مینگورہ، سوات کے نوجوان صحافی موسیٰ خانخیل شہیدکی 6ویں برسی منائی گئی،اس حوالے سے سوات پریس کلب میں تقریب منعقدہوئی جس میں ضلع بھر سے صحافتی تنظیموں نے شرکت کی ،اس کوموقع پر ڈپٹی کمشنر سوات محموداسلم وزیراورڈی پی او سوات سلیم مروت نے کہاکہ سوات میں کشیدہ صوتحال کے دوران یہاں کے عوام اورصحافیوں نے جو قربانیاں دی ہیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں اورتاریخ انہیں ہمیشہ بطورمثال پیش کرے گی،انہوں نے کہاکہ شہید کھبی نہیں مرتے بلکہ وہ زندہ ہوتے ہیں اوریہی وجہ ہے
کہ ہمیں آج بھی ایسا محسوس ہورہاہے کہ موسیٰ خانخیل اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے،انہوں نے کہاکہ امن کے قیام کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں رنگ لے آئی اورسوات میں پائیدارامن قائم ہوا یہ ان شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج سوات کے عوام پرامن فضاء اورپرسکون ماحول میں سانس لے رہے ہیں،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سوات پریس کلب کے چیئرمین رشیداقبال نے کہا کہ سوات میں قیام امن کی خاطر فورسزاورعوام کے ساتھ ساتھ یہاں کے صحافیوں نے بھی بیش بہاقربانیاں دی ہیں اور اس دوران موسیٰ خانخیل سمیت ہمارے چار صحافی بھائیوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ متعددصحافی زخمی بھی ہوئے مگرمقام افسوس یہ ہے کہ نہ تو ان کے ملزم گرفتار ہوئے اورنہ ہی ان شہداء اورزخمی ہونے والے صحافیوں کو کسی قسم کا ریلیف مل سکا،انہوں نے کہاکہ جب سوات کے حالات کشیدہ تھے تو اس وقت بھی یہاں کے صحافیوں نے جوانمردی کیساتھ فرائض انجام دئے اورآج بھی بذیعہ قلم ملک وقوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں مگر نہ توصوبائی اورنہ ہی مرکزی سطح پر ان کی وہ حوصلہ ہوئی جس کے وہ مستحق ہیں،تقریب سے پریس کلب کے جنرل سیکرٹری فضل رحیم خان،سابق جنرل سیکرٹری محبوب علی،موسیٰ خانخیل کے چھوٹے بھائی عیسیٰ خانخیل اوردیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں ضلع بھر کے پریس کلبوں کے عہدیداروں اورنمائندوں سمیت سیاسی وسماجی شخصیات ،تاجربرادری اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افرادنے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔
326 total views, no views today


