*قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ*
انسان کو عقل دی گئی ہے جس کے أساس پر کائنات اس کو مسخر کیے گئے اور اس کو حکم ہے کہ خود کو خدا کے سامنے مسخر کرکے رکھے۔بادی النظر میں ایسا نظر آرہا ہے کہ دیکھئے میں نے آپ کے لئے یہ عالم مسخر کیا تو آپ خود کو میرے احکام کے سامنے مسخر کرے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دیکھئے میں نے تمہیں حکم دیا ہے کہ میرے سامنے مسخر ہو تو میں نے تمہارے سامنے سارے عالم کو پہلے سے مسخر کیا ہے ۔یہ تسخیر کائنات اس کے بدلے یا اس کے انعام کے طور پرہے جس پر دلیل ہے
قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق قل ہی للذین آمنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیامۃ کذالک نفصل الآیات لقوم یعلمون(الاعراف۳۲)
کہو کس نے حرام کیا ہے اللہ کی زینت کو جو وہ نکال چکا ہے(پیدا کیا ہے)اپنے بندوں کے لئے (اور کس نےحرام کیا ہے)پاکیزہ چیزیں رزق کی۔کہو یہ ہیں ان کے لئے جو ایمان لاچکے ہیں اس دنیوی زندگی میں اور خالص ان کے لئے ہیں قیامت کے دن اس طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات تاکہ تمہیں سمجھ آئے۔
آیت سے واضح ہوا کہ اس دنیا میں بھی یہ اہل ایمان کے لئے پیدا کیے گئے ہیں البتہ بےا یمانوں کے لئے اس کے استعمال پر پابندی اور قدغن نہیں لگائی گئی جبکہ آخرت میں تو یہ خالص اہل ایمان کے لئے ہیں۔اس آیت سے آپ مذکور الصدر دونوں تصورات نکال سکتے ہیں کہ دنیا آپ کو مسخر کی گئی ہے تو خود کو اللہ کے سامنے مسخر کرویا آپ کو مکلف کیا گیا ہے تو آپ کے لئے دنیا مسخر کی گئی ہے اور ہر دوصورتوں میں یہ آپ پر عقلاً لازم آتا ہے کہ اطاعتِ خدا کیا کریں۔
البتہ یہ ہے کہ یہ آپ کےا یمان اور عمل صالح کی مجازات اور بدلہ نہیں ورنہ پھر تو کافر اس سے فائدہ نہ لے سکتا تھا البتہ اگر کوئی ایمان نہ لے آیا یا قابل اعتبار عمل صالح نہ کرسکا تو اس سے پوچھ گچھ ہوگی
ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم
اور جس نے وفا کی ،اطاعت کی تو اس کے لئے یہ دنیوی نعمتیں اضافی انعام ہے
من عمل صالحا من ذکر او انثی وہو مومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینہم اجرہم باحسن ما کانوا یعملون(النحل۹۷)
جس نے عمل کیا صالح مرد ہو یا عورت ہو تو یقیناً اس کو ہم دیں گے طیب زندگی(پرسکون اور مطمئن زندگی)اور یقیناً ان کو پورا دیں گے ان کا اجر ان کے اس عمل کے سبب سے بہتر کے أساس پر جو وہ کرتے رہے۔
