تحریر ارشد شاھین
پاکستان کی اشرفیہ پاکستان کو کھبی بھی دیوالیہ نہیں ہونے دے گی کیونکہ جب کوئی ملک دیوالیہ ہو جاتا ہے تو اس ملک کے باھر مملک میں اثاثے ضبط ہو جاتے ہیں امپورٹ بند ہو جاتی ہے باھر مملک میں ان کے جھاز نہیں جا سکتے AC اور نئے ماڈل کاریں درآمد نہیں ہو سکتی جو یہ سب اشرافیہ کی ضرورت ہے غریب عوام کو نہیں جبکہ پاکستانی اشرافیہ کے باھر مملک میں 200 ارب ڈالر سے زیادہ روپے بینکوں میں اور جائدادیں پڑے ھیں وہ ضبط ہو جائی گی اب ہم پر 100 ارب قرضہ ہے تو جب ملک دیوالیہ ہو گا تو پاکستانی غرہب عوام کو 100 ارب ڈالر فائدہ اور برسر اقتدار اسٹیبلشمنٹ اشرافیہ کو 100 ڈالر نقصان جو پاکستانی اشرافیہ کھبی بھی نہیں ہونے دے گی.
پاکستان، کچھ افریقی اور کرپٹ مملک کے علاوہ ترقیافتہ اور ویلفیئر سٹیٹ ملک حکومت کی مثال ماں باپ کی طرح ہوتی ہیں کہ اپنے اولاد کو آسانیاں اور کاروباری مواقع فراہم کر کے کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کریں تاکہ آمدن زیادہ ہوں اور روزگار ہوں لوگوں کی زندگی میں خوشیاں آئے لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہیں، پاکستان کے تمام سرکاری ادارے کرپٹ ہو گئے ہیں تمام سرکاری عہدیدار کرپٹ ہیں اور اپنی زاتی مفادات کے پیچھے لگے ہیں، پاکستانی حکمرانوں کی کوشش ہوتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ روڑے آٹکا کر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا غریب عوام کے شلوار اور قمیض تک ٹیکس میں اتار ان کے خون کا اخری قطرہ تک نچوڑ کر کاروباری طبقہ کو تنگ کر کے ان میں ریاستی اختیارات پر ظلم اور جبر کر کے ان میں سلامتی اور عدم تحفظ پیدا کر کے ان کے کاروبار آمدن سے زیادی ٹیکس لگا کر ان کو پاکستان سے سرمایہ نکال کر ملک سے باھر نکل جانے پر مجبور کیا جاتا ہیں
ھمیں یہ ماننا ھوگا کہ اس ملک میں عدالتوں میں انصاف نہیں، انصاف پاکستان کے عدالتوں میں خرینا پڑتا ہے ورنہ 100 سال میں بھی معمولی مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا،
جنگ زدہ افغانستان بھہ ہم سے بہتر ہے وھاں ایک مھینے کے اندر فیصلہ ہو جاتا ہے،
پاکستان میں لوگ پریشان ھیں بے روزگاری بڑھ رھی ھے ، لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رھے ھیں ھر طرف سے پریشانیاں ھیں لوگ معمولی بات پہ بھڑکنے لگے ھیں Anxiety انزائٹی, Depression کے شکار ھیں ، برداشت کا مادہ لوگوں میں کم ھوتا جارھا ھے
یہی وجہ ھے کہ پھر سے بدآمنی چوری چکاریاں ڈاکے، لوٹ ماراور خون خرابے شروع ھوگئے ہیں. ملک کے حکمران اسٹیبلشمنٹ لوٹ مار کرپشن کر کے ریٹائرڈ ہو کر امریکہ اور یورپ کی شھریت لیکر باھر کاروبار اور جائدادیں خرید کر پاکستان سے باھر نکل جاتے ہیں ادھر پاکستان میں صرف کرپشن، لوٹ مار کے لیے عہدوں پر قبضہ کیا ہوتا ہیں نہ کہ پاکستان کے غریب عوام کو کوئی ریلیف اسانی مدد دینے کے لیے.
