ملاکنڈ ڈویژن کی لاکھوں آبادی سات اضلاع یعنی ملاکنڈ، بونیر، سوات، شانگلہ، دیر پائیں، دیر بالا اور باجوڑ پر مشتمل ہے اور اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ کیوں کہ خیبر پختون خوا کے دیگر ڈویژنوں کو جو سہولیات میسر ہیں، وہ ملاکنڈ ڈویژن میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
قارئین کرام! صحافتی فرایض سرانجام دیتے ہوئے گزشتہ دنوں تیمرگرہ جیل جانا پڑا۔ جیل کے اندر جو صورت حال دیکھی اس پر دفتر کے دفتر رقم کیے جاسکتے ہیں۔ تیمرگرہ جیل جو کہ دو سو پچاس قیدیوں کے لیے تعمیر کی گئی ہے، اس میں دیر بالا، دیر لوئیر، سو ا ت اور شانگلہ کے چھ سو قیدیوں سے زاید کو کھپایا گیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 2005ء کے زلزلہ کے دوران میں سوات جیل کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور یہ تقریباً ناقابل استعمال ہوگئی مگر اب دس سال گزرنے کو ہیں کہ پورے سوات کے قیدیوں کو تیمرگرہ جیل لا یا جاتا ہے۔
قارئین کرام! پولیس وین (تیمر گرہ جیل) میں لانے اور لے جانے والے قیدیوں کی کار گزاری سن کر آدمی ہکا بکا رہ جاتا ہے کہ ہمارے منتخب ممبران اسمبلی اور وزراء کی ڈیوٹی آخر کیا ہے؟ تیمرگرہ جیل سے اتوار کے علاوہ ہر روز قیدیوں کے لیے مخصوص گاڑی دو پولیس موبایل گاڑیوں کے ہم راہ سوات جاتی ہے۔ قیدیوں کے لیے مخصوص گاڑی میں چوبیس نشستیں ہیں لیکن اس میں بعض اوقات پچاس سے لے کر اسّی تک قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کھپایا جاتا ہے۔ قیدیوں کو دو دو کرکے ہتھ کڑیوں میں جکڑ کر لے جایا جاتا ہے۔ تیمرگرہ سے سوات کا سفر دو گھنٹوں کی طویل مسافت کے بعد طے کیا جاتا ہے۔ کئی قیدیوں کو اس صبر آزما مرحلہ کے بعد گاڑی سے زخمی حالت میں بھی اترتے دیکھا گیا ہے۔ اس مخصوص گاڑی میں ڈاکٹر اور ڈسپنسرتو رکھ چھوڑئیے، ابتدائی طبی امداد کے لیے مرہم پٹی کا سامان تک نہیں ہوتا۔
قارئین کرام! تیمرگرہ سے مینگورہ، کبل، مٹہ، خوازہ خیلہ اور بحرین تک قیدیوں کو آئے روز تاریخوں اور مقدمات کے سلسلہ میں آنا جانا ہوتا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے قیدی صبح دس گیارہ بجے تک فارغ ہوجاتے ہیں جب کہ وہ بحرین، مٹہ اور کبل وغیرہ کے علاقوں کے قیدیوں کے انتظار میں اکثر شام چھ بجے تک مینگورہ حوالات میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔ اب تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انتظار میں پڑے ان قیدیوں کو پانی کا گلاس اگر مل جائے تو مل جائے، باقی انھیں کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔قیدیوں کا یہ بھی شکوہ ہے کہ جیل وین کے ڈرائیور کو جس روز کچھ کھلایا پلایا نہیں جاتا، تو وہ گاڑی اس طریقہ سے چلاتا ہے کہ قیدی اترتے وقت زخموں سے چور ہوتے ہیں۔ ایک قیدی نادرخان ولد برادر خان سکنہ کبل سوات کا ہاتھ اس قسم کی ڈرائیونگ سے ٹوٹ چکا ہے۔ اس کے علاوہ تیمرگرہ سے سوات جانے والی گاڑی پر چند سال قبل ریموٹ کنٹرول حملہ بھی ہوا تھا جس میں درجنوں قیدی زخمی ہوئے تھے اور محمد عالم کانسٹیبل اور وین ڈرائیور آنکھوں کی معذوری کا شکار بھی ہوئے تھے۔
