راوالپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں واقع صرف اور صرف دل کی بیماری کے لیے بنایا گیا ہے اور دل کے عارضہ میں مبتلا ہر خاص و عام کے علاج معالجہ کے لیے قایم ہے۔ آج کے دن آپ حضرات کی خدمت اقدس میں آر آئی سی میں جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بس وہ گوش گزار کرنا مقصود ہے۔ باقی صوبوں کے مابین موازنہ آپ خود ہی کریں کہ کون ہم درد ہے اور کون بے مروت۔ کہاں خدمت انسانی کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور کہاں عوام الناس کی کھال ادھیڑی جارہی ہے۔
ہوا یوں کہ ہم اپنے قبلہ و کعبہ والد محترم کے عارضۂ قلب کے سلسلہ میں بہت سے مخلص دوستوں سے بار ہا آر آئی سی کے حوالہ سے تبصرے سنتے چلے آرہے تھے، تو ایک دن ہم نے جانے ہی میں عافیت سمجھی اور راولپنڈی عازم سفر ہوئے۔ پنڈی پہنچ کر ہم نے اسپتال کا رخ کیا۔ گیٹ پر ٹیکسی نے ہمیں اتارا، جہاں نہایت شریف لوگوں نے ہماری آؤ بھگت کی، تو اندر داخل ہوکر میں حیران و ششدر رہ گیا کہ شاید ہم کسی دوسرے ملک پہنچائے گئے ہیں۔ اگر چہ اس وقت میں نے اپنے حواس خمسہ میں سے کچھ پر زور دیا، اس لیے اب ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ یہ پاکستان ہی تھا جس میں ہم کھڑے تھے۔ بہ ہر کیف اسپتال کے کچھ اوصاف حمیدہ پیش خدمت ہیں۔
1:۔ پہلی بڑی بات یہ تھی کہ یہ صرف عوارض قلب ہی کا اسپتال تھا۔ ہماری طرح یہ نہیں کہ ایک اسپتال میں آنکھ کا وارڈ، دل کا وارڈ، بخار کا وارڈ، ٹی بی کا وارڈ، جنرل وارڈ، خصوصی وارڈ، شوگر وارڈ وعلیٰ ہذاالقیاس۔ اب یہاں پنجاب میں دل کا الگ اسپتال، ٹی بی کا الگ اسپتال، آنکھ کا الگ اسپتال یعنی یہ صوبہ اسپتالوں میں اچار نہیں رکھتا، اس لیے یہ صرف ’’کارڈیک اسپتال‘‘ تھا۔
2:۔ دوسری بڑی اور حیران کن بات یہ تھی کہ ہماری طرح نہیں کہ ایل آر ایچ یا کے ٹی ایچ وغیرہ میں ڈاکٹر سرکاری ڈیوٹی سرانجام دے گا اور بعد میں اس کے پرائیویٹ کلینک کے لیے یا تو ڈبگری گارڈن کے چکر کاٹنے پڑیں گے یا حیات آباد اور یا کسی دوسرے بڑے پرائیویٹ اسپتال میں اس کے پیچھے نہ صرف فیس بلکہ ساتھ ساتھ سفارش کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ یہاں دن رات سروس چلتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبان فیس لیتے ہیں لیکن اس چار دیواری میں رہ کر چوبیس گھنٹے کی سروس مہیا ہوتی ہے۔ اس طرح آپ کو مختلف ٹیسٹ کے لیے دور دراز کے کلینکل لیبارٹریوں کے چکر سے گلو خلاصی بھی ملتی ہے۔ ہمارے ہاں تو ڈاکٹر کے ذاتی کلینک کے علاوہ کبھی ایک لیبارٹری کا چکر تو کبھی دوسری کا لگانا پڑتا ہے۔ یہاں آر آئی سی میں ہر قسم کے ٹیسٹ اور دل کے تمام معاملات اس ایک چاردیواری کے اندر ہی ہوتے ہیں۔
3:۔ یہاں ایک بات دوسری سے اہم ہے۔ لہٰذا ایک بڑی بات یہ بھی ہے کہ آپ نے مریض کا آپریشن کروانا ہو، تو بس آپ اپنا مریض عملہ کے سپرد کریں گے۔ آپ سے مریض وصول کیا جائے گا اور آپ کو ٹھیک ایک ہفتہ بعد دس بجے کا ٹایم دیا جائے گا۔ پھر آپ نے ٹھیک ایک ہفتہ دس بجے آکر اپنا مریض وصول کرنا ہے اور گھر کی راہ لینی ہے۔
ہماری طرح یہ نہیں کہ ایک مریض ہوتا ہے اور پانچ اس کے ساتھ تیماردار ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں کی بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کا مریض مکمل طور پر ان کی نگہ داشت میں ہوتا ہے۔ اب وہ جانے اور مریض۔ خیر، اگر آپ رہنا چاہتے ہیں، تو باہر ہوٹل وغیرہ ہیں۔ آپ بغیر کسی رکاؤٹ کے باہر شہر کے ہوٹلوں میں قیام پذیر ہوسکتے ہیں۔
