کجری کی دوسری اور تیسری جھیل،،،
شاہی باغ، گبرال سوات۔۔۔
کجری کی پہلی جھیل سے دوسری جھیل تک پہنچنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ یہ راستہ قدرے آسان ہے۔ پہلی جھیل کے دائیں جانب ایک راستہ اوپر جاتا ہے اور جہاں آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ راستہ آپ پر حاوی ہوتا جا رہا ہے، دوسری جھیل کی پہلی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جھیل کی پہلی جھلک کوئی خاص تاثر نہیں دے گئی۔ ہمیں لگا کہ اس جھیل کے قریب جانا، وقت کا ضیاع ہوگا یا شاید یہ ہوا کہ جھیل نے اپنے سکون کو برباد ہونے سے بچانے کے لیے ہمیں پاس بلانا گوارا نہیں کیا۔ دور سے جھیل ایک دلدل نما زمین ہی دکھائی دیتی تھی۔ خدا خبر وہاں جھیل تھی بھی یا نہیں۔

پہلی جھیل سے جو راستہ دوسری جھیل جاتا ہے، یہی راستہ اگر ساٹھ کے زاویے سے طے کیا جائے تو کجری کی تیسری جھیل آتی ہے۔ دوسری جھیل کے لیے راستے سے ہٹ کر بائیں طرف جانا ہوتا ہے۔ ہم نے دوسری جھیل دیکھنی ہی نہیں تھی۔ دور سے ہی ہیلو ہائے کرکے آگے کا سفر جاری رکھا۔ اب جو راستہ دکھائی دیتا تھا، اسے راستہ کہنا، راستے کی توہین ہے۔

دیوقامت چٹانوں کے بیچ ان کے بچوں مطلب چھوٹے سنگ زادوں، کانٹے دار جھاڑیوں اور برف کے تودوں کے بیچ ایک پُر پیچ راستہ آسمان کی جانب اٹھتا دکھائی دیتا تھا۔ اسے راستہ مت کہیں، شامتِ اعمال کہیں۔۔۔ پتہ نہیں کس کیے کی سزا ہمیں مل رہی تھی جو یہ راستہ ہم نے چنا۔ ہمارے کرتوت بے شمار ہیں، کسی ایک کو یاد کرکے ہم نے اس آگ میں قدم رکھا۔ ہم جل گئے اور جلتے گئے اور بڑھتے گئے۔ قریباً دو گھنٹوں کی شدید ترین چڑھائی چڑھ کر جو چیز ہمیں نظر آئی، لوگ اسے کجری کی تیسری جھیل کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ہاں راز کی ایک بات بتاتا چلوں، یہ جھیل بہت خوب صورت ہے۔ اس کی خوب صورتی نے،،، جتنے گلے شکوے، گالم گلوچ، اول فول وغیرہ چڑھتے ہوئے ہم نے بکے تھے، تمام کے تمام، لمحوں میں مٹا دیے۔ جھیل کی چوڑائی ذرا کم، لمبائی زیادہ ہے۔ بلندی چودہ ہزار فٹ کے لگ بھگ ہے۔ آس پاس کے نظارے زبردست ہیں۔ ہمارے ایک بد بخت ساتھی نے کہا تھا، “مجھے یہ جھیل بھا نہیں رہی ہے۔” ہم نے شدید غیض و غضب میں اس کی طرف دیکھا تھا،، ہماری نظر کی تاب نا لاتے ہوئے اسے مجبوراً کہنا پڑا، “یارر ما خو گپ لگوو، پا گپ ہم نہ پوھیگئی۔”

اس کے خیال میں مرزا غالب کے آم کی طرح، کسی جھیل میں بھی بس دو ہی خوبیاں ہونی چاہیے، گول مٹول ہو اور آس پاس کے پہاڑوں پر برف پڑی ہو۔۔۔
سورج زوال پزیر ہو رہا تھا اور ہمیں واپسی کا عندیہ دیتا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں جھیل کی پانیوں پر اور آس پاس کی چٹانوں پر پڑتی تھیں۔ ہر چیز جیسا سونا بن گئی تھی۔ ہم نے واپسی میں عافیت جانی۔ واپسی میں کوئی قابلِ ذکر واقعہ رونما نہیں ہوا، بس اتنا ہوا کہ شام کے آٹھ بجے کے لگ بھگ ہم اس مقام پر پہنچے، جہاں ندی پار کرکے ہم نے اپنے خیموں کی طرف جانا تھا۔ ندی پار کرنا آسان نہیں تھا۔ پانی کا بہاؤ توقع سے بڑھ کر تیز تھا اور اس کی ٹھنڈک، لمحوں میں جسم کو سن کرنے کے لیے کافی تھی۔ آکاش کی وسعتوں سے چودھویں کا چاند ابھرا اور فضا اس کی روشنیوں سے منور ہوگئی مگر ہمارے لیے اس میں کوئی کشش نہیں تھی کیوں کہ ہم اس مقام کی تلاش میں سرگرداں تھے، جہاں ندی کی گہرائی کم اور پاٹ پتلی ہو۔ ہماری تلاش رات کے ساڑھے نو بجے تک جاری رہی مگر ہمیں ایسی کوئی جگہ نہیں ملی جہاں پانی کی گہرائی کم ہو۔ مجبوراً ہم پانچ ساتھیوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ندی کو بسم اللہ کرکے عبور کرنے کی کوشش کی۔ ندی کے تیز بہاؤ اور یخ بستہ پانیوں نے ہمیں پار لگانے کی اپنی بھر پور کوشش کی مگر ہم نے بھی گھٹنے نا ٹیکنے کی بھرپور قسم کھائی تھی۔ خدا خدا کرکے ہم نے ندی پار کرلی۔ آگے ہماری کیا حالت ہوئی، اس پر بھاری سا ایک پتھر اگر رکھا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
کجری کی پہلی جھیل سے تیسری جھیل تک ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔ تیسری جھیل کی بلندی چودہ ہزار ایک سو فٹ کے قریب ہے۔
ان جھیلوں کے علاوہ وادی شاہی باغ گبرال میں دو مزید خوب صورت جھیلیں بھی ہم نے دیکھیں۔ ان جھیلوں کا ذکر اگلی نشست میں ہوگا۔ تب تک کے لیے اجازت دیجئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریک پارٹنرز:
خواجہ سعید
عابد روز
سنی چاولہ
محمد ریحان خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و عکاسی: خانہ بدوش

1,135 total views, no views today