بعض صحابہ کرام ؓ نے کچھ اچھی چیزیں کھالیں تو ان کو خدشہ ہواکہ یہ کہیں ہمارے اعمال صالحہ کا بدلہ نہ ہو جو دنیا میں مل گیا تو اللہ کریم نے فرمایا کہ یہ حیاۃ طیبہ بونس اور اضافی ہے جبکہ جزا جو عمل کا بدلہ ہے وہ تو آخرت میں دیا جائے گا اور وہ بھی ایسا کہ جس کسی نیکی کو اپنی زندگی میں کتنی بار سب سے بہتر انداز میں کیا ہو اس قسم کی نیکیوں کا اجر اس سطح پر دیا جائے گا یعنی اپ گریڈیشن ہوگی۔
اب یہ عقل جو ایک بہتر جوہر ہے اس کا صرف یہ مقصد نہیں کہ کائنات کو استعمال کیا کرو بلکہ اطاعت خدا اور رسولؐ کرو اور جو بھی معاملات دنیویہ ہیں ان کو بہتر انداز سے کیا کرو۔تو ارباب عقل جن معاملات کو اہم سمجھتے ہیں ان کے لئے وہ بہت سوچ وبچار کرتے رہتے ہیں اور جب مطمئن ہوجاتے ہیں کہ یہ اس طرح کرنا صحیح اور مفید ہوگا ۔گویا معاملات زندگی کو سدھارنا اور سنوارنا اس عقل کا تقاضا ہے اور وہ بھی اس انداز سے کہ دنیوی اعتبار سے تو سب کے لئے مفید اور نافع ہو جبکہ مسلمانوں کے لئے وہ آخرت میں بھی خیر کا باعث بنیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان حیوان ہے تو اس کے حیوانی تقاضے تو موجود ہیں اور فعال بھی ہیں یعنی کھانا پینا ،نرمادے کا ملاپ ،گرمی سردی سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ اور اس قسم کے دوسرے تقاضے جو سارے حیوانوں کے ہیں البتہ انسان کو اس کے ساتھ ساتھ تین دیگر خصوصیات دی گئی ہیں
۱۔معقول امور اور مفادعامہ کی طلب اور جستجو ۔جبکہ حیوانات تو صرف محسوسات کی طلب رکھتے ہیں کہ ان میں عقل تو نہیں ہے کہ معقول امور اور مفاد عامہ کی طلب کریں۔
۲۔مطلوبات أساسیہ میں جمال اور نفاست کی طلب کہ حیوانات کو تو جو کچھ ان کے فطری تقاضے پوراکرنے کے لئے ملیں جس بھی صورت میں ہوں وہ اس سے تقاضا پورا کرتے ہیں مثلاً کچا گھاس یا کچا دانہ ۔لیکن انسان اس کچے گھاس اور کچے دانے کو مختلف انداز سے پکاکر کھاتے ہیں۔یعنی ان میں لذت بھی پیدا کرتے ہیں اور یوں اسے زود ہضم بھی بنادیتے ہیں کہ ان کے معدے کی وہ کیفیت تو نہیں جو دیگر حیوانات کی ہے ۔کچا تو ان کو بڑی مشکل سے ہضم ہوگا بلکہ ان کی حالت بھی غیر کرسکتا ہے ۔یہی مسئلہ جوڑے اور پناہ گاہ کا بھی ہے کہ جوڑے میں بھی اس کی اپنی چاہتیں ہوتی ہیں اور گھر میں بھی وہ نفاست وتزئین چاہتا ہے۔
۳۔ایجاد اور تقلید کہ تقاضے تو سب کے ہوتے ہیں کہ ان کو تھوڑی محنت سے زیادہ فائدہ ملے لیکن افراد میں عقول تو مختلف ہیں نیز ان کا ماحول اور اکتساب بھی مختلف ہوتا ہے تو ان میں سے بعض اس مقصد کے حصول کے لئے کچھ راستے نکال دیتا ہے اور کچھ نئے طریقے پیدا کردیتا ہے یعنی کچھ ایجاد کردیتا ہے جبکہ دیگران جن کا یہی تقاضا تو ہے لیکن ان کے عقل میں فطرتاً یہ رسائی نہیں یا ان کو وہ ماحول اور اکتساب نہ مل سکا لیکن جب اس نے دیکھا کہ یہ کسی اور کا ایجاد کردہ طریقہ اس کے مطلوب حاصل کرنے میں معاون ہے تو وہ اس کی تقلید کرجاتا ہے۔