4:۔ ایک اور بات یہ ہے کہ سیڑھیوں کے اترنے چڑھنے کے لیے لفٹ لگایا گیا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا کوئی خاص داروغہ نہیں۔ آپ لفٹ میں کھڑے ہوکر از خود بٹن دبا کر چڑھ اور اتر سکتے ہیں۔
5:۔ ہمارے ہاں جو ملازم ریٹایرڈ ہوجاتے ہیں، تو ان سے ساری سہولیات واپس لے لی جاتی ہیں مثلاً ان کا میڈیکل الاؤنس، ان کی تن خواہ نصف کاٹی جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا علاج تو مفت نہیں کر واسکتے ہیں لیکن ایک ہی ملک کے اس صوبہ میں ریٹایرڈ ملازمین کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں تب ہوا جب ہمیں بتایا گیا کہ آپ ریٹایرڈ ہیں، تو ہم آپ کا علاج بھی مفت کروائیں گے اور دو مہینے کی ادویہ بھی آپ کو مفت دے دی جائیں گی۔ ہم نے کہا کہ جناب ہم تو صوبۂ خیبر پختون خوا کے رہنے والے ہیں، تو اس وقت ڈاکٹر صاحب خفا ہوئے اور فرمانے لگے کہ کاش آپ پنجاب کے رہنے والے ہوتے، تو یہاں کے باسیوں کے لیے یہ مراعات ہیں۔ خیر، یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ یوں ہمارے علم میں اضافہ ہوا کہ اس صوبہ کے ریٹایرڈ ملازمین کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ ہمارا صوبہ کم از کم نہیں جہاں سبک دوش ملازمین آئے روز احتجاج و مظاہرے کرتے ہیں۔
6:۔ ایک اور خصوصیت اسپتال میں یہ ہے کہ یہاں ہر تیس منٹ کے بعد صفائی والا آموجود ہوتا ہے۔ فرش گندا ہو یا نہ ہو لیکن ہر تیس منٹ کے بعد وہ نازل ہوتا ہے اور فرش وغیرہ کی صفائی کرنے لگ جاتا ہے۔ گویا کہ ان کی صفائی کا عمل ’’عمل جاریہ‘‘ ہی ہوتا ہے۔
ان صفات کو دیکھ کر ہمارا یقین تب آیا جب ایک ٹیکسی والے نے کہا کہ جی ہاں، یہ پاکستان کے صوبۂ پنجاب میں میاں شہباز شریف کے ہاتھوں کا بنایا ہوا اسپتال ہے اور اس کی نگرانی کے لیے انھوں نے ڈاکٹر میجر جنرل اظہر محمود کیانی صاحب کو مقرر کیا ہے۔ بس وہ صاحب اس کی نگرانی کررہے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی ادھر ادھر ہو۔
خیر، ٹیکسی والے نے ہماری توجہ میٹرو بس سروس کی جاری سڑک یعنی پل کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ اس منصوبہ کے لیے میاں صاحب نے ستّر ارب روپے منظور کیے ہیں۔ اس طرح یہ منصوبہ بھی جلد ہی مکمل ہوگا۔ علاوہ ازیں ٹیکسی والے نے یہ بھی کہا کہ اسپتال سڑک و دیگر تمام منصوبوں کی نگرانی میاں صاحب خود ہی فرماتے ہیں بلکہ کبھی کبھار ایم این اے اور ایم پی اے سے بھی کام لینا پڑتا ہے اور قارئین کرام، آپ کو ایک اور بات بھی بتائیں کہ اسی ایم این اے اور ایم پی اے کی کار گزاری کی خاطر اسی دن قومی اسمبلی کے رکن جناب حنیف عباسی صاحب آر آئی سی کے دورہ پر آئے ہوئے تھے اور انھوں نے میجر جنرل صاحب سے نصف گھنٹہ ملاقات اسپتال کے حوالہ سے کی۔
حرف آخر کے طور پر یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ بھی پاکستان کا صوبہ ہے، جہاں پر صورت حال یہ ہے اور ہمارا بھی صوبہ پاکستان کا ہی حصہ ہے جہاں کی صورت حال آپ خود جانتے ہیں۔ اگر بات اس حوالہ سے سوات کی کی جائے تو حالت اور بھی دگرگوں ہے۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا سفر پیدل ہے اور ان کا ’’بائے ائیر۔‘‘
676 total views, no views today


