18 فروری 2009 کوعیسیٰ خان جو کہ موسیٰ خان خیل شہید کے بھائی ہے نے شا م 6بجے کے قریب مجھے فون کیااور کہا کہ موسیٰ خانخیل کو شہید کردیا گیا ہے میں نے عیسیٰ خان سے پوچھا کہ یہ واقعہ کیسے اور کہا پیش آیا ہے اور کس نے کیا، تو عیسیٰ خان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم نہیں لیکن اطلاعات یہ ہے کہ میرے بھا ئی کو شہیدکر دیا گیا ہے ، 2009 کے شر وع میں اے این پی کے صوبائی حکومت اور طالبان کے مابین آمن مذاکرات کا پہلا دور کامیاب ہونے کے بعد 18فروری 2009 کو مولانا صوفی محمد پہلی دفعہ تمرگرہ دیر سے سوات آرہے تھے ، وہ ایک بہت بڑے جلوس کے شکل میں سوات پہنچ رہے تھے اس جلوس اور جلسے کو پوری میڈیا نے کور کرنا تھا اور تمام چینلوں کے ڈی ایس این جی آئے ہوئے تھے ،ہمارے ایکسپریس نیوز کے 2ڈی ایس این جیزبھی اس جلو س اور جلسے کور کرنے کیلئے مو جو د تھی ، یہ ایونٹ اس لئے بہت اہم تھا کہ سوات میں 2007 سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ہونے جارہا تھا اور اے این پی کے صوبائی حکومت کو یہ امید تھی کہ مولانا صوفی محمد اور طالبات کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوجا ئیں گے ، اس موقع پر تمام چینلوں کے اینکر پرسن کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے بھی اس میں دلچسپی لے رہے تھے ،
اس جلوس کو کو ر کر نے کیلئے ایک ڈی ایس این جی کے ساتھ میں مینگورہ میں مو جود تھا جبکہ پشاور سے آئے ایکسپریس نیوز کے رپورٹر اسلام الدین ساجد تمر گراہ میں مو جود تھے ،ہم دنو ں نے اس جلو س کو لا ئیو کو ر کیا ، دوپہر ایک بجے کے قریب مولانا صوفی محمد اور ان کی کانوائی مینگورہ گراسی گراؤنڈ پہنچ گئے اور دوپہر کے نماز پڑ نے کے بعدجلوس مٹہ کے طرف روانہ ہوگیا، تو ایسے میں مجھے موسیٰ خانخیل شہید کا فون آیا اور انکا کہنا تھا کہ میں اپ کے ساتھ مولانا صوفی محمد کا جلسہ کور کرنے کیلئے مٹہ جاونگا ،میں نے جواب دیا کہ میں ادر مینگورہ میں ڈی ایس این جی کے ساتھ ہواور مٹہ کا جلسہ کور کرنے کیلئے اسلام الدین ساجد ڈی ایس این جی کے ساتھ جائے گا کیونکہ ایک ڈی سی این جی مینگورہ میں اور دوسری ڈی سی این جی مٹہ کوریج کر ینگے ، موسی ٰ خان نے کہا کہ چلو ٹھیک میں اکیلا ہی چلا جاؤنگا، میں نے مو سی خا ن خیل کو احتیات اپنا خیا ل رکھنے کو کہا کہ سوات میں اج کل حا لات بہت خرا ب امن کی بحا لی کیلئے تو کو شش ہو رہی ہے لیکن ان دنو ں حکو متی رٹ بالکل نہ ہو نے کی برابر تھی۔
موسی خان خیل شہید سوات کشید گی سے پہلے بھی ہم نے اکٹھے روز نا مہ سلا م میں کام کیا تھا اور جب حا لت خراب ہو ئے تو ہم دو نو سا تھ اکثر جایا کرتے تھے ،کئی دفعہ ہم بہت ہی خطرانا ک مو قعو ں پر اکھٹے رہے جس میں گن شپ ہلی کا فترو ں کی شلینگ ہو یا ما رٹر گو لو ں کی گڑگڑا ہٹ ہو وہ میرے سا تھ تھے،
