سوات ، ظلم کی انتہا 30سالہ شخص نے 8سالہ معصوم بچی کو اپنے ہوس کا نشانہ بنا ڈالا ، پولیس کے مطابق گزشتہ روز مینگورہ کے نواحی علاقہ علاقہ گلکدہ نمبر2میں علی ر حمن ولد سیف الرحمن نے جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے نے آٹھ سالہ کمسن بچی جس کانام گلائی ولد خانزادہ کو خالی مکان لے گیاجہاں پراسے درندگی کا نشانہ بنایا گیاجس سے معصوم لڑکی چلنے ،پھرنے کی قابل نہ رہی،جب بچی کے گھروالوں کو پتہ چلاتو تھانہ سیدو شریف میں ملزم کیخلاف مقدمہ درج کرلیا،جبکہ ملزم کو گزشتہ رات کو پولیس نے گرفتارکر لیا اور ملزم نے اقبال جرم قبول کر لیا، مقامی پولیس نے حسب روایت عام دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے ، جبکہ اس مقدمے میں انسداد دہشتگردی کے دفعات شامل کرنے چایہے تھی یہ بھی کھلی دہشتگردی ہے واضح رہے کہ سوات میں ایف ایم سننا اور بڑے لوگوں کے درختیں کاٹنا اس پر بھی انسداد ہشتگردی کے دفعات درج کئے گئے ہیں سوات میں اس سے پہلے خواتین میں خودکشیوں کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے جبکہ ماضی میں اسی علاقے کے خواتین کو سکولوں کے باہر اور بچیوں کو گاڑیوں کے اندر گولیاں مار کر قتل بھی کیا جا چکاہے ، سوات میں خواتین کے تحفظ کیلئے کوئی انتظامات موجود نہیں ، اسی لئے خواتین کے ساتھ ایک طویل عرصے سے گھناونے کھیل جاری ہے مختلف علاقوں میں کہیں خواتین کے ناک کاٹ دی جاتی ہے تو کہیں پر خواتین کو قتل کرکے دفنا دیا جاتا ہے جسکی خبر کسی کو نہیں ہو پاتی ، بچیوں کے ساتھ زیادتی کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی زیادتی کا شکار کرنے کے بعد قتل کے واقعات بھی موجود ہے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرف سے ایسے مجروموں کے ساتھ رعایت برت لی جاتی ہے جسکی وجہ سے ایسے جرائم پیشہ افراد کو مزید جرائم کرنے کا حوصلہ مل جاتا ہے اس وقت سوات میں نئے سرکاری پولیس افیسر کائنات ہوئے ہیں جو پورے تندہی سے کام کررہے ہیں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے واقعے کی نوعیت دیکھ کر اعلیٰ پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کی بہن ، ماں یا بیٹی کے ساتھ ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش نہ آسکے
752 total views, no views today