دوسری طرف سوات جیل جو 2005ئکے زلزلہ میں ناقابل استعمال ہوگئی تھی، اب دس سال گزر گئے لیکن اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہاں ایک سپرنٹنڈنٹ ابھی تک تعینات ہے اور تن خواہ و دیگر مراعات لیتا ہے۔ معلوم نہیں کہ جیل خانہ جات کے حکام دس سال سے سوات،شانگلہ اور دیگر علاقوں کے عوام کو کس جرم کی سزا دے رہے ہیں۔ روزانہ سوات قیدیوں کو لے جانے والی دو پولیس اور ایک قیدیوں کے لیے مخصوص گاڑی کا سالانہ فیول خرچہ پانچ کروڑ سے زیادہ ہے یعنی دس سالوں میں پچاس کروڑ روپے صرف فیول کے مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ اگر خدا لگتی کہیں، تو اس خرچہ پر کئی جیل تعمیر ہوسکتے ہیں۔پتہ نہیں کہ ہمارے حکم ران، ممبران اسمبلی اور وزراء کس مرض کی دوا ہیں؟ 2005ئسے لے کر ابھی تک کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ ایم ایم اے، عوامی نیشنل پارٹی اور اب تحریک انصاف کے بھی دو سال گزر گئے ہیں لیکن تینوں حکومتوں میں ’’سوات جیل‘‘ نہ بن سکی۔
سوات جیل کے تعمیر نہ ہونے سے کالام جیسے دور افتادہ علاقہ کے دفعہ ایک سو سات والے مجرموں کو بھی دو تین دن کے لیے تیمرگرہ جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ اس طرح سوات کے قیدیوں کے رشتہ داروں کو ملاقات کرنے کا سلسلہ بھی بڑامہنگا پڑتا ہے۔
اب ایک مشکل یہ بھی ہے کہ تیمرگرہ جیل میں قیدیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ بارک میں پچیس قیدیوں کی بجائے ستّر قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور ستّر افراد کی حوایج ضروریہ کے لیے تین پاخانے ہیں۔ ان پر گزرنے والی تکالیف کا اندازہ ان قیدیوں پر پڑنے والے اثرات سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا موجودہ صوبائی حکومت (جس کو سوات کے عوام نے بھاری منڈیٹ دیا ہے) ’’سوات جیل‘‘ تعمیر کرنے کا مسئلہ ہنگامی بنیادوں پر حل کرے اور دس سال تک غفلت کرنے والوں کو سزا دلوائے۔
علاوہ ازیں ملاکنڈ ڈویژن کے جو اضلاع ہیں، ان میں سنٹرل جیل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے قیدیوں کو ہری پور، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں کی جیلوں میں کھپایا جاتا ہے اور ان کے رشتہ داروں کو پھر کئی کئی دن ملاقات کے لیے خوار ہونا پڑتا ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ پورے خیبر پختون خوا کے ہر ڈویژن میں ’’سنٹرل جیل‘‘ ہے لیکن ملاکنڈ ڈویژن واحد ڈویژن ہے جہاں پر یہ سہولت میسر نہیں۔ حالاں کہ سنٹرل جیل کے لیے 1994ء میں سروے کیا جا چکا ہے۔
قارئین کرام! اس کوتاہی کی نشان دہی بہ حیثیت ایک لکھاری راقم کا فرض تھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر بننے والی حکومت اس مسئلہ کے حل میں کامیاب ہوتی ہے یا دیگر حکومتوں کی طرح صرف وقت گزاری پر اکتفا کرتی ہے۔
718 total views, no views today


