سوات کو روئے زمین پر جنت کا ٹکڑا س لیے کہا جاتاہے کہ قدرت نے اس خطہ کو بے پناہ حسن دیاہے۔ یہ علاقہ ہر موسم میں اپنا ایک الگ روپ رکھتاہے۔ موسم سرما میں برف باری سے وادئ سوات کے پہاڑی علاقے سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں جس کے باعث اس علاقہ کے حسین مناظر مزید نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔
موسم سرماکی پہلی برف باری نے سوات کے متعدد علاقے ملم جبہ، مرغزار، مدین، بحرین اور کالام کے علاقوں میں گویا دھنک کے رنگ بکھیر دیئے ہیں۔ ان قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے لیے مقامی اور غیر مقامی لوگوں نے ایک ساتھ جنت نظیر وادی سوات کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ یہاں برف باری کے موقع پر سیاح خوب مستی کرتے ہیں اور سیر وتفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان سیاحتی علاقوں میں سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے چالیس کلومیٹر دور ملم جبہ کا علاقہ بھی شامل ہے جوسطح سمندر سے آٹھ ہزار سے زاید کی بلندی پرواقع ہے۔ ہر سال یہاں پر جنوری سے لے کر اپریل تک برف پڑی رہتی ہے۔
ملم جبہ تک جانے کے لیے پہاڑیوں کے درمیان سرسبز درختوں میں ہر بیس پچیس میٹر کے فاصلہ پر بل کھاتی سڑک پر گزر کر پہنچا جاسکتا ہے۔ ملم جبہ تک جانے کے لیے راستہ میں خوب صورت پہاڑی وادیاں نظرآتی ہیں جوکہ آج کل برف سے اٹی پڑی ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش ہے۔
ملم جبہ میں آسٹریاحکومت نے ایک بہترین ہوٹل اور چیئرلفٹ کا انتظام کر رکھا تھا۔ ہر سال یہاں برف باری میں سڑکوں کو برف سے باقاعدہ طور پر صاف بھی کیا جاتا تھا۔ یوں ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے تھے مگر سوات میں شورش کے دوران میں دہشت گردوں نے ہوٹل اور چیئر لفٹ دونوں کو تباہ کر دیا اور ملم جبہ کے جنگلات کو بھی کافی نقصان پہنچایا۔ اس کے باوجود سیاحوں کی آمدمیں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ اس سے یہاں کی خوب صورتی کا اندازہ بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ملم جبہ میں سیاحوں کے لیے جگہ جگہ چھوٹے ہوٹل اور ریسٹورنٹ موجود ہیں جن میں سیاح مقامی طورپر تیار شدہ کھانوں اور گرم گرم چائے سے لطف اندوز ہوا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملم جبہ میں اسکی کے مقابلے بھی ہرسال منعقد ہوتے ہیں جن میں ملک بھر سے مذکورہ کھیل کے ماہر کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ شاید قارئین کو علم نہ ہو مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ملم جبہ پورے پاکستان کا واحد سیاحتی مقام ہے جس پر اسکی کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔
ملم جبہ سال بھر سرد رہنے والا علاقہ ہے۔ گھنے جنگلات کی وجہ سے سیاح یہاں ڈیرے ڈال کر اپنے لیے کھانابھی بناتے ہیں اور قدرتی مناظرسے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح من چلے جگہ جگہ موسیقی کے ساتھ رقص کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملم جبہ شوبز کے لوگوں کے لیے بھی ایک پرکشش علاقہ ہے۔ یہاں پر کئی فلمیں اور سی ڈی ڈرامے بنائے جاچکے ہیں اور اب بھی بنائے جاتے ہیں۔
گرمیوں کے موسم خاص کر چھٹی کے دن ملم جبہ میں میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ یہاں خواتین سیاحوں کے لیے بھی پر کشش مقامات موجود ہیں جہاں وہ باپردہ اپنی فیملی کے ساتھ آزادی سے سیر و تفریح کرسکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ ملم جبہ کی سڑک کئی سالوں سے خراب ہے اور سیاحوں کو اس سے کافی مشکلا ت کاسامنا کرناپڑتاہے۔ اگر حکومت سڑکوں کی مرمت اور تعمیر پر توجہ دے، تو سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا اور اس سے علاقہ میں اقتصادی بہتری آئے گی۔
ملم جبہ میں فائیواسٹار ہوٹل اور چیئر لفٹ کی تعمیر کا اعلان پچھلے سال خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کیا تھا، مگر تاحال اس پر کسی قسم کا عملی کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ اگر ملم جبہ میں چیئر لفٹ اور ہوٹل کی دوبارہ تعمیر ہوئی، تو یہ علاقہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقہ ملم جبہ مملکت خداد پاکستان کو اللہ تعالی کی طرف سے عنایت شدہ ایک خاص تحفہ ہے، مگر حکومت اس تحفہ سے خاطر خواہ فایدہ نہیں اٹھا رہی ہے۔ اگر اس کی ترقی اور میڈیا کے ذریعہ اس کی تشہیر پر توجہ دی جائے، تو صرف یہ ایک علاقہ حکومت کو سالانہ کروڑوں روپیہ سیاحت کی مد میں منافع دے سکتا ہے۔
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
757 total views, no views today