موسیٰ خان مٹہ پہنچ گیا اور مو لا نا صو فی محمد کے جلسے کو کور کیا کہ خریڑئی کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے موسیٰ خان کو شہید کردیا ، موسی خان ہمیشہ کی طرح یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو کچھ ایکسکلو سیو ں فو ٹیج اور سٹوری مل جائے ، وہ ایک ایسا صحافی تھا کہ ساری رات جھاگ کر خبروں کے تلا ش میں رہتا تھا ، کئی دفعہ ان کے ساتھ میرا جھگڑا بھی ہوجاتاتھا کہ رات سونے کیلئے ہے نہ کہ جھاگنے کیلئے ، موسیٰ خان نے عملی صحافت 2000 میں اس وقت شروع کی جب میرے استاد اور بھائی علی حضرت باچا سوات شیفٹ ہوگئے وہ مشرق کے بیورچیف بنے علی حضرت با چا نے بعد میں سوات سے روزنامہ سلام سوات کو شروع کردیا ، میں بھی روزنامہ سلام میں بحیثیت چیف رپورٹر کام کرتا رہا موسیٰ خانخیل بھی ہمارے ساتھ تھے اور ہم اکٹھے رپورٹنگ کرتے تھے ، موسیٰ خان خیل انتہائی شریف اور مہمانواز قسم کے انسان تھے اسکے جیب میں اگر پیسہ بھی نہیں ہوتا تو تب بھی وہ اپ کو چائے اور کھانہ کھلا ئے بغیر نہیں جانے نہیں دیتا ۔
علی حضرت باچا جو کہ صحافت میں میرے استاد ہے اور انہو ں نے مجھے صحا فت کے میدان میں لیکر آئے تھے اسی طرح موسیٰ کو بھی انہوں نے دریافت کیا تھا ، موسیٰ خانخیل کے بارے میں علی حضرت باچا کا کہنا ہے کہ موسیٰ ایک نڈر اور علاقے کا خدمت کرنے والا انسان تھے وہ خبر کے پیچھے دور دور تک اور حقیقت معلوم کرنے کا گر بھی جانتے تھے ، باچا کا کہنا تھا کہ تین ، چار سال تک اس نے میرے ساتھ کام کیا جو کہ بہت ہی اچھا وقت ان کے ساتھ گزرا ، وہ کافی محنتی اور خد مت کرنے والا انسان تھے میرے دعا ہے کہ اللہ موسیٰ خانخیل شہید کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور انکے درجات بلند کریں امین۔
ہم اج بھی موسیٰ کو اچھے کاموں کے حوالے سے یاد کرتے ہیں ، موسی خانخیل نے 1981کو سوات میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 3 سے حاصل کی جبکہ جہانزیب کالج کے بھی سٹوڈنٹ رہے، 2006میں سوات کے سینئر صحافی افتخار خان کے وفات کے بعد موسیٰ خانخیل جیو میں بحیثیت رپورٹر مقرر کئے گئے ، اس وقت صحافت کے حوالے سے ان کا تجربہ اتنا نہیں تھا لیکن اسکے باوجود انہو ں نے جیو میں اپنا ایک مقام بنا لیا ،موسیٰ خان خیل کو ہم سے بچھڑے ہوئے چھ سال بیت گئے 18 فروری کو موسیٰ خانخیل کا چھٹی برسی منائے جارہے ہی ، صحافت کے علاوہ موسیٰ خانخیل کی سوات میں امن امان کی بحالی میں کردار کو بھی یاد رکھا جائیگا ، سوات کشید گی کے دوران صحافت کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن موسی خانخیل نے جان کا نذرانہ دیکر سوات میں امن امان کی بحالی کیلئے اپنے اپکو امر کردیا ،
سوات کشد گی کے دوران مو سی خا ن خیل کے علا وہ میری بہن بھی شہید ہو گئی تھی میں اج بھی جب اپنی بہن کو یا کر تا ہو تو دل خون کی انسو رو تا ہے ۔اسی طرح قا ری شعیب ، عبد اعزیز اور مینگو رہ میں ڈی اس پی جا وید اقبال کے جنا زے پر ہو نے والے خود کش حملے میں غلا م فا روق کے بھا ئی اور سینئر صحا فی سراج الدین بھی شہید ہو گئے تھے
880 total views, no views today


