مینگورہ ضلع سوات کا وہ مرکزی شہر ہے جس نے ریاستی دور سے لے اب تک بہت سے ادوار دیکھے ہیں مگر زہے نصیب کہ اس شہر کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کسی بھی حکومت یا ذمہ داروں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی البتہ اسے ماڈل اورمثالی شہر بنانے کے دعوے ہر دورمیں ہوئے مگر وہ صرف دعوے رہیں انہیں عملی جامہ نہیں پہنایاگیا،اس شہر کے اندر ریاستی دور میں چندگاڑیوں کیلئے بنائی گئی سڑکوں پر آج ہزاروں لاکھوں گاڑیاں نظرآرہی ہیں مگر یہاں کی سڑکوں کووسیع اورکشادہ بنانے کیلئے بھی صرف وعدے اوردعوے ہوئے اس ضمن میں تاحال کسی قسم کا عملی اقدام سامنے نہیں آیایہی وجہ ہے کہ شہر کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہواجس کے سبب اس شہر کے مکین کافی پریشان ہیں،شہرمینگورہ کو درپیش مسائل کی فہرست تو کافی لمبی چوڑی ہے تاہم یہاں پر چندچیدہ چیدہ ، بڑے بڑے اورفوری حل طلب مسائل کا تذکرہ کرنے کی جسارت کی جائے گی،پہلامسئلہ ناقص سیوریج سسٹم کا ہے جو اس قدرتباہ حال ہے کہ معمولی بارش کے وقت سارا پانی ندی نالوں سے نکل کرسڑکوں اورگلی کوچوں میں بہتا نظر آرہاہے جوگاہے گاہے مکانوں اوردکانوں میں داخل ہوکر نقصان کاسبب بن جاتاہے سیوریج کے ساتھ ساتھ ٹوٹی پھوٹی اورکھنڈرنماسڑکیں ہیں جو مسائل بڑھانے میں اہم کرداراداکررہی ہیں،اسی طرح کارپارکنگ کا مسئلہ ہے چونکہ شہرمیں گاڑیوں کی تعدادانتہائی زیادہ ہے جن میں نان کسٹم پیڈ،چوری اورکٹ گاڑیاں بھی شامل ہیں جو اس وقت شہر کی تنگ ،غیرکشادہ اوربدحال سڑکوں پر نظرآرہی ہیں مگر انہیں پارک کرنے کاکوئی انتظام موجودنہیں یہی وجہ ہے کہ ڈرائیورجہاں بالشت بھر جگہ دیکھتے ہیں وہاں گاڑی کھڑی کرتے ہیں جس کے سبب ٹریفک مسائل میں مزید اضافہ ہورہاہے ،اس کے علاوہ سب سے بڑامسئلہ ناجائز تجاوزات کا ہے ،شہر کے بازاروں میں دیکھا جائے تو شائد کوئی بازارایسانظر آئے جہاں تجاوزات کی بھرما رنہ ہو جن میں ہتھ ریڑھیاں،سڑکوں کے اطراف میں لگائے گئے لنڈہ بازار،چھابڑیاں اوردکانوں کے تھڑوں پر لگائے گئے سازوسامان شامل ہیں اوریہ سب نہ صرف ٹریفک کی راہ میں بڑی رکاؤٹ ہیں بلکہ پیدل چلنے والوں کی مشکلات میں اضافے کے اسباب بھی ہیں جبکہ ساتھ ساتھ شہر میں صفائی ستھرائی کانظام دیکھا جائے توآدمی کواس پر اب افسوس نہیں بلکہ متعلقہ حکام پر غصہ آتا ہے،مینگورہ کے شہریوں کو میونسپل سروسزفراہم کرنے کیلئے تھانہ مینگورہ کے بغل میں میونسپل کمیٹی کا ایک دفترموجود ہے جو شائد ریاستی دورسے قائم ہے، ہوسکتا ہے کہ اس دورمیں یہ ادارہ اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے اداکرتاہومگراس دورکے بعدیہ ادارہ مردہ گھوڑابن چکاہے تاہم اس میں مختلف منصبوں پر ذمہ داریاں نبھانے والے افرادکیلئے یہ ادارہ اب بھی سونے کی چڑیاں کی حیثیت رکھتاہے ،یہی سے ٹھیکداری سسٹم کو فروغ ملتاہے اوریہاں سے لوگوں پر نت نئے ٹیکس لاگوکئے جاتے ہیں،بلدیہ کی یہ بلڈنگ بہت بڑے احاطے میں قائم ہے جہاں پر بے شمار دفاترموجود ہیں جبکہ اس ادارے میں بیک وقت سینکڑوں افرادکام کررہے ہیں یہ الگ بات کہ ان افرادمیں صرف خاکروب ایک ایساطبقہ ہے جو اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن اداکررہاہے ،باقی اللہ اللہ خیرسلا،مینگورہ شہر کے اندرموجود محلوں کو دیکھا جائے تو وہاں پربھی یہی مسائل نظرآئیں گے ،سڑکوں پرگاڑیوں کی بہتات کی وجہ سے بیشتر ڈرائیورں نے گاڑیوں کا رخ محلوں کی طرف موڑدیاہے بلکہ زیادہ ترڈرائیورتو شہرکے ان محلوں کو بائی پاس کے طورپر استعمال کرنے لگے ہیں جس سے ان محلوں کے مکینوں کی پریشانیاں خاصی بڑ ھ گئی ہیں۔
664 total views, no views today


