وقار احمد سواتی
تبسم عدنان سوات کے ایک جانی پہنچانی خاتون ہیں ، ان کو یہ پہنچان اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نے ملکی تاریخی میں پہلی مرتبہ خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے جرگہ بنایا ، جس میں صرف خواتین کو نمائندگی دی گئی تھی ۔ یہ جرگہ ریپ کیسز، خواتین کی جنسی استحصال اور تشدد کیخلاف کام کرتی تھی ۔ تبسم عدنان نے سوات میں خواتین کیساتھ ناانصافی کی کیسز کو کورٹ تک لے گئی تھی اور باقاعدہ کیسز لڑ کر خواتین کو انصاف دلایا گیا ۔
چالیس سال سے زائد عمر والی اس تبسم عدنان کو خواتین کے حقوق اور جنسی استحصال کیخلاف کرنے پر امریکن ادارے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) نے پاکستان سے امن کے عالمی دن پر 2021 کے ویمن بلڈنگ پیس ایوارڈ کے دیگر خواتین کیساتھ فائنلسٹس کے طور پر منتخب کیا ہے۔

یو ایس ائی پی ہر سال یہ عالمی ایوارڈ ان خواتین کو دیتے ہیں جنہوں نے اپنے ملک میں امن کے لیے کام اور جدوجہد کیا ہوں ، ہر سال اچھے شہرت کے حامل ماہرین اور رہنماوں کی ایک کونسل غور وخوص کے بعد خواتین کے ناموں کو مرتب کرتے ہیں ، اس کونسل نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے خواتین سماجی شخصیت تبسم عدنان کے کام کو دیکھ کر ان کا انتخاب کیا ، تبسم عدنان کے ساتھ دیگر خواتین کو بھی اس لسٹ میں فائنل کیا گیا ہے جس میں ڈیموکریٹک ریبلک کانگو، کولمبیا سے ٹیریسیتا گاویریا، ، کینیا سے جوزفین ایکرو، سے تتیانا موکانیر، کولمبیا سے والڈسٹروڈیس ہرٹاڈو،کیمرون سے ایستھر اوم، جنوبی سوڈان سے نیاچانگکوتھ تائی، کینیا سےجین ڈبلیو ویتیتو اور بنگلہ دیش سے رانی یان یان شامل ہیں۔
تبسم عدنان نے سال 2013 میں خواتین کے حقوق کیلئے کام شروع کیا اور اور خواتین جرگہ (دہ خوئندو ٹولنہ )بناکر اس کوخواتین کے مسائل میں فعال کردار ادا کرنے میں مصروف ہوگئی،انہوں نےپولیس سٹیشنوں، عدالتوں میں خواتین کو انصاف دلانے کیلئے بھر پور جدوجہد کی اور خواتین کے حقوق کی اگاہی کیلئے سیمنار ، واک کا اہتمام بھی کیا۔

سال 2013 میں جب تبسم عدنان نے خواتین جرگہ (کونسل )کا قیام میں لایا تو بڑی تعداد میں وہ خواتین جن پر گھروں میں تشدد کیا گیا تھا ، انہوں نے انصاف کیلئے اس کونسل سے رجوع کیا،اب تک درجنوں خواتین کو اس کونسل نے انصاف کے حصول کیلئے مدد کی ہے ۔
تبسم عدنان کی اپنی زندگی بھی کچھ ٹھیک طرح نہیں گزری ، سوات نیوز کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی کہانی سنائی کہ خودان کی شادی 13 سال کی عمر میں ایک ایسے شخصہوئی جو ان سے عمر میں 30 سال بڑا تھا۔ بڑی عمر کے شخص کو ناپسندکرتی تھی ۔ اس وجہ سے خودانہوں نے اپنی ازدواجی زندگی میں بڑی مشکلات کا سامنا کیا۔ تبسم عدنان کہتی ہے کہ میں نے ہمیشہ ایک ایسے شخص کی اطاعت کی جس کے ساتھ میں نہیں رہنا چاہتی تھیں وہ ہر وقت مجھےجسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ اس شادی سے ان کے تین بچے بھی ہیں۔

سوات میں بننے والے پہلے خواتین جرگہ (خویندو جرگہ)نے اب تک خواتین اور بچوں پر تشدد کے دو ہزار سے زائد واقعات حل کر لئے ہیں تبسم کے ماڈل نے تنازعات کے حل کی کونسل میں خدمات انجام دینے والی پاکستان کی پہلی خاتون کے طور پر دیگر خواتین کو ایسی کونسلوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی ہے۔
یہ کونسلیں تنازعات کے حل کے لیے ایک آسانی سے سمجھا جانے والا اور موثر طریقہ کار تشکیل دیتی ہیں جو بصورت دیگر خواتین کو طویل انتظار اور پیچیدہ نظام کا نشانہ بناتا تھا۔ یہ ایک ایسی صورت حال تھیں جس میں وہ اکثر مزید تشدد کا نشانہ بن سکتی تھیں۔
تبسم انسانی سمگلنگ، معیاری تعلیم، صنفی بنیاد پر تشدد، وراثت، جنسی تشدد سے بچ جانے والی متاثرین کی صحت کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔ ان کا کام روایتی اور ریاستی اداروں کے درمیان فرق ختم کر دیتا ہے۔
934 total views, no views today



