مینگورہ ، سوات یونیورسٹی کے گرلز کالج آف ہوم اکنامکس کی پرنسپل ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر رہنے لگی،پرنسپل گریڈ 20 کی تنخواہ اور مراعات وصول کرنے کے باوجود کالج میں جانا ضروری نہیں سمجھتی،ہفتہ میں ایک دن ہی کالج میں ڈیوٹی اور پھر غیر حاضر رہنے سے کالج کی طالبات کی پڑھائی شدید متاثر ، توجہ نہ دینے سے طالبات میں مایوسی پھیلنے لگی،کالج کے طالبات پر منفی اثرات مرتب ہونے اور پڑھائی میں عدم دلچسپی کی رجحان میں اضافہ کا خدشہ، طالبات ایک درخواست کیلئے مہینوں تک انتظار کرتی ہیں،
باوثوق ذرائع کے مطابق یونیورسٹی اف سوات کے گرلز کالج اف ہوم اکنامکس کی پرنسپل مس عمرانہ سیمی سوات یونیورسٹی کے گرلز کالج آف ہوم اکنا مکس میں ڈیپوٹیشن پر پشاور کالج اف ہوم اکنامکس سے ائی ہے اور پچھلے سات آٹھ مہینوں سے کالج کی بجائے پشاور میں اپنے فیملی کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہے ۔جب کہ ان کے ڈیپوٹیشن کے تعیناتی پر ان کو گریڈ 19کے بجائے گریڈ 20کے تنخواہ اور سہولیات کالج سے ملتی ہے مگر پھر بھی وہ ہفتے میں صرف پیر کے دن کالج اتی ہے اور خواتین لکچرار کو ذمہ داریاں سونپ کر واپس پشاور چلی جاتی ہے ،زرائع کے مطابق پرنسپل نے ابھی تک کالج طالبات کی فلاح وبہبوداور پڑھائی کی بہتری کے سلسلے میں ابھی تک کوئی کام سرانجام نہیں دیا ہے ،مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے ان کی دفتر میں طالبات کے شکایات کے انبارلگے رہتے ہیں ۔کالج کے پری میڈیکل کی ایک طلبہ نے نام نہ ظاہر ہونے کی بناء پر بتایا کہ اس نے پچھلے چھ مہینوں میں اپنے پرنسپل کو صرف دو مرتبہ ہی کالج میں دیکھا ہے وہ ذیادہ وقت کالج میں نہیں ہوتی ،انہوں نے کہا کہ دوسرے طالبات کے طر ح وہ بھی ایک درخواست کیلئے ایک ایک مہنے تک پرنسپل کا انتظار کرتی رہے ،ہوم اکنامکس کی ایک طلبہ نے بتایا کہ پرنسپل کے تعیناتی کے وقت انہیں بتا یا گیا تھا کہ پرنسپل مس عمرانہ سیمی ہوم اکنامکس میں ڈگری کرچکی ہے جس کی وجہ سے وہ طالبات جو ہو م اکنامکس کررہی ہے ان کو پرنسپل کے تجربہ سے مستفید ہونگے مگر ان کو امیدوں پر پانی اس وقت پھیر گیا جب پورے چھ ، سات مہینوں میں انہوں نے اپنی پرنسپل کو کالج میں دو مرتبہ سے ذیادہ نہیں دیکھا ۔طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اپنا نام اس لئے ظاہر نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ ان کی پرنسپل چھوٹی چھوٹی باتوں پر لکچرارز کے طالبات کے سامنے بے عزت کرتی ہے ،جبکہ وہ اج تک کسی بھی طالبہ سے نہیں ملی ہے ۔ طالبات نے بتایا کہ کالج میں مسائل کا انبار ہے اور ذیادہ درخواستوں پر ان کی دستخط ضروری ہوتی ہے جب کہ انکی اکثر غیر موجودگی میں انکی انتہائی اہم کام التوا ء میں رہتے ہے ، طالبات نے گزارش کے کہ اس پرنسپل کی جگہ مقامی پرنسپل کو تعینات کیا جائے ،جو انکی مسائل کو اچھی طرح سمجھ اور حل کرسکی ورنہ ان کی قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔جب کالج کی پرنسپل عمرانہ سیمی کی افس کے نمبر پر کال کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ پچھلے چار دنوں سے کالج میں نہیں ائی ہے ،اور جب پرنسپل سے انکی موبائل فون پر باربار رابطہ کرنے کے کوشش کی گئی تو پرنسپل عمرانہ سیمی نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کردیا اور اپنا موبائل فون بند کردیا۔طالبات نے حکومت اور سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا کہ پرنسپل عمرانہ سیمی کی مسلسل غیر حاضری کی خلاف کاروائی کی جائے ورنہ طالبات احتجاج پر مجبور ہونگے، جس کی ذمہ داری کالج کے انتظامہ اورحکومت پر عائد ہوگی ۔
409 total views, no views today


