(پچھلی پوسٹ کی دوسری قسط۔۔۔ سپین خوڑ جھیل، کنڈول جھیل)
بقولِ مستنصر حسین تارڑ، “کسی بھی جھیل کا رستہ اگر آسان ہوتا تو وہ جھیل نہیں، پانی کا چھپر ہوتا۔”
جھیل جاتے ہوئے جتنے آلام جھیلنے پڑتے ہیں، خدا ہی بہتر جانے ہیں۔
بیشتر حضرات پوچھتے ہیں، آپ جاتے ہی کیوں ہیں؟
جواب ہے، “آپ کیوں نہیں جاتے ہیں؟” جاکر خود ہی کھوجئیے۔
معلومات کی خاطر سوال و جواب کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس کو آگے بڑھاتے ہیں۔

سوال: سپین خوڑ جھیل سے کنڈول جھیل کیسے جایا جائے؟
جواب: اگر آپ سپین خوڑ جھیل پہنچ چکے ہیں اور کنڈول جھیل جانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دو رستے ہیں۔
ایک راستہ شارٹ کٹ ہے مگر پیچیدہ ہے۔ دوسرا راستہ لمبا پڑتا ہے مگر قدرے آسان ہے۔
پہلا رستہ: سپین خوڑ جھیل سے دائیں بازو پر جو پہاڑی چوٹی نظر آتی ہے، اسی چوٹی تک پہنچنا ہوتا ہے۔ چوٹی تک پہنچنا آسان ہے۔ گلیشیئر اور چٹانوں کو عبور کرکے تقریباً ایک گھنٹے میں چوٹی تک پہنچا جاسکتا ہے۔ چوٹی سے دونوں جھیلوں کا دلکش نظارا آپ کو مسحور کردیگا۔ پینورامک ویو لے کر آپ دونوں کو بیک وقت کیپچر کر سکتے ہیں۔ اب چوٹی سے دائیں بازو پر کافی نیچے کنڈول جھیل آپ کا منتظر ہے۔ نیچے جانا آسان نہیں ہے۔ ایک کافی عمودی رستہ نیچے جاتا دکھائی دیتا ہے اور رستے کو دیکھتے ہوئے آپ کی ہمت نہیں پڑتی ہے کہ آپ اس رستے سے نیچے کی طرف اترے۔ جب ایک بار آپ نیچے اترنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو کافی خواری کرنی پڑتی ہے اور آپ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ کیا بے وقوفی ہم سے انجانے میں ہوئی ہے۔ بہر کیف اگر آپ کو ہائیٹ سِکنیس کا مسلہ ہے تو آپ یہ رستہ بالکل استعمال مت کریں۔ 75° پر اترنا آسان نہیں ہوتا۔ پیروں کی ہلکی سی لغزش آپ کو سیدھے سباؤ سات آٹھ سو میٹر نیچے کی طرف گرا سکتی ہے۔ چوٹی سے ڈھیر یا دو گھنٹوں میں آپ اتر کر کنڈول جھیل پہنچ پاتے ہیں۔

دوسرا رستہ: لدو گاؤں سے جس رستے آپ سپین خوڑ پہنچے ہیں اسی رستے سے واپسی کرکے لدو گاؤں پہنچ جائیں۔ کنڈول جھیل کی طرف سے بہتے تیز رو نالے کو عبور کریں اور دائیں سمت نالے کے ساتھ ساتھ اپنا رستہ ناپیں۔ یہ رستہ چڑھائی کی صورت میں ہے اور کافی تھکا دینے والا رستہ ہے مگر جان لیوا نہیں ہے۔ دوسرا رستہ اختیار کرتے ہوئے آپ کا بہت وقت ضائع ہوگا۔ تقریباً پانچ گھنٹے لگیں گے آپ کے۔ سپین خوڑ سے لدو گاؤں ڈھیر سے دو گھنٹے اور لدو سے کنڈول جھیل تین ساڑھے تین گھنٹے۔
سوال: اگر لدو گاؤں سے پہلے کنڈول جھیل جایا جائے اور پھر سپین خوڑ جھیل، کیسا رہیگا؟
جواب: بالکل جاسکتے ہیں۔ کنڈول جھیل پہنچ کر اور کچھ وقت گزار کر سپین خوڑ کے لیے روانہ ہوجائیں۔ سپین خوڑ سے کنڈول جانے کے لیے جن دو رستوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ وہی راستے آپ کنڈول سے سپین خوڑ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ پہلا رستہ اپناتے ہوئے آپ کو چوٹی پر پہنچنے کے لیے عمودی رستہ چڑھائی کی صورت اختیار کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں چڑھتے ہوئے یہ رستہ زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوگا۔ یاد رہے یہ میرا اندازہ ہی ہے، غلط بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
سوال: کنڈول اور سپین خوڑ، کون سی جھیل زیادہ خوبصورت ہے؟
جواب: جھیلیں دونوں کافی خوبصورت ہیں مگر سپین خوڑ کی خوبصورتی لاجواب ہے۔ اس کا رستہ لدو گاؤں سے کنڈول کے راستے کی نسبت قدرے آسان اور زیادہ خوبصورت ہے۔ راستے میں خوبصورت آبشار بھی آتی ہے جن کی تصاویر اپنی پہلی پوسٹ میں لگا چکا ہوں۔
زیادہ تر لوگ کنڈول جھیل ہی جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس جھیل کی شہرت زیادہ ہے اور یہ وادئ سوات کی دوسری یا تیسری بڑی جھیل گردانی جاتی ہے۔ سوات کی سب سے بڑی جھیل شیطان گوٹ ہے جو کہ وادئ کیدام (بحرین) میں ہے۔ دوسری بڑی جھیل کگہ ڈنڈہ یا کنڈول جھیل میں سے ایک ہے۔ کگہ ڈنڈہ جھیل، گاؤں سُلاتن مٹہ سوات سے سیدگئی جھیل کے ٹریک میں آتا ہے اور آج تک بہت کم لوگ کگہ ڈنڈ جھیل گئے ہیں۔ وجہ تسمیہ شاید یہ ہے کہ یہ جھیل سیدگئی سے کافی سائڈ پر ہے اور رستہ کافی لمبا اور پرخطر ہے۔
کنڈول جھیل شکل و صورت میں وادئ کاغان کی جھیل سیف الملوک سے مشابہت رکھتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ یہ جھیل سوات کی مشہور ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔

سوال: کیا سپین خوڑ اور کنڈول ایک دن میں کئے جاسکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں! اگر رات کالام یا اتروڑ میں گزاری جائے اور علی الصباح کالام یا اتروڑ سے گاڑی پکڑ کر لدو گاؤں پہنچیں تو دونوں جھیلیں دیکھ کر رات گئے کالام واپسی کر سکتے ہیں۔
سوال و جواب کا سلسلہ اگلی قسط تک کے لیے منقطع کرتے ہیں۔ زندگی نے وفا کی تو اگلی قسط ہر آن رنگ بدلتے دیسان میڈوز کی ہوگی۔ وادئ سوات کی یہ حسین ترین چراگاہ تقریباً بیس کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔
دعاؤں کا طالب
تحریر و عکاسی: خانہ بدوش

1,672 total views, no views today



