کبل،صوبائی حکومت،ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی ملی بھگت،غیر قانونی اڈوں کے خاتمہ کی آڑ میں ٹرانسپورٹرز کا استحصال جاری ہے توتانوبانڈئی اڈہ ختم کرکے ٹرانسپورٹرز کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا گیا ہے جبکہ ٹریفک اہلکاروں نے بھی ظلم کی انتہا کردی ہے مالکان نے احتجاجی طور پر گاڑیاں کھڑی کر دئے جس کی وجہ سے سینکڑوں غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں عوام کو آمد ورفت میں مشکلات کی ذمہ دار ی بھی حکومت کے سر عائد ہوتی ہے درپیش مشکلات سے بار بار آگاہ کرنے کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اڈہ کے لئے منگورہ میں مناسب جگہ فراہم نہ کی گئی تو پہیہ جام ہڑتال کرینگے
ان خیالات کا اظہار ٹرانسپورٹ صدر بہادر خان اور نائب صدر مدثر خان نے توتانوبانڈئی میں ٹرانسپورٹرز کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ منگورہ میں واقع توتانوبانڈئی اڈہ کو بند کرنے کے بعد ارباب اختیار نے متبادل جگہ فراہم نہ کرکے ٹرانسپورٹرز کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے جبکہ ٹریفک اہلکارروں نے بھی بھاری بھر کم بلا جواز چالانوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے جو کہ بے روزگاری میں اضافہ اور غریب ٹرانسپورٹرز کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہیں انہوں نے کہا کہ پیمانہ صبر لبریز ہوکر مالکان نے احتجاجی طور پر گاڑیاں کھڑی کردئے ہیں جس کی وجہ سے بوڑھے،بچے اور خواتین پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت کے سر عائد ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ 19فروری کو ڈی پی او سوات کے ساتھ ہونے والے ملاقات تک میونسپل کمیٹی توتانوبانڈئی ٹرانسپورٹرز کو منگورہ میں مناسب جگہ فراہم کریں بصورت دیگر ٹرانسپورٹ کا پہیہ مکمل طور پر جام کردینگے انہوں نے ممبران اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ٹرانسپورٹرز اور عوام کو درپیش مشکلات کا نوٹس لے کر کارروائی کریں۔
317 total views, no views today


