تحریر خورشید علی
ہم تقریبا بارہ گھنٹے کے مسلسل سفر کےبعد تھکے ہوئے رات بارہ بجے کے قریب نیلم ویلی کے حسین ترین علاقہ شاہدرہ پہنچے تھے، ابھی کھانے کی تیاریاں کررہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا ،اور اسکے بعد افراتفری مچ گئے ، یہ چونکہ ہمارا پہلا ٹرف تھا ازاد کشمیر کی طرف اس لئے ہم حالات کا صحیح اندازہ نہ کرسکیں اور جس کو جہاں محفوط جگہ نظر ائی وہ وہاں بھاگ کھڑا ہوا، دھماکہ کے ابھی چند ہی سیکنڈ ہوئے تھے کہ دوسرا زور دار دھماکہ ہوا اور ساتھ میں ہوٹل کے مینجر کی چیخ سنائی دی کہ انڈیا نے حملہ کردیا ہے ، وہ سیاحوں کو زور زورسے بول رہے تھے کہ وادی کیل کی جانب بھاگ جاوں وہاں پر کچھ نہیں ہے

ہوٹل منیجر کے ان چیخوں سے پتہ چلا کہ یہ علاقہ لائن اف کنٹرول کے بلکل قریب واقع ہے اور انڈیا کی جانب سے مارٹر گولے فائرکئے گئے ہیں ۔ ہمارے گروپ میں مجھ سمیت پانچ افراد تھے جن میں شیرین زادہ ، وقار سواتی، ساجد خان اور فضل ربی پختونیار شامل تھے۔ فضل ربی پختونیار کو بارود کی بومحسوس ہورہی تھی انہوں نے کہا کہ ایسا لگتاہے کہ سامنے پہاڑ پر مارٹر گولہ لگا ہو، بہرحال ایک گھنٹہ کے بعدحالات کچھ نارمل ہوئے ، تو ہم اپنے کمرے میں واپس ائے ۔ اور کچھ کھائے بغیر سو گئے ، صبح چھ بجے کے قریب انکھ کھل گئی تو نماز پڑھی اور ناشتہ کیلئے باہر نکل ائے ، کیونکہ بھوک سارے دوستوں کو بہت زیادہ لگ رہی تھی ۔ ہوٹل سے باہر نکل ائے تو دریائے نیلم کا حسین نظارہ انکھوں کے سامنے تھا۔ وہ وادی نیلم جن کو بھارت والے دریاگنگا کہتے ہیں۔

دریائے نیلم کو لکڑی کے پل سے پار کیا اور دوسرے جانب ایک کچھے ہوٹل میں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے ، ساتھ میں بیٹھے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ رات کو کیا ہواتھا تومقامی لوگ کہنے لگےکہ کچھ چھ ماہ بعد انڈیا کی جانب سے رات کےوقت مارٹر گولے فائر کئے گئے جس سے متعدد گھر جل گئے ہیں اور کیجولٹی بھی ہوئی ہے ۔یہ سن کر اپنے سوات کے حالات یاد ائے جب رات کے وقت گولہ باری ہوتی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا تو کبھی کبھی وہ مارٹر گولے عام گھروں پر لگتے اور اس سے اموات اور گھر جل جاتے ۔ ناشتہ کرنے کے بعد ایک مقامی شخص نے ہزاروں سال پہلے شاہدرہ یونیورسٹی کے متعلق بتایا جو پندرہ بیس منٹ پیدل مسافت پر ایک پہاڑی پر کھنڈرات کی شکل میں موجود تھا شاہدرہ یونیورسٹی قدیم ترین یونیورسٹی تھی جس میں ہندو پورے پاک وہند سے تعلیم حاصل کرنے اتے تھے، یہ اسوقت کی ایک شاندار یونیورسٹی تھی ۔ اس یونیورسٹی کے ساتھ ہی ایک راستہ سرینگر کی جانب جاتا ہے مقامی گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ اس راستے سے سرینگر ، بھوٹان ، تبت اور دیگر ممالک سے لوگ تعلیم حاصل کرنے کیلئے شاہدرہ یونیورسٹی اتے تھے۔شاہدرہ یونیورسٹی دیکھنے کے دوران پاک فوج کے ایک کرنل سے ملاقات ہوئی تو ان سے رات کی فائرنگ کے حوالے سے بات چیت کی گئی تو تعارف کے بعد وہ کہنے لگا کہ میں سوات کے کشیدہ حالات میں وہاں رہا ہوں ، میں نے اور اپ نے وہ خراب ھالات دھماکے دیکھے ہیں ، اپ کو گبرانا نہیں چاہیے ، کرنل صاحب کہنے لگے کہ یہاں پر بارڈر میں اپ کے پختون مجاہدین کی قبریں موجود ہیں جن کو دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملتاہے کہ ان مجاہدوں نے بے سروسامانی میں کشمیر کے اس حصے کو ازاد کرنے کیلئے اپنی جان قربان کردیں ، تو ہم اس کی حفاظت کیلئے بھی اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرینگے ۔
شاہدرہ یونیورسٹی دیکھنے کے بعد ہم پہاڑی سے نیچے ائے ، دریائے نیلم کے پانی کو دیکھا وہاں تصویریں کھینچیں اور وہاں سے واپس روانہ ہوئے ۔
1,162 total views, no views today



