ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیکر روزگار کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ایم اے پاس نوجوان درجہ چہارم میں بھی بھرتی ہونا چاہتے ہیں تا کہ انکے گھر والے بھوک اور فاقوں کا شکار نہ ہوں ملک میں دہشت گردی،بدامنی،بدعنوانی کا بازار گرم ہے ایسا نظام نافذ کیا گیا ہے جس میں طاقتور کے لئے تمام آسائشات اور سہولتیں ہیں جبکہ غریب عوام کے لئے کچھ نہیں رکھا ظلم و جبر پر مبنی اس نظام کو ختم ہونا چاہیئے اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی،لا قانونیت،بے روزگاری ،مہنگائی،لوڈشیڈنگ اور کرپشن و بد عنوانی ہیں چند فی صد اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ پورے ملک کے وسائل پر قبضہ کررکھا ہے اور عوامی وسائل کو بے دردی کے ساتھ لوٹا جارہا ہے۔ عام آدمی بے روزگاری ،مہنگائی،لوڈشیڈنگ اور کرپشن و بد عنوانی کی وجہ سے اپنے حقوق سے مکمل طور پر محروم ہے اور اس کا بری طرح استحصال کیا جارہا ہے۔ لوگ انصاف کے لئے عدالتوں میں دھکے کھارہے ہیں مگر افسوس اپنی عیاشی کے نشے میں دھت حکمرانوں کو اس سے کوئی سروکا ر ہی نہیں انہیں بس اپنی جیبیں گرم کرنے میں دلچسپی ہے، انتہائی افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ قائد نے جس مقصد کیلئے ملک حاصل کیا تھا ہم اس مقصد کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔۔
افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اس وقت ملک جن بحرانوں کا شکار ہے اور عوام جن حالات سے دوچار ہیں ان سے نکلنے کے لئے ایسی مخلص قیادت کی ضرورت ہے جو نہ صرف وژن رکھتی ہو بلکہ امانت و دیانت کے حوالے سے بھی اپنی مثال آپ ہو۔ ملک پر جو قیادت مسلط ہے اس کے بینک بیلنس ،کاروبار اور اہلِ خانہ بیرون ملک ہیں جبکہ وہ محض اقتدار کے جھولے جھولنے کے لئے پاکستان میں موجود ہیں ۔ حکمران خوف خدا سے عاری ہیں عوام بھوک و افلاس سے مررہے ہیں لوڈ شیڈنگ نے معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ہے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لیکر معیشت کو سہارا دینے کے نام پر اللے تللے کئے جارہے ہیں اور قوم کو مزید مقروض کیا جارہا ہے۔ 2013 ء کے الیکشن میں عوامی مینڈیٹ چوری کرکے عوام کی توہین کی گئی۔ لوٹ کھسوٹ اور استحصال پر مبنی نظام کا خاتمہ کئے بغیر ملک میں تبدیلی نہیں آسکتی حقیقی تبدیلی صرف اور صرف عوامی بیداری سے ہی ممکن ہے۔
بحیثیت قوم اگرہم اپنی ذمہ داری کوذمہ داری سمجھے تودعوے کی ساتھ کہتاہوں کہ ایک نہ ایک دن ایساآئے گاجب ہرطرف امن ،ترقی وخوشحالی کابول بالاہوگااوراہم ایک خوداروخودمختارقوم کے حیثیت سے شمارہوں گے ،بیرون ممالک سے لوگ یہاں روزگاراورتجارت کیلئے آئینگے اورہمار ا پیاراپاکستان دنیاکیلئے رول ماڈل بن جائیگا۔
خدا کرے کہ میرے ارض پاک پہ اُترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
714 total views, no views today


