالنڈہ سے ملم جبہ سڑکوں کی حالت زار دیکھیں۔ جامبیل روڈ کے بارے میں تو میں الگ سا ایک کالم لکھوں گا۔ صفائی کے نظام کو دیکھا جائے، تو شہر گندگی سے اٹا پڑا ہے۔ شہر میں تجاوزات کی وجہ سے گاڑی تو کیا پیدل چلنے والوں کا گزر بھی مشکل ہے۔ شہر میں پانی نہیں، بجلی نہیں، گیس نہیں ہے۔ مضافات کو رکھ چھوڑئیے، مینگورہ شہر کے اندر کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ بائی پاس روڈ جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، وہ کب کا فوت ہوچکا۔ اس کی جگہ مذکورہ روڈ کمرشل ایریا بن چکی ہے۔
اس طرح کے سیکڑوں مسایل ہیں، جن کا حل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ عوام کی زندگی میں آسانیاں لانے کی تن خواہ لیتی ہے۔ اس لیے میں ڈپٹی کمشنر سوات، اسسٹنٹ کمشنر مینگورہ اور ان کی ٹیم کو ڈینگی کے خاتمہ پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اب جب ڈینگی کا خاتمہ ہو چکا ہے اور موسم بھی سرد ہے، تو وہ ’’ڈینگی مہم‘‘ کی طرح باقی مسایل کے حل کے لیے بھی مہم شروع فرمائیں۔ شہر سے تجاوزات کا خاتمہ فرمائیں، غیر قانونی گاڑیوں، کم عمر رکشہ ڈرائیور، کم عمر موٹر سائیکل ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی فرمائیں، ضلع کی سڑکوں کی تعمیر کے لیے کام کریں۔
اس طرح اگر انتظامیہ نے باقی مسایل کو بھی اس ضلع کے مسایل سمجھا اور اس پر ’’ڈینگی‘‘ کی طرح دن رات ایک کرکے کام کیا گیا اور اس ضلع کو اپنا ضلع سمجھا گیا، تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ سوات کے مسایل حل ہوجائیں گے۔ سب کی تن خواہ حلال ہوجائے گی اور میرے علاوہ ضلع کے بیس لاکھ لوگ آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دعائیں بھی دیں گے۔
مجھے یقین ہے کہ ضلعی انتظامیہ آج سے ’’ڈینگی ‘‘ کی طرح باقی مسایل کے حل کے لیے بھی دن رات ایک کرکے کام کرے گی اور جس طرح انتظامیہ نے ڈینگی کے خاتمہ کو ممکن بنایا، اسی طرح باقی مسایل کا حل بھی ممکن ہے۔
اگر کوئی کام کرنا چاہے، تو ’’سب کچھ ممکن ہے۔‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*
752 total views, no views today


