ایک زمانہ وہ تھا جب انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ پیدل یا گھوڑوں وغیرہ پر جایا کرتا تھا۔ گاڑیاں تو دور کی بات ہے، تانگہ بھی قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتا تھا۔ ذرایع آمد و رفت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پھر وقت گزرتا گیا اور دنیا ترقی کرتی گئی۔ مختلف سائنسی ایجادات ہونے لگے۔ ان ایجادات میں ایک موٹر سائیکل بھی ہے۔ موٹر سائیکل دوسری گاڑیوں کی نسبت کم قیمت پر ملنے والی گاڑی ہے جو آج کل ایک عام مزدور کے ساتھ بھی موجود ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ موٹر سائیکل عام گاڑیوں کی نسبت کم خرچ اور ہر جگہ آسانی سے پہنچنے والی سواری ہے، مگر آج کل کے نوجوانوں نے اس کار آمد اور مفید سائنسی ایجاد کو اپنے والدین کے لیے گویا ایک عذاب بنا رکھا ہے۔ سوات میں موٹر سائیکل ڈرائیو کرنے کا جو طریقہ ہے، جس انداز سے اور جس رفتار سے آج کل نوجوان موٹر سائیکل ڈرائیو کرتے ہیں، وہ کافی تشویش ناک عمل ہے۔ اس لاپروائی اور بے احتیاطی سے ہر روز کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے۔ اگر سیدو شریف اسپتال کے شعبۂ حادثات میں کچھ دیر تک قیام کیا جائے، تو ہر دوسرا کیس موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ والوں کا آتا ہوا دکھائی دے گا۔ حادثات تو آتے رہتے ہیں، مگر خدا نے انسان کو عقل بھی تو دی ہے۔ اگر احتیاط سے کام لیا جائے، تو ہماری نوجوان نسل ان حادثات سے بچ سکتی ہے۔ زیادہ تر حادثات تیز رفتاری کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی جگہ دس پندرہ منٹ تاخیر سے پہنچنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ خدانخواستہ ہم کس حادثہ کا شکار ہوجائیں۔تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ آج کل نوجوانوں نے موٹر سائیکلوں کے سائی لنسروں کے ساتھ کیا کِیاہے کہ جس سے عجیب قسم کی آوازیں نکلتی ہیں۔ یہ بات میرے سمجھ سے بالاتر ہے، کیوں کہ عام طور پر لوگ شور اوراونچی آوازسے جلد تنگ ہو جاتے ہیں۔ جب کہ ہمارے نوجوانوں کو ان بد مزہ اور ذہن کو تھکانے والی آوازوں سے پیار سا ہوگیا ہے۔ چلو یہ بات ٹھیک ہے کہ انھیں ’’شور‘‘ پسند ہے مگر دوسرے لوگ مفت میں کیوں یہ مصیبت اُٹھائیں؟ ٹریفک پولیس کو اس قسم کی سائی لینسر والی موٹر سائیکلوں کے ڈرائیوروں کو آڑے ہاتھوں لینا چاہیے۔ کیوں کہ اس سے ماحول پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور خاص طور پر دل کے مریضوں کے لیے تو اس قسم کی موٹر سائیکل کافی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان آوازوں سے تعلیمی اداروں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ میں اس قسم کے شوق پالنے والے بھائیوں کو درخواست کرتا ہوں کہ جلد از جلد اس سے ہماری گلو خلاصی کرائی جائے۔ کیوں کہ اس کا کوئی فایدہ نہیں ہے۔ نوجوان ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہمیں اس ملک کو بام عروج تک پہنچانا ہے۔ اس لیے تھوڑا سا احتیاط کیجیے، اپنے لیے، اپنی فیملی کے لیے اور وطن عزیز کے لیے۔ کیوں کہ آج کل لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ دنیا آگے کی طرف گام زن ہے جب کہ ہم ہیں کہ ایک قدم آگے اور دو پیچھے جا رہے ہیں۔
736 total views, no views today


