چند ماہ قبل جامبل میں فوتگی ہوئی تھی۔ فاتحہ خوانی کے لیے جانا ضروری تھا۔ حاجی بابا روڈ سے گزر کر پانڑ کراس کرکے جس روڈ سے میں گزر رہا تھا، وہ روڈ کی بہ جائے گویا کوئی ’’خوڑ‘‘ تھا۔ گاڑی کے پچھلے ٹایر ایک کھڈے سے ابھی نکلے ہی ہوتے، کہ دوسرا کھڈا اگلے ٹایرز کا منتظر رہتا۔ خدا خدا کرکے چند گھنٹوں میں گاڑی کا خانہ خراب کرکے جامبل پہنچا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں نے مینگورہ سے جامبل تک کا نہیں بلکہ ملک کے آخری کونے کا سفر کیا ہو۔ دعائے مغفرت کے بعد واپسی میں بھی اولذکر صورت حال کا سامنا رہا۔ یوں بہ مشکل شام کو واپس اپنے دفتر پہنچا۔ نتیجتاً کوکارئی، جامبل کی انتہائی خستہ حال سڑک کی صورت حال دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ مذکورہ روڈ پر اس وقت تک سفر نہیں کروں گا، جب تک اس کی تعمیر مکمل نہ ہو۔ اس دوران میں میرے قریبی دوست طاہر خان کے چچا زاد بھائی اور پھر ماموں کا انتقال ہوا لیکن خراب روڈ کی وجہ سے میں دونوں کی فاتحہ خوانی کے لیے نہیں گیا۔ پھر اخبارات میں پڑھا کہ یہ روڈ جتنے بھی علاقوں کو ملاتی ہے، ان کے باسیوں نے روڈ کو ٹھیک کرنے کے حق میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔ میں جس اخبار کے لیے کام کرتا ہوں اس سمیت تمام اخبارات نے مذکورہ خبر کو اچھی کوریج دی۔ خبر کی اشاعت کے بعد علاقہ کے ایم پی اے سرگرم ہوگئے۔ کچھ دن بعد انھوں نے اخبارات کے ذریعے اعلان کیا کہ انھوں نے اور صوبائی حکومت نے پانڑ سے کلیل کنڈو تک سڑک کی منظوری دے دی ہے اور اس کے لیے فنڈ بھی جاری کردیا۔ ایم پی اے صاحب کے بیان کے مطابق چند روز میں اس روڈ کی تعمیر پر کام شروع ہو جائے گا۔ یہ خوش خبری سن کر واقعی پانڑ سے کلیل کنڈو تک کے تمام علاقوں کے لوگ خوش ہوئے ہوں گے۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد ضرور دی ہوگی۔ میں بھی خوش تھا کہ اگر اب کو کارئ اور جامبل میں کوئی غم یا خوشی کا موقعہ آیا، تو میں تعمیر شدہ روڈ پر آسانی سے ایک آرام دہ سفر کر سکوں گا۔ ’’منصف سرکار‘‘ تو جھوٹ بولتی نہیں اور جو وعدہ کرتی ہے اس کو پورا بھی کرتی ہے۔ ان بیانات کو پڑھ کر میں بھی خوش ہوگیا۔ چند ماہ بعد مجھے ساتھیوں سمیت پرونہ جامبل جانا ہوا۔ ہم خوشی خوشی مینگورہ سے نکلے۔ اب کی بار یہ میری خوش فہمی تھی کہ جاتے وقت گھنٹوں پر محیط سفر ہوگا اور نہ گاڑی ہی خراب ہوگی۔ پانڑ میں فارسٹ چیک پوسٹ کراس کرکے آگے ایک بورڈ لگا تھا، ’’مینگورہ، جامبل موٹروے میں خوش آمدید۔‘‘ ہم جامبل موٹروے میں داخل ہوئے، تو ہم نے غیر یقینی صورت حال دیکھی۔ میں مردان سے اسلام آباد اور وہاں سے لاہور تک موٹروے پر گیا ہوں، جہاں تین ٹریک ہوا کرتے ہیں جب کہ جامبل موٹر وے پر تین کی بجائے چار ٹریک تھے۔ پانڑ جامبل، کوکاری روڈ کو اتنا کشادہ کیا گیا تھا کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں پاکستان میں ہوں یا یوروپ میں۔ میں نے یوروپ میں بھی اتنا کشادہ موٹر وے نہیں دیکھا ہے جتنا میں نے پانڑ جامبل روڈ پر دیکھا۔ دنگرام کراس کرکے اس موٹر وے پر ایک پکنک پواینٹ بنایا گیا تھا، جہاں پر ٹک شاپ میں، مَیں اور میرے دوستوں نے کافی نوش جاں فرمائی۔ تھوڑا سا آگے ریسٹ ایریا آیا، جہاں ہم نے پٹرول ڈالا۔ سی این جی بھری۔ نماز ادا کی۔ شاپ سے کچھ جوس خریدا ۔ وہاں سے آگے نکلے، تو اس موٹر وے پر سفر جاری رکھا۔ مردان لاہور موٹر وے پر دونوں اطراف لگائے گئے جنگلے تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں لیکن جامبل موٹر وے پر لگے جنگلے بہتر حالت میں تھے اور ان میں کسی جانور کا جامبل موٹر وے میں گھسنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ مینگورہ سے جامبل تک کا فاصلہ ہم نے پندرہ منٹ میں مکمل کیا۔ سفر کے ساتھ حسین نظارے بھی دیکھے۔ جامبل پہنچ کر دوست کے ساتھ حجرہ میں بیٹھ کر گپ شپ لگائی۔ ہم نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا لیکن ان کی ضد تھی کہ ڈنر ہم اُن کے ساتھ ہی کریں گے۔ دوست کا کہنا تھا کہ اب تو موٹر وے بن گیا ہے۔ آنے جانے میں کوئی دشواری نہیں، ڈنر کرکے آپ اس پر آسانی کے ساتھ پندرہ منٹ میں منگورہ پہنچ جائیں گے۔ یہ سن کر ہم نے بھی کھانا کھانے کی ٹھان لی۔ رات آٹھ بجے کھانا آیا۔ دوست نے ہمیں دنبے کا گوشت کھلایا۔ قہوہ پینے کے بعد جب ہم جامبل سے واپس مذکورہ موٹر وے پر نکلے، تو میں نے عجیب نظارہ دیکھا کہ ہماری صوبائی حکومت نے پانڑ؍ جامبیل موٹر وے پر اسٹریٹ لایٹس کا انتظام بھی کیا ہوا ہے۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ مردان سے لاہور تک موٹر وے پر صر ف پلوں پر اسٹریٹ لایٹس ہیں لیکن یہاں تو پورے موٹر وے پر اسٹریٹس لایٹس کا بندوبست کیا گیا ہے جس میں گاڑی کی ہیڈ لایٹس کی ضروت بھی کم پڑتی ہے۔ ہم رات کو جامبل سے مینگورہ تک سولہ منٹ میں آرام دہ سفر کے بعد پہنچ گئے۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ آپ لوگ ہمیشہ ہماری صوبائی حکومت کے خلاف شکایتوں کے انبار لگاتے ہیں اور اب اس پانڑ جامبل روڈ جس کو ہم ’’آثار قدیمہ‘‘ کے نام سے یاد کرتے تھے، اب اس موٹر وے بننے کے بعد اگر کسی نے بھی صوبائی حکومت کے خلاف بات کی، تو میں اُن سے ناطہ توڑ دوں گا۔ تمام دوستوں نے مجھ سے اتفاق کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنا وعدہ پورا کرکے جس طرح پانڑ سے جامبل، کلیل کنڈو تک موٹروے تعمیر کیا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ’’انصاف‘‘ کی حکومت کوکڑئ سے مرغ زار، سالنڈہ سے ملم جبہ، بحرین سے کالام، ملاکنڈ سے مینگورہ اور باقی تمام سڑکوں کو بھی اس طرح موٹروے کے طرز پر تعمیر کرے گی، جس کے بعد سوات کے عوام موجودہ حکومت کے کارناموں اور سوات کے لیے بے لوث خدمت کو سنہری الفاظ میں لکھیں گے اور اپنے ممبران اسمبلی کے لیے ہمیشہ دعا گو رہنے کے ساتھ ساتھ آیندہ بھی اس منصب پر ان اراکین اسمبلی کو پہنچائیں گے۔ کیوں کہ وہ کا م جو والئی سوا ت کے بعد کسی نے نہیں کیے وہ موجودہ حکومت نے کر دکھائے۔ باقی کام تو رکھ چھوڑیں، پانڑ سے جامبل اور کلیل کنڈو تک موٹروے بنانے پر ہم اہل سوات اپنی حکومت کے بے حد ممنون ہیں۔
جاتے جاتے میں سوات کے عوام سے گزارش کروں گا کہ وہ پانڑ سے جامبل اور کلیل کنڈو تک اس عظیم موٹرو ے پر ایک دفعہ سفر ضرور کرلیں۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی
878 total views, no views today