ارتفاق اول:
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ قُلَل اور جبال اور دشت وبیاباں میں رہنے والے مختصر سی سماجوں کی اطوار زندگی کو ارتفاق اول کا نام دیتے ہیں۔
ارتفاق دوم:
جبکہ شہر والے جو نسبتاً زیادہ متمدن ہوتے ہیں کہ وہاں سماج بھی بڑا ہے ،وہاں لوگوں کی آمدورفت اور خلط ملط بھی زیادہ ہے ،وہ ایک دوسرے کے ساتھ آراء کا تبادلہ بھی کرتے ہیں ،اپنے تجربات بھی ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں ا ور یوں ارتفاق اول والے امور ومعاملات کی ایک ارتقائی صورت وجود میں آجاتی ہے ان کا رہن سہن ،جامہ وپوشاک اور گھر بار حتی کہ اقوال وحرکات وافعال کا انداز ارتفاق اول والوں سے مختلف اور ان کے اطوار سے مرتقی ہوتا ہے یہ ارتفاق دوم ہے۔
ارتفاق ثالث:
اور پھر انسان تو چونکہ حیوان ہی ہے جن کو حیوانی صفات میں شہوت اور غضب جن کی وجہ سے بسا اوقات دنگہ فساد اور خون خرابہ بھی ہوتا ہے تو اس قسم کے سماج میں تین چیزیں ہوتی ہیں۔
۱۔ان کے باہمی معاملات میں تسابق کی وجہ سے تباغض اور تحاسد پیدا ہوتا ہے جو کبھی عداوت تک جا پہنچتا ہے جس کے أساس پر کوئی کسی کے حق پر بلکہ حتی کہ جان اور عزت پر وار کرتا ہے اس کا کنٹرول کرنا ضروری اور لازمی ہوتا ہے یہ حکومت کی مقتضی ہے۔
۲۔اس قسم کے سماج میں نفوس ضارہ اور نفوس شریرہ بھی ہوتے ہیں جن کا کام ہی ہوتا ہے شر پیدا کرنا یا ضرر پہنچانا ۔ان نفوس کو کنٹرول میں رکھنا اور ان کے شر وضرر پر ان کو سزا دینا بھی عقل ہی کا تقاضا ہے یہ حکومت کا مقتضی ہے ۔
۳۔بعض صالح قریحہ اور رسا عقل والوں کے ذہن میں مفاد عامہ کے لئے مفید تجاویز اور منصوبے ہوتے ہیں جن کا عملی کرنا فرد یا چند افراد کے لئے ممکن ہی نہیں ہوتا جس کے کرنے کے لئے عدد اور عُدد چاہئے ہوتے ہیں یعنی بہت سارے لوگ ،بہت سارا مال اور آلات یہ بھی حکومت کا مقتضی ہے۔
سو ایک ریاست ،حکومت اور نظام کا قیام واستحکام ارتفاق ثالث ہے۔
ارتفاق رابع:
اب یہ کام زیریں حکومتوں یا حکومتی ڈھانچوں کی ہیں لیکن یہ حکومات مختلفہ بھی تو انسان ہی چلاتے ہیں اور انسانوں میں مذکور الصدر امور وصفات ہوتے ہیں جو ان حکومات چلانے والوں میں بھی ہیں ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے لہذا ان کے اوپر ایک مرکزی اتھارٹی اور حاکم ہو جس کو آپ خلیفہ یا خلافت کہہ سکتے ہیں ۔اب مسلمانوں کے مختلف ممالک میں اپنےا پنے حکمران تو ہوں گے البتہ ان سب کو باہمی تنازعات سے بچانے یا ان تنازعات کو حل کروانے کے لئے یہ مرکزیت لازمی ہے ۔اسی طرح ساری دنیا میں انسانوں کی اپنی اپنی حکومات اور ممالک ہونگے ان کوباہمی تنازعات سے بچانے یا ان تنازعات کو حل کروانے کے لئے بھی ان کو ایک مرکزی اتھارٹی کی ضرورت ہے یہ عقل کا تقاضا ہے۔