پشاور(سوات نیوز) کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے محرم الحرام سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی، گزشتہ روز سی سی پی او عباس احسن کے دفتر سے جاری ہونے والے پلان کے مطابق دس ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار محرم کے دوران سکیورٹی کے فراءض سرانجام دیں گے، تمام روٹس سمیت مجالس عزاداری، امام بارگاہوں کی بم ڈسپوزل یونٹ اور سنیفر ڈاگز کے ذریعے سویپنگ کی جائے گی جبکہ تمام امام بارگاہوں، اہم اور حساس راستوں و مقامات کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی، امام بارگاہ جانے والے گزرگاہوں میں موجود اونچے عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کئے جائیں گے، جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونے والے افراد کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے
اسی طرح پشاور پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن وامان کی قیام اور کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کر یقینی بنانے کی خاطر تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، تاجر رہنماوں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کے حکام کے ساتھ خصوصی میٹنگز کئے ہیں جبکہ سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے گئے ہیں، اسی طرح شہر میں واقع سرائیوں، گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلز میں قیام پذیر افرادکا ڈیٹا چیک کرکے ان کی بھی کڑی نگرانی کا عمل جاری ہے
تفصیلات کے مطابق پشاور پولیس نے محرم الحرام کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی خاطر جامع سکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے جس کے مطابق شہر بھر میں دس ہزار سے زائد پولیس افسران و جوان سکیورٹی کے فراءض سرانجام دیں گے، پلان کے مطابق تمام روٹس اور دیگر اہم و حساس مقامات کی نگرانی کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مشتبہ افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی، تمام اہم تقاریب کو تھری لئیر سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گزرگاہوں میں موجود تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کئے جائیں گے جبکہ تمام روٹس کا از سر نو جائزہ لے کر نئے سکیورٹی آڈٹ کی روشنی میں گن پوسٹس اور پلگنگ پوائنٹس پر اہلکار تعینات کئے جائیں گے
محرم کے دوران شہر کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے بکتر بند گاڑیاں بھی حساس مقامات پر موجود رہیں گی جبکہ آر آر ایف، اے ٹی ایس، کیو آر ایف، لیڈیز پولیس، بی ڈی یو، سٹی پٹرولنگ فورس کے جوانوں کے ساتھ ساتھ ڈی ایس بی کے جوان بھی سکیورٹی کو موثر بنانے کے لئے اپنے فرائض سر انجام دیں گے، محرم کے دوران ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے خصوصی ٹریفک پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت محرم الحرام کے دوران ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی خاطر ایک ہزار سے زائد ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات کئے جائیں گے
شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور اہم مقامات پر سپیشل ناکہ بندیاں لگا کر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ شہر میں داخل ہونے والے تمام مشتبہ افراد کی کڑی نگرانی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، اسی طرح افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اندرون شہر کی سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لئے محرم کے آخری ایام میں تمام گاڑیوں کے داخلہ پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ محرم الحرام کے دوران امام بارگاہوں اور حساس مقامات سمیت شہر بھر کی مانیٹرنگ کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ خصوصی کنٹرول روم تھانہ شرقی میں قائم کیا گیا ہے جہاں سے سی سی ٹی کیمروں کے ذریعے تمام حساس مقامات، امام بارگاہوں، روٹس اور دیگر اہم جگہوں کی نگرانی کی جائے گی جبکہ اسی طرح کوہاٹی میں سپریم کمانڈ پوسٹ قائم کی جائے گی جہاں ریزرو پولیس، بی ڈی یو، لیڈیز پولیس، ڈی ایس بی، ایمبولینس، ریسکیو 1122،فائر بریگیڈ، واپڈا، سوئی گیس، ضلعی انتظامیہ کے اہلکار اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے افسران و اہلکار ہمہ وقت موجود رہیں گے
*سی سی پی او عباس احسن نے کہا ہے کہ محرم الحرام میں امن وامان کی قیام کو ممکن بنانے کیلئے گزشتہ ماہ سے جاری کاوشوں کے دوران پاک آرمی سمیت تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام ،تاجر رہنماوں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کے حکام سے خصوصی ملاقاتیں کی گئی ہیں جس کے دوران سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کیلئے اہم فیصلے گئے گئے، انہوں نے واضح کیا کہ کرونا ایس او پیز پر عمل درآمدکو بھی یقینی بنانے کی خاطر ضلعی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگز کئے گئے ہیں تاکہ جامع طریقہ کار وضع کیا جا سکے، انہوں نے مزید کہا ہے کہ جامع سکیورٹی پلان کے تحت محرم الحرام کے دوران دس ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کئے جائینگے جو سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، انہوں نے پرامن محرم کے حوالے سے کسی بھی مشکوک شخص یا کسی بھی مشکوک اشیاء کی موجودگی پر پولیس کنٹرول کو اطلاع دینے کی بھی اپیل کی ہے*
426 total views, no views today



