اخبار کے ایک بیان پر نظر پڑتے ہی بے اختیار ہمارے منھ سے ہنسی نکل گئی۔ ہم نے کوئی لطیفہ نہیں پڑھا تھا جس سے ہمارے دانت دکھائی دے رہے تھے، مگر بیان ہی کچھ ایسا تھا کہ جس نے ہمارے ذہن میں گدگی کی اور پھر ہم ماضی کے جھروکوں میں کھو سے گئے اور وہ وقت ذہن کے پردہ پر منعکس ہوا جب ہم پرایمری میں زیر تعلیم تھے۔ پہلے بیان بارے کچھ بیان ہو جائے جو یوں تھا کہ صوبائی کابینہ نے اساتذۂ کرام کو تدریس کے دوران میں اسلحہ رکھنے کی تجویز دی ہے اور اس پر زور و شور سے عمل بھی جاری ہے بلکہ باقاعدہ اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے۔ یادش بہ خیر، پرایمری میں ہمارے ایک استاد محترم (اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے) ہمیشہ اپنے ساتھ بندوق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے وہ ’’ٹوپک استاد‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کا اصل نام ابھی تک ہمیں معلوم نہیں لیکن جب بھی اُس کا ذکر آتا ہے، تو ’’ٹوپک استاد‘‘ کے نام سے اُسے یاد کیا جاتا ہے۔ اب اتنے سالوں بعد میں یوں ہی سوچ رہا ہوں کہ جب تمام اساتذہ کے پاس اسلحہ ہوگا، تو کیا ان کے نام بھی اسلحہ ہی کی بنیاد پر رکھے نہیں جائیں گے؟ شاید کل کو اساتذہ کے نام کچھ یوں ہوں، ’’جرمنے استاد‘‘، ’’روسے استاد‘‘، ’’چاینہ استاد۔‘‘ بھاری اسلحہ رکھنے والے اساتذہ کے نام کچھ یوں ہوں گے: ’’کلاشن کوف استاد‘‘، ’’ری پیٹر استاد‘‘،’’جی تھری استاد‘‘ وعلیٰ ہذا القیاس۔
قارئین کرام! بندوق اور قلم دو ایسی متضاد چیزیں ہیں جیسے آگ اور پانی۔ ہم برسوں سے سنتے آرہے ہیں کہ قلم میں بہت طاقت ہوتی ہے، لیکن سولہ دسمبر کے واقعہ کے بعد اب ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ قلم میں طاقت ہے ہی نہیں۔ اس کی اگر تھوڑی بہت طاقت تھی بھی، تو اب حکومت وقت کے فیصلہ کے بعد وہ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ کیوں کہ جہاں بندوق کی رسائی ہو، وہاں قلم بے بس ہوجاتا ہے۔ اس بارے میں امجد علی سحابؔ نے بھی اپنے کالم میں کہا تھا کہ قلم میں سرے سے طاقت ہے ہی نہیں، اگر اس میں طاقت ہوتی، تو اسکولوں میں اساتذۂ کرام معلم کا کردار ادا کرتے، نہ کہ ایک گن مین کا۔ واقعی قارئین کرام! اگر قلم میں طاقت ہوتی، تو یہ جو روزانہ کئی لوگوں کا قلم رواں دواں ہے، اس کا کچھ نہ کچھ اثر تو ہوتا، لیکن لکھاریوں کی مثال اس بین بجانے والے کی سی ہے، جو بھینس کے آگے بجائی جاتی ہے۔ جس کے ہاتھ میں بندوق ہے، اس کا بول بالا ہے۔ جس کی لاٹھی ہے اُسی کی بھینس ہے۔ حالات ہمارے سامنے ہیں۔ کہیں دور جانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اپنے سوات ہی کو لے لیجیے جب یہاں کے حالات خراب تھے، جب ہر طرف رنگا رنگ اسلحہ دیکھنے کو مل رہا تھا، تب اک آدھ لکھاری کے علاوہ سب کے قلم رکے ہوئے تھے۔ صرف بندوق کا راج تھا اور آج تک ہم بندوق کے سائے میں زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں۔ آج کل لوگ طبعی موت سے کم اور بندوق سے زیادہ مرتے ہیں۔ آج اسلحہ ہمارے بچوں کے معصوم ذہنوں میں کچھ اس طرح بٹھایا جا رہا ہے کہ جیسے اسلحہ ہی ان کا محافظ اور غم گسار ہو۔ ایسے حالات میں ان معصوموں کو قلم کی طاقت کا باور کیسے کرایا جائے گا؟ چلو، ہمارے بزرگوں نے ہمیں قلم کی افادیت سے آگاہ کیا تھا، کیوں کہ اس وقت ہم اسلحہ کے نام تک سے ناوقف تھے۔ اب ان دو متضاد چیزوں کا آپس میں سمجھوتا کرایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خدشہ بھی قابل غور ہے، وہ یہ کہ بعض اساتذہ غصیلی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور سمجھانے سے زیادہ مار پٹائی کو ترجیح دیتے ہیں، اگر ایسے میں کسی طالب علم سے کوئی خطا سر زد ہوگئی یا وہ کوئی نازیبا حرکت کر بیٹھا اور اُستاد کو غصہ آگیا، تو۔۔۔الامان و الحفیظ۔
1,705 total views, no views today


