غیر سیاسی باتیں؛
بات دیر اور سوات کی نہی، بات ہے، حق اور ناحق کی۔
بات سماجی اور اقتصادی فائدے اور نقصان کی بھی نہی، بات ہے، پہچان کی، اور بات ہے، پورے تین ضلعوں کو پاکستان اور خیبر پختونخواہ کا حصہ تسلیم کرنے کی!
ورنہ!
*اگر ایک سائن بورڈ پر “بٹخلیہ” کا ذکر ہوسکتا ہے، تو “چکدرے” کا کیوں نہی؟
٭دس پندرہ کلومیٹر بعد شروع ہونے والے “سوات” کا نام لکھا جاسکتا ہے، تو ایک کلومیٹر پر شروع ہونے والے “دیر لور” کا کیوں نہی؟
٭ تقریباً دوسو کلومیٹر بعد آنے والے “چترال” کا ذکر ہوسکتا ہے۔ تو اُس سے پہلے آنے والے “دیر لور”، “دیراپر” اور “باجوڑ” کا کیوں نہی؟
٭ تقریباً ایک ہی فاصلے پر واقع حسین وادئ “کالام” اور “مالم جبّہ” کو مینشن کیا جاسکتا ہے۔ تو جنت نظیر “کُمراٹ” اور “شاہی”کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
٭ فیڈرل گورنمنٹ اور ہائ ویز آتھارٹی کے نقشے میں اگر “دیر لور”، “دیر اپر” اور “باجوڑ” کا ذکر نہی، تو صوبائ حکومت کہاں ہے؟
٭ صوبائ حکومت اگر باعث ہے، تو خود ضلعی حکومتیں اور مقامی بیوراکریسی کیا کررہی ہے؟
٭ سوات کے عوام کو اگر کوئ فکر نہی، تو دیر اور باجوڑ والے کہاں سوگۓ ہیں؟
٭ کیا ان تین ضلعوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دان، بشمولِ منتخب قیادت اگلی الیکشن کیلیۓ اسے بطور کُنڈا استعمال کرنے کا انتظار کر رہی ہے؟
٭ آخر یہ کون ہے، جو دن دیہاڑے اتنی بیباکی اور بے خوفی سے دیر، باجوڑ اور سوات کے عوام کے درمیان دیواریں کھڑی کرنے اور نفرتیں پھیلانے میں مصروف ہیں؟
٭ اگر ایسا ویساکُچھ نہی، تو پھر کیا پینٹ کے چندڈبے خریدنے کی سکت نہی، فیڈرل، صوبائ اور ضلعی حکومتوں میں؟
٭ اگر بات یہ بھی نہی، تو ملاکنڈ ڈویژن بشمول سوات کے عوام کا یہ متفقہ مطالبہ ہے، کہ اس معمولی سے مسلۓ کو فی الفور حل کیا جاۓ۔ اس سے پہلے کہ ملک دُشمن اور خود غرض لوگ اس سے فائدہ اُٹھا کر اس پُرامن اور حسین ڈویژن کی سکون کو برباد کرنے میں کامیاب ہوجائیں!۔
1,131 total views, no views today



