907 کنال اراضی پر مُشتمل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج کی بُنیاد 1952 میں اُس وقت کے علم دوست نواب جناب میاں گل جہانزیب خان نے رکھی۔ اس ادارے کو پورے ملاکنڈ ڈویژن کے اہلِ علم حضرات کی “مادرِ علمی” کی حیثیت حاصل ہے۔ کالج ھذا میں اس وقت FA, FSC کے علاوہ 18 شعبہ جات میں چارسالہ BS پروگرام انتہائی کامیابی کیساتھ چل رہا ہے۔ جہانزیب کالج میں اس وقت 8 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جن میں BS کے 4500 اور FA, FSC کے 3500 طلبہ شامل ہیں۔ BS کے کل طلبہ میں سے 600 خواتین طالبات ہیں جنہیں گھر پر باعزت طریقے سے 16 سالہ (BS) تک ایجوکیشن میُسر ہے۔ جہانزیب کالج کے پاس 65 بنگلے اور ایک بہترین اسٹیڈیم “گراسی گراونڈ” کے نام پر موجود ہے۔ کالج کے 65 بنگلوں میں صرف 22 بنگلوں میں پروفیسرز جبکہ بقیہ 43 پر ایڈمینیسٹریشن کے لوگ قابض ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جہانزیب کالج کے تمام 18 ڈیپارٹمنٹس میں ایک سمسٹر کی فیس صرف 2400 روپے ہے اور یوں ایک طالب العلم کے پورے 8 سمسٹر کی فیس اوسطاً 20 ہزار ہے۔ یہی کالج اپنے طلبہ کو سالانا 4 لاکھ روپے اسکالرشپس بھی دیتا ہے۔

اس کے برعکس یونیورسٹی آف سوات اسی جہانزیب کالج سے فی طالب العلم صرف امتحانات کی مد میں پورے BS کے 36 ہزار روپے چارج کرتی ہے۔ جہانزیب کالج نے تقریباً “فری آف کاسٹ” ایجوکیشن میں 1952 سے لیکر آج تک زندگی کے مختلف شعبوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ فارغ کئے ہیں جو مُلک و قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ جہانزیب کالج کے پڑوس میں حال ہی میں سوات یونیورسٹی بھی عمل میں آئی ہے اور بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہیں لیکن بقیہ یونیورسٹیوں کی طرح اس کے چارجز ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہیں اور یوں BS کے ایک طالب العلم کے آٹھ سمسٹر کا کُل خرچہ ڈھائی اور تین لاکھ کے درمیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کسی ایک غریب کا بچہ بھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کرسکتا جبکہ ڈویژن کے دیگر 45 کالجز کی طرح اس قابلِ قدر ادارے سے لاکھوں غُرباء کے بچے اعلیٰ اور معیاری تعلیم بغیر کسی مُشکل کے حاصل کرسکتا ہے۔ ان تمام خدمات کا صلہ تو یوں دینا چاہئے تھا کہ قومی سطح پر اس ادارے کو اعزازات سے نوازا جاتا لیکن بہت افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک عرصے سے اس ادارے کیخلاف سازشیں تیار ہوچکی ہے اور “خود مختاری” کے نام پر اس ادارے کو BOG یعنی بورڈ آف گورنر کے کنٹرول میں دینے کی کوششیں عروج پر ہے۔ BOG کے زیرِ انتظام جب کوئی ادارہ آتا یے تو وہ خدمات دینے والے ادارے کے بجائے “پیسہ بٹورنے” والا ادارہ بن جاتا ہے ، وہاں کم کمائی والے اور غریب کے بچے پر تعلیم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ ایسا ادارہ عموماً تین حوالوں سے حکومت کے اختیار سے نکل جاتا ہے۔ یعنی اکیڈیمیکلی، مالی لحاظ سے اور انتظامی لحاظ سے وہ ادارہ خودمختار بن جاتا ہے۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جنابِ وزیرِ اعلیٰ محمود خان صاحب کی ہدایات کی روشنی میں سیول سیکرٹریٹ میں 16 تاریخ کو صبح دس بجے ایک کمیٹی کی میٹنگ بُلائی ہے جسے جہانزیب کالج کو BOG کے زیرِ انتظام دینے کیلئے ایک ڈرافٹ بل بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس کمیٹی کے سارے ارکان بیوروکریسی اور یونیورسٹیز کے لوگ ہے۔ کالج پروفیسر برادری اور سوات کے عوام کے مُنتخب نمائندوں سے کسی کو بھی شامل نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے طلبہ، والدین، سیول سوسائیٹی اور کالج پروفیسر برادری میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ اگر مجوزہ قانون کے تحت جہانزیب کالج کی حیثیت کو چھیڑا گیا تو اس کے مندرجہ ذیل زہریلے اثرات مرتب ہونگے۔
1: جہانزیب میں تمام غریب عوام کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہونگے۔
2: اس کالج کے تمامہ اثاثہ جات کی مالیت جو اربوں میں ہے ، سرکاری اختیار سے نکل کر سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت ہونگے۔
3: اس اقدام کے منفی اثرات صوبے کے بقیہ 265 کالجز پر ہونگے اور BS کا کامیاب پروگرام متاثر ہوگا۔
4: طلبہ، والدین، سیول سوسائٹی اور صوبے کے 7ہزار پروفیسرز سراپا احتجاج ہونگے۔
5: جہانزیب کالج کے تمام 120 قابل اور تجربہ کار پروفسروں اور Ph.D ڈگری ہولڈر اسکالروں کو جو سیول سرونٹ ہیں کو اس ادارے سے ٹرانسفر کردیا جائگا۔
6: ایک طالب العلم سے BS کی فیس 2400 کی بجائے 40 ہزار فی سمسٹر لیا جائیگا۔
7: جہانزیب کالج کی تاریخی اہمیت ختم ہوجائیگی۔
8: یہ ادارہ خالص مُنافع کمانے والا ادارہ بن جائیگا۔
9: جہانزیب کالج پر BOG کا تجربہ آزمانے کے بعد صوبے کے دوسرے اداروں کو بھی تباہ و برباد کردیا جائیگا۔
لہٰذہ ہم حکومت سے پُرزور مُطالبہ کرتے ہیں کہ خُدارا گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج جیسے ادارے کو اپنے حال پر چھوڑئے تاکہ یہ غریب عوام کے بچوں کیلئے اپنی علمی اور تعلیمی خدمات جاری رکھے۔ بصورتِ دیگر اس کے بہت ہی خطرناک اثرات مرتب ہونگے
1: جہانزیب میں تمام غریب عوام کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہونگے۔
2: اس کالج کے تمامہ اثاثہ جات کی مالیت جو اربوں میں ہے ، سرکاری اختیار سے نکل کر سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت ہونگے۔
3: اس اقدام کے منفی اثرات صوبے کے بقیہ 265 کالجز پر ہونگے اور BS کا کامیاب پروگرام متاثر ہوگا۔
4: طلبہ، والدین، سیول سوسائٹی اور صوبے کے 7ہزار پروفیسرز سراپا احتجاج ہونگے۔
5: جہانزیب کالج کے تمام 120 قابل اور تجربہ کار پروفسروں اور Ph.D ڈگری ہولڈر اسکالروں کو جو سیول سرونٹ ہیں کو اس ادارے سے ٹرانسفر کردیا جائگا۔
6: ایک طالب العلم سے BS کی فیس 2400 کی بجائے 40 ہزار فی سمسٹر لیا جائیگا۔
7: جہانزیب کالج کی تاریخی اہمیت ختم ہوجائیگی۔
8: یہ ادارہ خالص مُنافع کمانے والا ادارہ بن جائیگا۔
9: جہانزیب کالج پر BOG کا تجربہ آزمانے کے بعد صوبے کے دوسرے اداروں کو بھی تباہ و برباد کردیا جائیگا۔
لہٰذہ ہم حکومت سے پُرزور مُطالبہ کرتے ہیں کہ خُدارا گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج جیسے ادارے کو اپنے حال پر چھوڑئے تاکہ یہ غریب عوام کے بچوں کیلئے اپنی علمی اور تعلیمی خدمات جاری رکھے۔ بصورتِ دیگر اس کے بہت ہی خطرناک اثرات مرتب ہونگے
1,137 total views, no views today
Comments



