تحریر ساجد خان
سوات کے گاوں اوڈیگرام کے رہائشی اورسرکاری سکول کے طالب علم حسین احمد سکول کے وقت کے بعد ایک پیزا شاپ میں ویٹر کی نوکری کرتے ہیں، ان کے والد مزدوری کرتے ہیں اور اپنے والد کے ہاتھ بٹھانے کیلئے انہوں نے پیزا شاپ میں جاب شروع کیا۔

حسین احمد کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہیں لیکن وہ گزشتہ کئی سالوں سے سوات میں رہائش پذیر ہیں، انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول اوڈیگرام سے میٹرک کا امتحان دیا اور بورڈ میں 1078 نمبرز لیکر اپنے سکول میں اول پوزیشن حاصل کی ، حسین احمد کہتے ہیں کہ میٹرک امتحانات کی تیاری کیلئے میں نے ساری ساری رات پڑھائی کی اور جب نماز فجرسے فارغ ہوا تو تین گھنٹے ارام کرنے کے بعد سکول جاتا تھا۔

سترہ سالہ حسین احمد کہتے ہیں کہ میرا تعلق مڈل کلاس فیملی سے ہے ، میرے دوست مجھے طعنہ دیتے تھے کہ اپ اگر افٹر نون کام کرینگے تو پھر اپ کی پوزیشن نہیں ائے گی ، لیکن میں نے ہمیشہ اپنے دوستوں کو کہا کہ اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد کا اکلوتا بیٹا ہوں، اس لئے میں نے سوچھا کہ مجھے اپنے والد کیساتھ اخراجات برداشت کرنے کیلئے کچھ کام کرنا چاہئے ۔

حسین احمد کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مجھے بہت ہی مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ہے ۔میں تیارکرلیتا تھااور پھر خبر اجاتی کہ امتحان لیٹ ہوگیا ہے ۔ جس سے دل ہار بیٹھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 35 شب ایسے گزارے ہیں کہ رات دس بجے میں پڑھائی کرنے بیٹھ جاتا اور نمازفجر کے بعد سو جاتا تھااور تین گھنٹے ارام کرنے کے بعد واپس کام پر اجاتا تھا۔ حسین احمد کہتے ہیں کہ ہمارے ایک استادصاحب کہتے تھے کہ یہ امتحان اپ کیلئے ڈو ار ڈائی والا ہوگا جو کام کریگا اس کے مارکس بہت ہی اچھے ائیں گے ۔ مجھے اپنے اس استاد کی یہ بات یاد تھی میں نے محنت کی اور اج اس کا صلہ مجھے مل گیا ۔

پیزا بوائے حسین احمد کہتے ہیں کہ میں اگے پڑھائی کرنا چاہتاہوں۔ میرے دوست کہتے تھے کہ تم ایک غریب والد کے بیٹے ہو، محنت نہ کرو کام کرو اپ اگے نہیں جاسکتے ، لیکن میں نے ان کے باتوں کو ہمیشہ نظر انداز کرتا تھا ، اور اپنے محنت جاری رکھی ، جس کا صلہ اللہ نے مجھے بہت خوب دیا ۔
میں اپنے غریب دوستوں طالب علموں کو کہتا ہوں میں نے نوکری کیساتھ ساتھ مزدوری بھی کی اور اپنے سکول کو ٹاپ کرلیا ۔اپ بھی سبق پڑھیں اپ کی محنت ضائع نہیں ہوگی ۔
970 total views, no views today



