سوات (سوات نیوز) سابق ضلع ناظم مردان، سابق ایم این اے اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حمایت اللہ خان مایار نے کہا ہے کہ سوات میں سیاحوں کو لوٹنے والے پے در پے واقعات ڈی پی او سوات دلاور بنگش کی نا اہلی ہے، سیاحوں کی جانب سے مدین ڈکیتی کی واردات میں گرفتار افراد کو بے گناہ قرار دینے کے باجوود پولیس نے ان پر بے تحاشہ تشدد کیا، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، آئی جی پی کی ہدایات کے باوجود ڈی پی او سوات نے بے گناہ طالب علموں کو حوالات میں بند رکھا، مولانا صوفی محمد، فضل اللہ کے بعد ڈی پی او سوات میں سیاحت کے دشمن بن گئے ہیں اس کی موجودگی میں سوات کے میں قتل و غارت اوررہزنی کا بازار گرم ہوگیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ9اگست کو لاہور سے پہلی مرتبہ کوسٹر میں سوات آنے والے سیاحوں کو تین نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اسلحہ کے نوک پر لوٹ لیا ان سے پانچ لاکھ روپے نقدی، نو موبائیل اور سونے کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے، سوات پولیس نے ضلع بھر میں ناکہ بندی شروع کردی اور مردان سے سوزوکی موٹر کار میں آئے ہوئے چار طالب علموں ہاشم، سید قادر، بخت رحمان اور وقاص کو گرفتار کرلیا اور ایک کیپ چاروں کو باری باری پہنا کر تصویریں اتاری گئی اور مشہور کیا گیا کہ پولیس نے ڈکیتی کے ملزمان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا، تاہم سیاحوں کے سامنے آنے پر سیاحوں نے چاروں طالب علموں کو پہچانے سے انکار کرکے بے گناہ قرار دے دیا، لیکن ڈی پی او سوات چونکہ وزیراعلیٰ سے شاباش لے چکے تھے اس وجہ سے بے گناہ طالب علموں کو حوالات میں مسلسل بند رکھا، کبل پولیس اور بعد ازاں مدین پولیس تھانوں میں انہیں بے تحاشہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن ان سے چوری شدہ اشیاء میں کچھ بھی برآمد نہیں ہوسکا، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان، اسد قیصر، آئی جی پی کی ہدایت کے باوجود ڈی پی او سوات کے بے گناہ نوجوانوں کو عدالت مین پیش کرنے پر پر بضد تھے، انہوں نے کہا کہ ڈی پی او سوات کے وزیراعلیٰ محمود خان اور ان کے بھائی احمد خان کے ایما ء پر بادشاہ بنے ہوئے ہیں، انہوں نے الزام لگایا کے ڈی پی او سوات میں سیاحت کو ناکام بنانے کے لئے مری کے ہوٹلوں سے رقم وصول کرچکے ہیں، لہذا اس کرپٹ اور نا اہل ڈی پی او کو سوات سے تبدیل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم پر طالب علموں کا میڈیکل معائنہ کیا گیا جس میں تشدد ثابت ہوگیا ہے جو ظلم کی انتہا ہے، اس موقع پر پی ایس طفیل، شیر زمان خان اکاخیل، زر بادشاہ ایڈوکیٹ، جاوید خان اور مردان کے دیگر معززین بھی موجود تھے۔
1,086 total views, no views today



