سوات، ڈسٹرکٹ سیشن جج کے عدالت میں وکلاء کے توڑ پھوڑ کے خلاف ججز اور سٹاف کا عدالتی بائیکاٹ ،کوئی کیس نہیں سنا گیا میرٹ پر مبنی فیصلے کے وجہ سے وکلاء طیش میں اگئے ،عدالتی زرائع گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سوات کے عدالت کے احاطے میں وکلاء کی جانب سے احتجاج اور توڑ پھوڑ کے خلاف جمعہ کے روز ضلعی کورٹ کے تمام ججز اور انکے سٹاف نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور ججز نے کوئی بھی کیس نہیں سنا جس کے وجہ سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، زرائع کے مطابق گزشتہ روز ضلعی ججز نے وکیل کے ایک کیس کا فیصلہ کیا جس پر وکلاء سیخ پا ہوگئے انہوں نے ڈسٹرکٹ سیشن جج کے دفتر کے احاتے میں توڑ پھوڑ کی اور شیشے توڑے ،ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرک جج نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے زرائع کا مزید کہنا تھا کہ کل تک ڈسٹرکٹ جج تمام فیصلے میرٹ پر کرتے تھے اب جبکہ وکیل کے خلاف میرٹ پر فیصلہ دیکر میرٹ کے مثال قائم کر دی ہے زرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسی طرح نازیبا الفاظ ان کو زیب نہیں دیتے جبکہ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں میرٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے اور اس سلسلے میں سوات بار ایسوسی ایشن آج اہم اجلاس منعقد کرینگے جس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے ، واضح رہے کہ یہ اپنے نوعیت کا پہلا ہڑتال ہے کہ کلرکوں کے علاوہ جج صاحبان نے بھی ہڑتاک کیا جبکہ اسی طرح جسٹس افتخار چوہدری کے تحریک میں بھی ججوں نے بائیکاٹ نہیں کیا تھا۔
746 total views, no views today