مسلمانوں کے ہاں تاریخ میں اس اتھارٹی کا نام تھا خلیفہ اور خلافت ۔اور چونکہ مسئلہ عقلی ہے تو آج بھی نقل تو اتارا جاتا ہے تو مسلمانوں نے OICکامنظمہ بنایا ہے اور ساری دنیا نے UNOکا منظمہ بنایا ہے بلکہ مختلف ناموں سے اس قسم کے منظمات موجود ہیں جیسا کہ آسیان یا G7وغیرہ وغیرہ۔اور اس کو شاہ صاحب ارتفاق رابع کا نام دیتے ہیں۔
آپ فرماتے ہیں کہ روحانی ارتقاء کا سفر اطمینان وسکون اور یک سوئی کے ساتھ تب ممکن ہے جب دنیوی حالات پرسکون ہوں اور دنیوی معاملات ہمواری سے چل رہے ہوں ۔اس طرح انسانوں کے لئے دنیوی ترقی تب ممکن ہوگی جب یہ سکون حاصل ہو۔تو یہ چیز ہمیشہ موجود رہتی ہے کیونکہ عقل سے انکار نہیں تو اس کے تقاضوں سے بھی انکار نہیں ہوسکتا ۔البتہ یہ ہے کہ عقل کہاں صحیح فیصلہ کرسکتی ہے اور کہاں غلط۔یہ تو صاحبِ عقل کےعقل کی رسائی ،حالات کا تجزیہ کرنے اور پھر منصوبہ بنانے پر موقوف ہے۔
ایک بار پھر یعنی معاملات کو معقول انداز سے ہینڈل کریں اس کے لئے اولین ضروری ہے
۱۔مناسب وقت کا چناؤ۔ناسمجھ لوگ وقت سے پہلے جمپ کرجاتے ہیں یا پھر ان پر وقت گزرجاتا ہے اور یوں وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل نہیں کرپاتے بلکہ بسا اوقات ان کو لینے کےد ینے پڑجاتے ہیں ۔
۲۔پھر یہ کہ جب تک کسی معاملے پر مکمل علم حاصل نہ ہو اس کو چھیڑنا یا حل کرنے کی کوشش کرنا وقت اور توانائی کی ضیاع ہے۔اس کے لئے فکری آزادی ضروری ہے اور فکری آزادی تب آتی ہے جب بندہ سیاسی طور پر بھی آزاد ہو اورمعاشی طور پر بھی آزاد ہو ورنہ اس کی فکر سیاسی اور معاشی بندھنوں میں جکڑی رہے گی ۔کسی اور کا کھانے والا کبھی ایسی بات کرسکتا ہے یا سوچ سکتا ہے جس سے اس کو کھلانے والے پر زد پڑتا ہو یا اس سے اس کے خفہ ہونے کا احتمال ہو؟بالکل بھی نہیں الاآنکہ وہ پہلے سے ذہن تیار کرے کہ میں بھوکا مرنے کے لئے تیار ہوں ۔یعنی معدے پر تالا لگاسکتا ہوں لیکن فکر پر نہیں۔کسی اور کی سیاسی تسلط میں رہنے والا ایسا سوچ بھی سکتا ہے کہ وہ ایسی بات کرے جو باس کو بری لگے؟بالکل بھی نہیں الا آنکہ وہ کہے کہ مجھے اپنی سیاسی حیثیت کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ حیثیت کیا ہے جو کہ کسی اور کی چاپلوسی اور خوشامد پر موقوف ہو۔ہم نے اپنی زندگی میں بڑوں بڑوں کو دیکھا ہے اور بلاتفریق ہر جماعت میں دیکھا ہے کہ لیڈر کے سامنے بھیگی بلی بنتے ہیں اور اشاروں کنایوں میں ایک دوسرے کو سمجھاتے ہیں ۔اگر کسی نے بات شروع کی ہو کہ موضوع کو بدلو کہ باس کے چہرے پر ناراضگی کےا ثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔پھر یاتووہ موضوع کوبدل دیتا ہے یا اگر وہ بات مکمل کرے تو اب سے اس کا تنزل اور پھر دھڑام سے گرنا ہے۔
