ریاست سوات کے اخری والی میانگل جہانزیب کی 34 ویں برسی خاموشی کیساتھ گزر گئی ، والئی سوات میانگل عبدالحق جہانزیب سن14 ستمبر 1987 کو سیدو شریف میں وفات پاگئے تھے ۔ وہ سوات کے ہر دلعزیز لیڈر تھے ۔ اج ان کی وفات کے 34 سال مکمل ہوگئے ۔

میانگل عبدالحق جہانزیب نے 1948 کو ریاست سوات کی بادشاہت کا تاج سر پر رکھا تھا، اس سے پہلے ان کے والد باچا صاحب سوات کے بادشاہ تھے اور ان کے زیر قبضہ علاقوں میں اج کے ضلع بونیر، ضلع سوات، ضلع شانگلہ اور ضلع کوہستان اتے تھے۔ میانگل عبدالحق جہانزیب ایک روشن خیال اور تعلیم دوست شخصیت تھے، ان کے دور اقتدار میں سوات کے تقریبا ہر گاوں میں پرائمری سکول ، ہردوسرے گاوں میں مڈل ہائی سکول اور ہر تحصیل میں ڈگری کالج بنا تھا، سوات کا سب سے مشہور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج بھی ان کے دور اقتدار میں بنا تھا۔

تعلیم کیساتھ ساتھ میانگل عبدالحق جہانزیب صحت کے شعبے پر بھر پور توجہ دیتے تھے انہوں نے اپنے دور حکومت میں اس صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر کو سوات بلایا تھا اور یہان پر دوبڑے ہسپتال ، سیدوشریف اور سنٹرل ہسپتال قائم کئے تھے ۔ ان ہسپتال میں سوات کے عوام کو مفت علاج کی سہولت حاصل تھی ، علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے تیمار دار کو مفت کھانا بھی دیا جاتا تھا۔

سال 1969 میں صدر پاکستان جنرل یحیٰ خان نے ریاست کا ادغام پاکستان کیساتھ کردیا اور یوں ریاست سوات ضلع سوات مین بدل گیا ، ریاست سوات کے بادشاہ میانگل عبدالحق جہانزیب نے یہ فیصلہ بخوشی قبول کردیا اور اپنی رضامندی سے سبکدوش ہوگئے ۔ انہوں نے ریاست کے قیتمی اور اہم ترین املاک کو بھی پاکستان حکومت کو دیدیئے ۔
والئی سوات کے 34 ویں برسی خاموشی کیساتھ گزر گئی
سوات کا یہ ہر دلعزیز شخصیت اج سے 34 سال پہلے اپنی ابائی گھر میں اپنی جان جان افرین کے سپرد کردیئے ۔ لیکن اپنی محبت عوام میں چھوڑ دی ۔
1,023 total views, no views today



