*آئرلینڈ کا سفر*
پہلی قسط:
17 سبتمبر، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کو رات دس بجے لندن کے اسٹنسڈایئرپورٹ سے آئرلینڈ کی طرف ہماری فلائٹ تھی، اس سفر میں میرے دیرینہ دوست حضرت مولانا سہیل باوا صاحب، کامران، نوشاد، فراز، معراج بھائی، اور مولانا بلال صاحب رفیق سفر تھے۔ اس سفر کا پس منظر یہ تھا کہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن کے علماء اور محبین حضرات مولانا سہیل باوا صاحب سے مسلسل رابطے میں تھے، اور عرصہ دراز سے آئرلینڈ آنے کی دعوت دے رہے تھے، مولانا سہیل باوا صاحب اور تمام ساتھیوں نے سفر کا مکمل شیڈول تیار کرنے کے بعد مجھے فون کیا اور سفر میں ساتھ جانے کی دعوت دی، مینے انکی دعوت کو قبول کرتے ہوئے حامی بھر لی۔

کیونکہ طویل لاک ڈاؤن نے جہاں پوری دنیا کی سرگرمیوں کو متاثر کیا وہاں ہماری زندگی کو بھی پابندیوں کی قید میں جکڑ رکھ دیا، جو میرے مزاج وطبیعت کے بلکل بر عکس ہے، میرا جہاز کا آخری سفر گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا، جسے پورے دس ماہ بیت چکے ہیں، چونکہ آئرلینڈ کا شہر ڈبلن برطانیہ حکومت کی گرین لسٹ میں شامل ہے، لہذا وہاں سفر کیلئے کووڈ 19 کی کسی ٹیسٹ یا کورنٹین ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، ہم نے سوچا کہ کیوں نا موقعہ سے فائدہ اٹھایا جائے، آئرلینڈ کے علماء سے ملاقات بھی ہو جائے گی اور سفری جمود بھی ٹوٹ جائے گا۔ اوردوستوں کے ساتھ سیرو سیاحت بھی ہو جائیگی میں نے شام چھ بجے رخت سفر باندھ کر ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا، ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ایک سروس اسٹیشن پر رک کر مغرب کی نماز ادا کی، نماز کے بعد پھر دوبارہ اپنے سفر کو جاری رکھا، تقریبا آٹھ بجے میں ایئرپورٹ پر پہنچ چکا تھا، گاڑی کو پارک کیا کیونکہ سفر دو دن کا تھا لھزااپنی گا ڑی دو دن کے لئے ایر پورٹ پر ہی پارک کر دی اور اپنے رفقاء سفر کے آنے کا انتظار کرنے لگا، کچھ دیر کے بعد مولانا سہیل باوا کے ساتھ تمام ساتھی ایئرپورٹ پر پہنچ چکے تھے، جو مولانا سہیل باوا صاحب کے مرکز سے انکے ساتھ تشریف لائے تھے، میرا گھر چونکہ مولانا سہیل باوا صاحب کے مرکز سے کافی دور ہے، اس لیے مینے انہیں ایئرپورٹ سے جوائن کیا، جب تمام ساتھی جمع ہوئے تو عشاء کا ٹائم ہو چکا تھا،

ہم نے عشاء کی نماز جماعت کی صورت میں ایئرپورٹ پر ہی ادا کی، پھر وہاں سے لاؤنچ کی طرف چلے گئے۔ کامران بھائی پراٹھوں کےرول لیکر کے آئے تھے، اور طرح نوشاد بھائ اپنے ریسٹورنٹ “برگرل” کے چکن رول ساتھ لائے تھے، ہم نےلاؤنچ میں بیٹھ کر ان کے لائےی ہوئیےکھانے سے عشائیہ کیا۔ ہم نے مقررہ ٹائم پر لندن کے ایئرپورٹ سے ڈبلن کیلئے اڑان بھری، تقریبا ۔ ایک گھنٹے کی فلائٹ کے بعد جہاز دس منٹ پہلی ہی آئرلینڈ کے شہر ڈبلن کے ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ ایمیگریشن کے مراحل سے فارغ ہوکر جب لاؤنچ میں پہنچے تو ہمارے میزبان مولانا زاھد صاحب، عبد الحسیب، اور حارث بھائی اپنی گاڑیوں کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہم وہاں سے نکل کر اپنے میزبان حضرات سے ملے، اور ایئرپورٹ کے قریب میں ہی ایک فائیو سٹار ہوٹل چلے گئے، جہاں ہمارے لئے دو کمرے بک تھے، ہوٹل پہنچتے پہنچتے رات کے ساڑھے بارہ بج چکے تھے، چائے پیکر ہم آرام کیلئے لیٹ گئے۔ صبح کو اٹھے فجر کی نماز ادا کی اور نو بجے کو تیار ہوکر ناشتہ کیلئے نکلے، ہمارے ہوٹل میں مقامی کھانوں پر مشتمل بہترین قسم کے ناشتے کا انتظام تھا، لیکن ہمارے ساتھی دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں وہ مقامی کھانوں پر دیسی کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں، یہاں بھی انہوں نے ڈھونڈ کر ایک ریستوران نکالا جہاں پر پراٹھے، نان، بہترین حلوہ پوری، پائے، چنے، اور لذید نہاری دستیاب تھی، ہم نے ایک پر تکلف ناشتہ تناول کیا۔ اور ارادہ یہ تھا کہ ناشتہ اچھی طرح کر لیں تاکہ پھر پورا دن کھانے کی نوبت نا آئے اور ٹائم کو دوسری سرگرمیوں کیلئے بچایا جائے۔ ریستوران میں ناشتے کے دوران ہی وہاں پر موجود کچھ لوگوں سے اچانک ملاقات ہو گئی، انہوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا، اور بتایا کہ ہم آپکی مسجد اقصی کی بنائی ہوئی ڈاکومنٹریز اور اسلام چینل کے پروگرامز کو دیکھتے رہتے ہیں، اسی طرح کئی پروفیشنل ڈاکٹرز سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہیں ہی آئرلینڈ کی مشہور شخصیت عبد الباری صاحب کے صاحبزادے سے ملاقات ہوئی، یہ اس شخصیت کے بیٹے ہیں جہنوں نے ڈبلن کی سب سے پہلی مسجد تعمیر کی، لیکن آج کل وہ کچھ اسباب کی بنا پر بند پڑی ہے،
مگر اللہ تعالیٰ سے امید ہے جلد ہی اسے کھول دیا جائیگا اور دوبارہ اس کی تعمیر بھی شروع ہوگی۔ جناب عبد الباری صاحب چونکہ فوت ہو چکے ہیں، ہم نے ان کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی، ان کے بیٹے نے ہمیں اپنے اپنی مسجد آنے کی دعوت بھی دی، ان سے ملاقات کے بعد ہم نے اپنا سفر شروع کیا اور ایک آبشار کی طرف روانہ ہوئے،
اس سے پہلے کہ میں آپ حضرات کو اپنے سفر کی روداد پیش کروں آئرلینڈ کی مختصر ہسٹری سے روشناس کرانا چاہتا ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔

840 total views, no views today