یہی مسئلہ اقوام کا بھی ہے ۔قوم کی معاشی آزادی تو تب ممکن ہے جب ان کا ایک منصفانہ معاشی نظام ہو ۔منصفانہ معاشی نظام میں ہر بندہ ضروریات کی حد تک اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتا ہے ۔وہ سمجھتا ہے کہ ایک تو مجھے ضروریات زندگی ملتی رہیں گی اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی جائز کام کے لئے مجھے سفارش اور رشوت کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔یعنی ہر بندہ کم از کم یہ محسوس کرتا ہے کہ میرے پاؤں زمین پر لگے ہوئے ہیں میں کوئی ہوا میں معلق ہوکے ہچکولے کھاتا اور پھر گرنے والا نہیں ۔سو منصفانہ معاشی نظام میں بنیادی حقوق اور شہری آزادیاںCivil rightsحاصل ہوتے ہیں۔یعنی اس کو آزاد سیاسی فضا اور نظام ملا ہوتا ہے جس میں جبر واکراہ نہیں ہوتا ہے۔
اور افراد معاشی جبر اور سیاسی جبر سے آزاد ہوں تو ان کی فکر آزاد ہوتی ہے ۔وہ آزاد سوچتا اور آزاد بولتا ہے سیاست پہ بولے کہ فلسفہ پر بولے۔یہ تینوں آزادیاں ایک ساتھ آتی ہیں عموماً تو ان کی ترتیب یہی ہوتی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے یعنی معاشی آزادی ،پھر سیاسی آزادی ،پھر فکری آزادی۔ اور کبھی کبھار فکری اور علمی آزادی سے سیاسی آزادی اور سیاسی آزادی سے پھر معاشی آزادی حاصل ہوتی ہے۔
یورپ میں چرچ اور ریاست کی باہمی ساز باز نے یہ ساری آزادیاں سلب کی تھیں تبھی تو تحریکات نے جنم لیا کیونکہ فطرت کو دبانا لاوا دبانے کی طرح ہے اور لاوا ایک دھڑام سے تب نکلتا ہے جب اس پر حد سے زیادہ دباؤ ہو ۔جتنا دباؤ زیادہ ہو اتنا ہی اس کے نکلنے کا انداز زوردار ہوتا ہے اور یہ آزادیاں فطری ہیں اور فطرت کا تقاضا ہیں۔
سترھویں اور اٹھارویں صدی میں یہ دباؤ بھرپور تھا تو تحریکات اور افکار پیدا ہوئے جدیدیت پیدا ہوئی کہ چرچ کے تسلط کو قدامت کہا گیا سو جمہوریت ،انسانی حقوق ،اقلیتوں کے حقوق ،حقوق نسواں یعنی جو جو اس وقت دبے ہوئے تھے جیسے نظریات وتحریکات وجود میں آئیں ۔ترقی پسندی کی تحریک آئی بیسویں صدی تک یہی شور رہا۔یہ ساری تحریکات عقلیت پسندی پر استوار تھیں کہ عقل ہی صحیح اور غلط کی کھسوٹی ہے ۔انسانی عقل نے ہی جمہوریت کا تصو ردیا جس کے أساس چار ستون ہیں ۔
۱۔عوام کی حاکمیت
۲۔آزادی اور حقوق
۳۔عوامی نمائندگی
۴۔اور الیکشن
جس کے دو مشتملات ہیں۔
۱۔امیدوار
۲۔اور ووٹرز
حاکمیت مطلقہ تو صرف اللہ کی ہے۔
ان الحکم الا للہ
البتہ عوام بطور انسان اللہ کےا یجنٹ اور نمائندے ہیں ان پر حکومت ان ہی کا اپناحق ہے سو یہ جس کو حاکم مقرر کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں لیکن یہ خود بھی اوروں کے حکمران اور خلیفہ بھی اللہ اور رسول کے حکم کے تابع ہیں
اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم
اللہ اور رسول کی اطاعت دونوں کے لئے ۔
‘‘اطیعوا’’ کالفظ مستقلاً استعمال کیا گیا ہے کہ ان کی اطاعت مطلق واجب اور لازم ہے جبکہ ‘‘اولی الامر’’یعنی ارباب اختیار کے لئے ‘‘اطیعوا’’ کا لفظ مستقلاًنہیں لایابلکہ ان کو عطفاً ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی اطاعت مشروط ہے بایں معنی کہ وہ وہ حکم دیں جو اللہ اور رسولؐ نے دیا ہے ۔اور ‘‘منکم’’سے ایک تو یہ معلوم ہواکہ کسی خارجی مسلط قوت کا حکم ماننا صحیح نہیں ۔اور دوسرا یہ کہ وہ آپ میں سے ہیں یعنی آپ ہی نے اس کا انتخاب کیا ہے۔
اب تفصیلات علیحدہ ہیں کہ انتخاب کون کرے گا ۔تو شریعت میں تو اہل حل وعقد کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اگر ساری امت کی اس نہج پر تربیت ہوجائے کہ وہ شرائط خلیفہ وخلافت سے بھی واقف ہوں اور اس میں وہ کسی مفاد ،عناد ،خوف یا تعصب کے شکار نہ ہوں تو پھر ان کا حق ہے۔اور پھر ظاہر بات ہے کہ حکومت اسلامی اور حکمران عملی مسلمان ہو تو وہاں پر تو نہ پھر کسی کی آزادی کےسلب ہونے کا خطرہ ہے اور نہ کسی کے حق کا ۔لیکن اس کے لئے اسلامی فکر کے مطابق اور سماج وثقافت وروایات جو شریعت کے خلاف نہ ہوں ان سے ہم آہنگ جمہوریت کی تعارف وترویج ضروری ہے کیونکہ جمہوریت نہ تو کوکاکولا یعنی مشروبِ مغرب ہے نہ روح افزاء یعنی مشروبِ مشرق ہے کہ ہر جگہ اس کی رنگ ولذت ایک جیسی ہو۔دوسروں کی زمین اصلاح معاشرہ اور نفاذ جمہوریت اپنے فکر وتصور کے مطابق مسلط کرنا یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔نہ اس سے مسائل ہوں گے بلکہ یہ وہاں کے ماحول کو اور بھی گندہ بنادے گی اور مسائل کو اور بھی گھمبیر بنادے گی۔بس بنیادی تصور دین باقی ان پر چھوڑیں کہ وہ کیسے اور کس طرح اس کو تطبیق کراتے ہیں اور کس طرح اس کے مقاصد جو آزادی،مساوات ،حقوق اور نمائندگی ہے کو عمل میں لاتے ہیں ۔اور یہ تو ہر قوم کا اپنا ملک ہوتا ہے سو وہاں کے لوگوں کو چھوڑیں اور جب تک وہ نہ کسی کا حق مارتے ہیں نہ حقوق وآزادی سلب کرتے ہیں نہ ان کے مذہب میں مداخلت کرتے ہیں تو ہر قوم کی اپنی تہذیب وثقافت اور روایات ہوتی ہیں ان کو اپنانے دیں جنجال ختم۔لیکن اصل میں معاشی اور سیاسی مفادات کے لئے ہم ان پر اپنی فکر ونظام ٹھونسنا چاہتے ہیں یہ چیز کارگر نہیں اس سے سوائے دنگہ وفساد اور خون خرابے وبدامنی کے اور کچھ بھی برآمد نہیں ہوگا اور نتائج سب کو بھگتنے پڑیں گے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔
1,160 total views, no views today



