سوات(سوات نیوز)خیبر پختونخوا پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے زیر اہتمام قدرتی آفات و حادثات سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر بدھ کے روز ڈیزاسٹر ریسک ریڈکشن کا بین الاقوامی دن اس تجدید کے ساتھ منا یاگیا کہ قدرتی آفات سے درپیش نقصانات کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ کم کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا اور گلاف ۲پراجیکٹ نے ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی اپر دیرمیں ایک سیمینا ر کا اہتمام کیا جس میں وائس چانسلر شہید بے نظیر یونیورسٹی شرینگل پروفیسر ڈاکٹر رحمت علی، پی ڈی ایم اے،ضلعی انتطامیہ کے اعلی حکام کے ساتھ ساتھ، یو این ڈی پی گلاف ۲کے عہدداران سمیت کثیر تعداد میں طالب علموں، اساتذہ کرام، یو این ڈی پی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سیمینار میں وائس چانسلر شہید بے نظیر یونیورسٹی شرینگل پروفیسر ڈاکٹر رحمت علی نے شرکاء کا شکریہ اد اکیا اور اپنے خطاب میں قدرتی افات اور حادثات کے لیے مطلوبہ تدابیر پر زور دیا۔
اس موقع پر پی ڈی ایم اے کی ڈائریکٹر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ مسز زہرہ نگار نے کہا کہ آفات نہ صرف انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ ملک کے سماجی و معاشی حالات کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔انہوں نے بلڈنگ کوڈز پالیسی کے نفاذ پر زور دیااور کہا کہ اکیسویں صدی کی پہلی دو دہایؤں سے پاکستان ایک تسلسل کے ساتھ قدرتی آفات کا شکار رہا ہے جس میں سیلاب، زلزلے، طوفان، برفانی تودوں کا گرنااور خشک سالی کے ساتھ گلاف ایک اورنیا رجحان ہے،خاص طور پر ضلع چترال کے کچھ علاقے اس میں شامل ہیں۔
اس موقع پر ڈایکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین نے اپنے پیٖغام میں کہا ا کہ آفات کے نقصانات کو کم کرنے سے معاشی اور سماجی ستحکام لایا جا سکے گااورممکنہ آفات سے متاثرہ علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبوں میں آفات کے خطرات کو ملحوظ نظر رکھ کر حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد گار ثابت ہونگے۔ انہو ں نے مز ید بتا یا کہ عوام کی آگاہی کے لئے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ر یڈ یو پر معلوماتی پیغامات بھی تواتر کے ساتھ نشر کئے جارہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ قدرتی آفات کے رجحان کو روکا نہیں جا سکتا بلکہ ڈی آر آر اقدامات کرکے اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ اس مو قع پر قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ریسکیو 1122 کے تعاون سے کمیونٹی ممبران کے ساتھ مل کر زلزلے، گلا ف، آگ بجھانے کی فر ضی مشقیں بھی کی گئیں۔اور شجرکاری بھی کی گئی جس میں طلبا نے بڑھ چرھ کر حصہ لیا۔
۔۔۔۔۔
770 total views, no views today



