سامعین محترم! گزشتہ تمام واقعات سے ہٹ کر آج ایک عجیب و غریب بلکہ دل و دماغ کو ماؤف کرنے اور جسم و جان کو مفلوج کرنے والا ایک واقعہ رونما ہوا۔ ایک ’’وزٹنگ کارڈ‘‘ بد قسمتی سے میرے ہاتھ لگا جسے دیکھ کر دل سے آہ بھی نکلی اور غصہ سے بد دعاؤں کی صورت میں نمو پذیر ہوئی۔ بس آج آپ کی خدمت اقدس میں اسی کارڈ کا ذکر مقصود ہے۔ اس وقت میرے سامنے پڑے ہوئے اس کارڈ پر جو کچھ درج ہے، وہ حاضر خدمت ہے۔ اس پر جلی حروف میں ’’منافق ٹریڈرز‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر رقم ہے:
’’ہر قسم دو نمبر مال کے لیے تشریف لائیں ‘‘
’’ہمارا نصب العین،لوگوں کی چمڑی ادھیڑنا‘‘
’’پروپرائٹر: حاجی نمازی روزہ دار نقد خان‘‘
’’سود خور پلازہ دکان نمبر 5-3‘‘
’’بے ایمان روڈ بازار ضمیر فروشاں ملاوٹ کدہ‘‘
’’ٹیلیفون نمبر 420-419‘‘
’’فیکس 307-302 کے ساتھ ساتھ ای میل
naqadkhan@cheating.net
قارئین کرام! ہے نا یہ رونگٹے کھڑی کرنے والی بات؟ اس قبیل کے اذہان کو آپ کتنی توپوں کی سلامی دیں گے؟ کیا آپ بھی میری طرح میر جعفری کا یہ شعر نہیں دہرائیں گے کہ
اس قدر ہوجائے جس کی پست ذہنیت تو پھر
فوقیت حاصل ہے اس انسان پر حیوان کو
یقین کریں قارئین کرام کہ جب کارڈ پر نظر پڑی، تو بے ساختہ میرے منھ سے یہ شعر نکلا
کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے
زمیں سخت ہے آسماں دور ہے
ایسی ذہنیت رکھنے والے اور ایسی ذہنیت کو پروان چڑھانے والے معزز پرنٹنگ پریس حضرات ہی کی وجہ سے آج ہم قلم اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں منافقت، نصب العین، حاجی، نماز، روزہ و سود خور کے علاوہ بے ایمان ضمیر فروشاں جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، جو لمحۂ فکریہ بھی ہے اور ایسے الفاظ کے استعمال سے گناہ کے مرتکب ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ اس لیے کہ ان اسماء کا تعلق ارکان اسلام سے ہے یعنی حاجی کا تعلق حج سے ہے، نماز و روزہ بھی ارکان اسلام ہی ہیں جن کا یہاں (وزیٹنگ کارڈ میں) ذکر اچھے انداز میں نہیں کیا گیا ہے، نہ صرف یہ بلکہ یہاں بڑی بات ’’نصب العین‘‘ کی ہے۔ یاد رہے کہ بہ حیثیت مسلمان ہمارا نصب العین کچھ اور ہے۔ اس لفظ کا وسیع مفہوم ہے۔ اس سے مراد آنکھوں کے سامنے رہنے والا وہ مقصد ہوتا ہے جس کا حصول فرض ہوتا ہے اور یاد رہے کہ فرض نصب العین عبادت الٰہی ہی ہے۔ قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ سے ظاہر ہے جس میں اللہ نے خود فرمایا ہے کہ (آیت کریمہ کا مفہوم ) ’’نہیں پیدا فرمایا ہم نے جن وانس مگر اپنی عبادت کے لیے۔‘‘
پس یہی ہے ہمارا نصب العین جس کا حصول فرض ہے۔ سو یہاں پر کارڈ والوں کا نصب العین ’’لوگوں کی چمڑی ادھیڑنا ہے۔‘‘ یہ بے عقلی و کم ظرفی ہی کی بات ہے۔ علاوہ ازیں دونمبر مال کی خرید و فروخت اور سود خوری بھی ہمارا شیوہ نہیں ہے۔اس طرح اس کارڈ کی چھپائی کرنے والے ادارے اور ایسی ذہنیت رکھنے والوں کی شان میں عرض ہے کہ مسلمانوں کے معاشرہ میں ’’سود خور پلازہ‘‘ بھی نہیں ہے اور نہ ’’بے ایمان روڈ‘‘ کا نام و نشان ہے اور معاف کیجیے گا ’’ضمیر فروشاں بازار‘‘ بھی یہاں نہیں ہے۔
’’سود خور پلازے‘‘، ’’بے ایمان روڈ و ضمیر فروشاں بازار‘‘ ہمارے علم میں تو نہیں ہیں، نہ ہم نے ایسی جگہیں دیکھی ہیں، ہاں! ایسی ذہنیت رکھنے والے موجود ہوں، تو بے شک ان کے گھر،ان کے دیرے، عمارات و مکانات واقعی ضمیر فروشی و بے ایمانی کے اڈے ہوں گے۔ ’’چار سو بیس‘‘ قسم کے لوگوں کے ہاں ’’تین سو دو، تین سو سات‘‘ قسم کے معاملے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ان چیزوں کا تصور بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔
قارئین کرام! آج کی ہماری زبان کی سختی خود ہمیں بھی اچھی نہیں لگ رہی ہے لیکن کیا کیا جائے، جب مسلم معاشرہ میں ایسے کند ذہن اور ضمیر فروش افراد موجود ہوں، تو ان کے مقابلہ میں ایسی زبان خود بہ خود استعمال ہونے لگتی ہے۔ اس لیے تو علامہ اقبال نے بھی فرمایا تھا کہ
یہ مسلمان ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائے یہود
آج کے اس دور کے ایسے ’’سود خور پلازوں‘‘ والے ایسے ’’بے ایمان روڈ‘‘ پر ’’ضمیر فروشی‘‘ کرنے والے بلکہ دو نمبری اور لوگوں کی چمڑی ادھیڑنے والے لوگوں ہی کو دیکھ کر باقی ماندہ دنیا، دنیائے اسلام کے خلاف بر سر پیکار ہے۔ انھی لوگوں کی وجہ سے تو اسلام کا نقصان ہوتا ہے اور جب ہم میں خود ایسے خیالات و نظریات رکھنے والے لوگ موجود ہوں، تو نظام ابلیس خود بہ خود مستحکم ہوتا چلا جائے گا۔ اگر ہم خود یہی اعمال کررہے ہیں، خود ارکانِ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں اور جب ہم بہ نفس نفیس سود خوری، بے ایمانی اور ضمیر فروشی جیسے اعمال کو اپنا نصب العین گردانتے ہیں، تو دوسروں سے یا عالمِ کفر سے گلہ کا کیا مطلب؟
حرف آخر کے طور پر انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ ارکان اسلام کا مذاق اُڑانا نماز، روزہ اور حج جیسے ارکان کی اس قدر تحقیر کم از کم ایک مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔ اس طرح ’’سود خور پلازوں‘‘، ’’بے ایمان روڈوں‘‘ اور ’’ضمیر فروشوں و ملاوٹ کدوں‘‘ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔ اس لیے ازراہِ کرم ایسے افعال سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔
اللہ کے حضور توبہ تایب ہو کر آیندہ ایسی غلطیوں سے اجتناب کیا جائے، وگر نہ
تمھاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
*۔۔۔*۔۔۔*
978 total views, no views today


