سوات (سوات نیوز ) تحصیل کبل کے علاقہ شاہ ڈھیری میں مسلح نقاب پوشوں نے بارہ سالہ بچی اغوا کرلی، والد، بیوی اور بیٹے کو اسلحہ کے نوک پر چارپائیوں پر رسیوں سے باندھ کر تشد دکیا گیاجبکہ چھوٹے بچوں پر بے دردی سے تشدد کیا گیا، 6 روز گزرنے کے باوجود ملزمان گرفتار نہ ہوسکے، مظلومین کا 24 گھنٹوں میں انصاف نہ ملنے پر بچوں سمیت خود سوزی کا اعلان، انصافیوں کی حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ، ان خیالات کا اظہار محمد ایوب خان ولد میر اسلم سکنہ بیلہ شاہ ڈھیرئی نے گزشتہ روز اپنے بچوں اور اہلیان علاقہ کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ 6 روز قبل رات بارہ بجے رضا خان، شیر علی، سمیع اللہ، بخت شیرروان، لعل محمد، کریم اللہ اپنے نقاب پوش ساتھیوں کے ہمراہ میرے کھنڈر نما گھر میں گھس گئے اور انہوں نے مجھے اور میرے بچوں کو رسیوں سے باندھ کر میری 12 سالہ بچی صائمہ کو اغواء کرکے لے گئے، اس موقع پر انہوں نے میری بیوی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ مذکورہ افراد ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ 6 روز قبل ہماری اغواء ہونے والی معصوم بچی کو پولیس تا حال بازیاب نہ کرسکی اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کیا، انہوں نے کہا کہ مذکورہ ملزمان بااثر ہیں اس وجہ سے پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈال رہی ہے، محمد ایوب خان نے کہا کہ اگر ہمیں 24 گھنٹوں کے اندر انصاف نہ ملا ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا اور ہماری بیٹی کو بازیاب نہ کیا گیا تو میں بیوی بچوں سمیت خود سوزی پر مجبور ہو جاؤنگا۔ جس کی تمام ذمہ داری حکومت اور پولیس پر ہوگی، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان، و زیر اعلیٰ محمود خان سے مطالبہ کیا کہ ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے ملزموں کو گرفتار کرکے میری بچی کو بازیاب کرایاجائے، انہوں نے کہا کہ انصاف کے نام پر بننے والی حکومت ہمیں انصاف فراہم کریں ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔
847 total views, no views today



