اصغر علی ایڈوکیٹ سوات
ھماری اجتماعی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ایک انڈین اداکار دلیپ کمارکے مکان واقع پشاور کی تزئین وارائش کیلئے کروڑو روپے خرچ کیے جارہے لیکن ریاست سوات کے اخری حکمران میاں گل عبدالحق جہانزیب، والی صاحب ،جس نے ایک مثالی سٹیٹ قائم کیا تھا ،سوات جیسے دشوارگزار پہاڑی وادیوں میں سینکڑوں سکول بنانے کے علاوہ جہانزیب کالج جیسا عظیم ادارہ قائم کیا تھا جہاں درس تدریس کیلئے جرمنی اور انگلینڈ سے اساتذہ کو بلایا گیا تھا، جگہ جگہ علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ سیدو شریف میں دو بڑے ھسپتال تعمیر کرکے، 1956 میں دومنزلہ گائنی وارڈ تعمیر کیا تھا، سوات کے طالبعلوں کو سکالر شپ دے کر اعلیٰ تعلیم کیلئے سوات سے باھر بھیجوانے کا انتظام کیا تھا، مثالی مواصلاتی نظام قائم کر کے امدرفت اور رس ورسایئل کا مسئلہ حل کیا تھا، امن امان قائم کرکے لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا تھا، روز گار کا مسئلہ حل کیاتھا، ریاست کے ھر فرد کا گھر کے سربراہ کی طرح خیال رکھ کر، ریاستی وسائیل یعنی جنگلات، معدنیات اور دریاؤں کو عوام کی امانت سمجھ کر تحفظ کیاتھا اور صرف عوام ہی کی جائز ضرویات پوری کرنے کیلئے بروئے کار لایا تھا، غرض یہ ایک جنت نظیر ریاست قائم کیا تھا، اس عظیم انسان کی رھائش گاہ، جو فن تعمیر کا ایک عظیم نمونہ ہے، اور جس میں کہ ملکہ برطانیہ نے قیام بھی کیا ہے، اج ھماری بےحسی کی وجہ سے، انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے،غلاظت کا آماجگاہ ہے، اور ھماری اجتماعی تباہی وبربادی کا منظر پیش کر رہا ہے، اگر واقعی صوبایی حکومت قومی اثاثوں کو محفوظ بنانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اس عظیم قومی ورثہ کو محفوظ بنائے.
700 total views, no views today



