تحریر: ارشاد محمود
جوں جوں دہشت گردوں کا عرصۂ حیات تنگ ہو رہا ہے، جوابی وار میں شدت آ رہی ہے۔ قبایلی علاقوں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں انتہاء پسندوں اور ان کے حامیوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ آپریشن ضرب غضب کی حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انتہاء پسندوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے بلکہ یہ ہے کہ اس نے قوم کو متحد اور یک سو کردیا۔ آج پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کندھے سے کندھا ملا کر اس عفریت کا مقابلہ کر رہی ہے۔ دوسری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین زبردست مفاہمت پیداہوچکی ہے۔ تلخیاں اور کشیدگی قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ کابل میں پاکستان کے تئیں پائے جانے والے شکوک وشہبات نہ صرف رفع ہوچکے ہیں بلکہ مفاہمت اور خیر سگالی کا جذبہ فروغ پذیر ہے۔ جنرل راحیل شریف نے روایتی تحفظات کا ازالہ کرنے کے لیے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔‘‘
ایک اور خوش کن خبر یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے مابین بھی تعاون اور اطلاعات کے تبادلہ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس تعاون کا نتیجہ ہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے زیادہ تر حملہ آور وں کو ہلاک یا گرفتار کر لیاگیا ہے۔قبایلی علاقوں ہی نہیں بلکہ افغانستان کے اندر بھی دونوں ممالک کی افواج مشترکہ آپریشن کر رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ابھرنے والے تعاون اور مفاہمت کے نتیجہ میں یہ امید کی جاتی ہے کہ خطہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ جنرل راحیل نے ذاتی دل چسپی لی۔ باربار کابل گئے۔ افغان فوج اور خفیہ اداروں کویقین دلایا کہ پاکستان افغانستان کو مستحکم ملک کے طور پر دکھانا چاہتا ہے۔ باخبر ذرایع نے بتایا کہ پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا، تو جنرل راحیل نے روایتی پروٹوکول کے ضابطوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے افغان حکومت کو اطلاع دی کہ وہ اگلے چند گھنٹے میں کابل میں ہوں گے۔ یہ دورہ افغان حکام کے لیے ایک سرپرایز تھا لیکن اس موقع سے دونوں ممالک کی قیادت نے بھرپور فایدہ اٹھایا۔ یہ دورہ، پاک افغان تعلقات میں ایک ٹرننگ پواینٹ ثابت ہوا۔
قارئین کو یہ جان کر بھی خوشی ہوگی کہ افغانستان کے سفیر ’’جاناں موسیٰ زئی‘‘ نے جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ کا دورہ کیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے دورۂ کابل کی دعوت دی۔ بعدازاں افغان وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی نے بھی ٹیلی فون کرکے دعوت کا اعادہ کیا۔ سراج الحق کو دورۂ کابل کی دعوت بھی ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ جماعت اسلامی کا ستر کی دھائی سے افغان قیادت سے گہرا تعلق رہا۔ اب صدر اشرف غنی نے جماعت اسلامی کی قیادت کو ایک بار پھر افغانستان میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مدعو کیا جو ایک اچھی پیش رفت ہے۔ اگر وہ سیاسی عمل کی حمایت کریں، تو افغانستان کے اندر متحارب کئی ایک گروہوں کے لیے نظریاتی طور پر یہ سہل ہوجائے گا کہ وہ جمہوری نظام کا حصہ بن جائیں۔ طالبان اور دیگر شدت پسند عناصر کم زور ہوں گے۔ سراج الحق اپنے پیش رو سیّد منور حسن کے برعکس پاکستان کے اسڑٹیجک اور سیاسی مفادات کی بہتر تفہیم رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ نہ صرف کابل جائیں گے بلکہ افغان سرزمین پر کھڑے ہوکر افغان حکومت کے خلاف برسرپیکار گروہوں کو بھی مفاہمت کا اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا مشورہ دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ افغان صدارتی الیکشن کے بعد طالبان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ جمہوری نظام کا حصہ بن جائیں۔قوم کو تقسیم کرنے اور عوام کو باہم لڑانے کے لیے مسلح گروہوں نے گزشتہ چند ہفتوں سے امام بارگاہوں پر حملے شروع کررکھے ہیں، تاکہ ایک گروہ کو دوسرے کے لیے کھڑا کیا جاسکے، لیکن عام شہریوں نے بے مثال اتحاد ویک جہتی کا مظاہرہ کیا۔ لوگ ایک دوسرے سے گھبرانے کی بجائے ایک دوسرے سے ہم دردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھیں تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔ آبادی کے کسی بھی طبقہ کے خلاف عام شہریوں میں کوئی نفرت نہیں بلکہ ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر شرمندگی ہے۔ شکار پور میں امام بارگاہ پر حملہ کی مذمت کی غرض سے جمعیت العلمائے اسلام کا ایک بھاری بھرکم وفد گیا جب کہ سراج الحق خود ایک وفد کے ہم راہ اظہار افسوس کے لیے حاضر ہوئے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت تیز رفتاری سے مسلح گروہوں کے خلاف آپریشن کے لیے فورسز کی تربیت کا عمل بھی جاری ہے۔ پنجاب اور بلوچستان میں کاؤنٹرٹیررازم فورس نہ صرف تشکیل پاچکی بلکہ متحرک بھی ہوچکی ہے۔ توقع ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کو سریع الحرکت بنانے کے لیے یہ فورس بے پناہ مددگار ہوگی۔ پولیس اور خفیہ ادارے بھی بڑی حد تک سرگرم ہوچکے ہیں۔ کئی ایک مدارس کی سخت نگرانی کی جارہی ہے۔ بیرونی ممالک سے آنے والے سرمائے پر کنٹرول کے لیے دوست ممالک سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ مدار س اور خیراتی اداروں کو وسایل فراہم کرنے سے قبل حکومت پاکستان کو آگاہ کریں۔
قوم کا اعتماد بہ حال کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں تیئس مارچ کی پریڈ کا اہتمام جاری ہے۔ توقع ہے چین کے صدر ’’شی جن پنگ‘‘ بھی پاکستان تشریف لارہے ہیں۔ اگرچہ حکومت پاکستان سیکورٹی کے پیش نظر ابھی تک دورہ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہی لیکن غالب خیال یہ ہے کہ یہ دورہ طے ہے۔ چین کے صدر نہ صرف پاکستان کا دورہ کررہے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی ایما پر طالبان کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کرچکے ہیں۔ یاد رہے کہ غیر مسلم ممالک میں سے چینی سفیر وہ پہلا شخص تھا جس نے طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد قندھار میں ملاعمر سے ملاقات کی تھی۔ حال ہی میں قطر میں طالبان اور چینی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی۔ چین کی افغانستان کے داخلی معاملات میں دل چسپی کا مقصد اس خطہ میں امن قایم کرنا ہے، تاکہ دہشت گردی کے منفی اثرات سے چینی مسلمانوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں چھیالیس بلین ڈالر کی خطیر رقم سے شروع کیے جانے والی اقتصادی راہ داری اور دیگر منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ جس رفتار سے حالات میں سدھار آرہاہے اس کے پیش نظر یہ کہاجاسکتاہے کہ کوئی بڑا حادثہ نہ ہوا، تو انشاء اللہ اگلے چند ماہ میں پاکستان میں عمومی طور پر زندگی معمول پر آجائے گی۔ دہشت گردوں کی نہ صرف کمر ٹوٹ جائیگی بلکہ انھیں جائے پناہ بھی میسر نہ ہوگی۔
806 total views, no views today