تمام جج، جنرل، گریڈ 22 کے تمام سرکاری ملازمین اسٹیبلشمنٹ، اشرافیہ، وزرا پر ریٹائر منٹ کے بعد پاکستان سے باھر جانے اور غیر ملکی شھریت پر پابندی ہونی چاھیں اور جو بھی باھر ملک کی شھریت لیں یا پاکستان سے باھر مستقل رھائش کرنے کے لیےجائیں ان کی ملکی اور بیرونی ملک آثاثوں کی مکمل تحقیقات کی جائے اور تمام ملکی غیرملکی کرپشن سے بنی جائدادیں بحق سرکا ضبط کی جائے.
اور یہ صرف انقلاب سے ممکن ہے
کیونکہ حکمران اسٹیبلشمنٹ اس ملک کے غریب لاچار عوام ھر چیز پر ڈبل ڈبل ٹیکس لگا کر کے خون کا اخری قطرہ بھی نچوڑ کر باہر مملک میں جاگیر اور کاروبار بناتے ہیں.
حکمران ٹیکس اور قیمتوں کی مثالیں یورپ کی دیتے ہیں لیکن تنخواہیں صومالیہ افریقہ اور افغانستان کی دیتے ہیں،
پاکستانی حکمران عوامی دولت، پلاٹ، اور جائدادیں اپس میں بانٹ کر، قرضے معاف کر کے مراعات لیکر اپنے تجوریاں بھر کر یورپ آمریکہ نکل جاتے ہیں اور پاکستان کے غریب عوام اسی طرح زلیل اور خوار ہوتے رھیں گے.
پشاور میں ایک اعلا سطح کے ایک میٹنگ جن میں صوبائی وزراء اور سیکرٹریز صا حبان بھی موجود تھے اور ملاکنڈ ڈویژن کے کنٹریکٹرز کے چیئرمین کے طور پر میں نے تجویز پیش کی کہ جس طرح موٹروے پولیس اس ملک کی پولیس سے موٹروے میں گئے ہیں لیکن حکومت نے ان کو اس وقت زیادہ تنخواہ اور مراعات دیکر ان کےلیے ایک اعلا معیار سیٹ کیا کہ کرپشن اور بدعنوانی نہیں ہو گی تو وھی پولیس جو عام ناکوں پر گاڑی سے 100 روپے لیکر چھوڑ دیتے تھے بلکل قانون کی پاسدار اور معیاری پولیس ہوگئی اسی طرح صوبے میں جو مختلف دفاتر ترقیاتی کاموں کے لیے، آر ڈی ڈی بلدیات، ایریگیشن، ٹم ایم اے، سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ھیلتھ وغیری وغیرہ اگر ان کے بجائے ھر ضلع میں موٹر وے پولیس کی طرح ان سب سے ڈیپارٹمنٹ سے تمام ترقیاتی کام لیکر ھر ضلع میں ایک اعلا معیاری ورکس ڈیپارٹمنٹ بنا کر ان کو زیادہ تنخواہ دیکر ان کے لئے معیا بنا کر ان کو کہا جائے کہ رشوت کرپشن اور کمیشن نہیں ہو گی اور جس نے کی ان کو سیدھا فارغ کیا جائے گا اور ہر ٹینڈر چھوٹا یا بڑے پراجیکٹ پر مھنگائی میں اضافہ پر بل کے ساتھ اسکالییشن دیا جائے ان 2 اقدامات سے بلکل ترقیاتی کاموں سے کمیشن اور کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا.
ان سب مسائل کا حل صرف قرآن و سنت پر عمل اور ملکی اکانومی مکمل ڈیجٹلائز کر کے کرنسی نوٹ کے بجائے کارڈ اور مکمل ڈیجٹل کرنسی سسٹم نافظ کیا جائے. تاکہ کرپشن ختم ہوں اور رشوت بدعنوانی کا خاتمہ ہوں اور تمام ٹرانزکشن خرید و فروخت جائدادیں اکاونٹ ریکارڈ پر ہوں. اور جن کا بھی آمدن سے زیادہ جائدادیں بینک بیلنس ہوں ان سے ان سب عوامی سرمایہ کو بحق سرکار ظبط کیا جائے.
ارشدشاہین
چیئرمین کنٹریکٹرز ایسوسیشن ملاکنڈ ڈویژن & دیر بالا
1,092 total views, no views today



