تحریر : رفیع اللہ سوات
21 اگست 2020
ووٹونہ راغلل پہ پیسہ پختو ایمان خرسیگی
پخوا بہ جونہ خرسیدلے اوس زوانان خرسیگی
سوات میں ریاستی دور کے بعد جمہوریت کی آصل روح سے شناسائی دو آفراد کے مرھون منت ھے, ایک ھے مرحوم ڈاکٹر محبوب الرحمان (موجودہ ایم این اے سلیم الرحمان کے والد) اور دوسرا محمد علی خان ایڈوکیٹ… دونوں نے عوامی نمائندے کا بہترین کردار نبھایا ھے.

محمد علی خان انتہائی نفاست پسند, خوش گو اور پختون روایات سے محبت کرنے والے ایک شفیق شخصیت ھے, وہ میرے ماموں اسلام الدین کے دیرینہ دوست تھے.. ان کے رھنمائی کے بدولت خوازہ خیلہ پولیس سٹیشن میں مصالحاتی کونسل نے علاقے کے کثیر تعداد میں گھمبیر مسائل حل کئے ھیں, ان کے جرگے کیلئے مرتب اصول اور قواعد ھر ممبر کے زبان پر ھے, یہی وجہ ھے کہ مقامی معاملات اور آیشوز پر ان کے تبصرے کو ایک خاص عزت دی جاتی ھے,
چونکہ وہ جرگہ اور روایات, برادرانہ تقسیم اور قانون سے آشنا ھے تو ھر کوئی ان کو اپنا رازدار مانتا ھے,
ان کی سیاسی سوچ اور نظریاتی پختگی ان کے ھر عمل اور کردار سے جھلکتی ھے اور ریاستی دور کے بعد ان کی سیاسی شعور نے عوام میں جمہوریت کی محبت قائم کی ھے,,
8
پختونوں کی تاریخ پر گہری نظر رکھتے ھیں اور یہی وجہ ھے کہ وہ پختونوں کی اپنی عظیم روایات سے دوری پر خفہ ھوتے ھیں, نفرتوں سے شدید نفرت کرتےھیں اور دوستی اور “رورولی” سے محبت..
محمد علی خان شاعری سے خصوصی شغف رکھتے ھیں… ان کے ہاتھ کے لکھے ھوئے نظم کا عکس اس بلاگ کے ساتھ لف ھے..
محمد علی خان 14 جون 1950 کو پیدا ھوئے اور دعا ھے کہ آللہ تعالی ان کو لمبی عمر عطاء کریں. آمین
1,766 total views, no views today



