سوات، تبدیلی کے دعویداروں نے سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کو سینٹ ممبران میں نظرانداز کردیا، سب سے زیادہ نشستیں دینے والے ڈویژن سے کوئی بھی امیدوار نامز د نہ ہوسکا، ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے سینٹ ٹکٹ کیلئے سوات سمیت ملاکنڈڈویژن کے متعدد امیدواروں سے انٹرویو لئے ، جس میں سوات سے ایک اقلیت سمیت چھ امیدوارشامل تھے، امیدواروں میں متفقہ امیدوار اقبال محمود، عدالت خان، شیرافگن خان، محمود خان اور بلدیو کمار شامل تھے، اسی طرح ڈویژن کے دوسرے اضلاع سے بھی امیدواروں نے انٹرویو دیئے لیکن ان میں سے کسی بھی امیدوار کو سینٹ کا ٹکٹ نہ مل سکا،
اور پاکستان تحریک انصاف نے سوات سمیت ملاکنڈڈویژن کے حق کو پامال کرکے سینٹ کے ٹکٹ صوبے کے دوسرے اضلاع کے امیدواروں کو دیئے گئے ، اس فیصلے پر سوات میں انتہائی افسوس کیاجارہا ہے، جبکہ پی ٹی ائی کے کارکنوں میں فیصلے کیخلاف تشویش پائی جاتی ہے، سوات کے تمام سات تحصیلوں کے صدور نے مشترکہ طور پر اقبال محمود کو عام جبکہ بلدیو کمار کو اقلیت امیدوار کیلئے نامزد کیا تھا، لیکن سوات کے ممبران اسمبلی اور پی ٹی ائی ورکروں کے اس فیصلے کو بھی نظرا نداز کیا گیا۔
414 total views, no views today


