رشید احمد
’’پی کے اسّی‘‘ سوات کے انتخابی حلقوں میں سب سے اہم حلقہ ہے جو مینگورہ شہر اور ملحقہ علاقوں پر مشتمل ہے اور ہر بار عام انتخابات میں ہر سیاسی پارٹی کی نظریں پی کے اسّی کی نشست کے حصول پر لگی رہتی ہیں۔ سب سے زیادہ انتخابی گہما گہمی اور رونقیں بھی اس کے حصہ میں آتی ہیں جس کا بنیادی سبب شہر ہونے کے ناطے انتخابی مہم میں آسانی ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتیں اس پر زیادہ تو جہ دیتی ہیں لیکن اس قدر اہم حلقہ ہونے کے باوجود اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ مختلف ادوار کی حکومتوں میں مینگورہ شہر پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا یہ حلقہ مستحق تھا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے قد کاٹھ کے سیاسی رہنماؤں نے اس حلقہ سے انتخاب لڑا اور یہ نشست تحریک انصاف کے حصہ میں آئی۔ تحریک انصاف کے انتخابی نعروں اور لوگوں کی توجہ کامرکز بننے والے منشور کے پیش نظر پی کے اسی کے مکینوں نے بہت سی توقعات وابستہ کرلیں اوریہ اُمیدیں کچھ ایسی غلط بھی نہ تھیں، کیوں کہ بہ حیثیت قوم ہم ہمیشہ انتخابات کے دوران نعروں اور وعدوں کو دیکھ کر ووٹ کی پرچی اس جماعت اور امیدوار کے حق میں ڈالتے آئے ہیں، سو اس بار بھی پی پی پی، اے این پی اور متحدہ مجلس عمل کو آزمانے کے بعد یہ قرعۂ فال تحریک انصاف کے نام نکل آیا۔ دو سال بیت گئے پی کے اسی میں تعمیر و ترقی سے لے کر میگا پراجیکٹ یا کوئی نئے منصوبے، عوام کے اجتماعی مفاد کے لیے کسی اقدام کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ پورے سوات کے سب سے بڑے تجارتی مرکز مینگورہ شہر کی اندرونی سڑکوں کی حالت دیکھ کر لگتا نہیں کہ ہم کسی شہر میں داخل ہوئے ہیں۔ زمانۂ قدیم کے کھنڈرات کی طرح ادھیڑی ہوئی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندگی سے اٹے ابلتے نالے، سڑکوں پر بہتا پانی، برساتی ندیوں کی چہار سو پھیلی بدبو، ان نالوں میں پینے کے پانی کے گزاری گئیں بوسیدہ، زنگ آلود پایپ لاینیں، ٹوٹے پھوٹے گلی کوچے، ناکارہ اسٹریٹ لایٹس، صفائی کا ناقص نظام، یہ پی کے اسی کے شہری حلقہ کا نقشہ ہے جس سے منتخب عوامی نمایندے جو کہ خیر سے ضلعی ترقیاتی کونسل کے چےئرمین بھی ہیں اور ہر ہفتے پی کے اسی کے لیے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز منظور کرنے کا اعلان کرنا نہیں بھولتے، تاہم زمینی حقیقت اس سے یک سر مختلف ہے اور کسی بھی منصوبے کا وجود دکھائی نہیں دیتا۔
پی کے اسی کے عوام کو سب سے پہلے سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی خوش خبری دی گئی جسے دو سال ہوگئے۔ سڑکوں کا حلیہ اور بھی بگڑ گیا۔ اس کے بعد شہر کی بڑھتی آبادی اور پینے کے پانی کی قلت دور کرنے کے لیے باغ ڈھیرئ سے مینگورہ شہر تک واٹر سپلائی لاین لانے کا وعدہ کیا گیا جو اربوں روپے کی لاگت کا حامل منصوبہ تھا اور اسے سابق حکومتوں نے بھاری لاگت کے پیش نظر چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد چیل بشیگرام سے واٹر سپلائی لاین لانے کی بات کی گئی جو ایک ناقابل عمل منصوبہ تھا۔ سلسلہ یہیں پر نہیں رکا بلکہ تھوک کے حساب سے اعلانات اب بھی کیے جارہے ہیں ۔
مینگورہ شہرمیں زمانۂ قدیم میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے جوپایپ لاین بچھائی گئی ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ زنگ آلود اور بوسیدہ ہوچکی ہے اور اس کا بڑا حصہ برساتی ندیوں، نکاسئی آب کی نالیوں سے گزار کر لایا گیا تھا، اب صورت حال یہ ہے کہ مذکورہ پایپ لاین ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے اور پانی کے ساتھ گندگی شامل ہو رہی ہے۔ اب لوگ یہ آلودہ اور مضر صحت پانی استعمال کرکے ہیپاٹایٹس اور پیٹ کے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔
پی کے اسی میں واٹر سپلائی کی بوسیدہ پایپ لائنوں کی تبدیلی کا اعلان بھی نہایت جوش وخروش سے کیا گیا اور ایک مقام پر افتتاح کا ڈھونگ بھی رچایاگیا لیکن تاحال پایپ لاینوں کی تبدیلی کو عملی جامہ نہیں پہنایاگیا ہے۔
مینگورہ شہر کی خوب صورتی کے پلان کے لیے متعدد میٹنگز کی گئیں۔ سی سی ٹی وی کیمرے، گرین بیلٹ اور سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں اور پارک کی خوش خبری دی گئی لیکن زمین پر اس کا کوئی وجود نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور کروڑوں روپے کے فنڈز کی منظوری محض میڈیا ئی تشہیر کی حد تک ہے۔ کسی منصوبہ کی ابھی ڈی پی سی بھی نہیں بنی ہوگی لیکن ان لوگوں کے میڈیائی مشیر منصوبہ پر کام کاآغاز اور جلد تکمیل کے شوشے چھوڑنا شروع کردیتے ہیں اور بعد میں یہی ادھورے منصوبے ممبران اسمبلی کے لیے مصیبت کا باعث بن جاتے ہیں۔ پی کے اسی کے بدقسمت عوام کے ساتھ اس بار بھی وہی ہوا جو ان کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ان کو اعلانات، فنڈز آنے اور زور وشور سے ترقیاتی انقلاب برپا کرنے کے وعدوں سے بہلایا گیا۔ اب ان کو بلدیاتی الیکشن میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور دودھ وشہد کی نہریں لانے تک صبر کرنے کا مشورہ دیاجائے گا۔ ’’اونچی دکان پھیکا پکوان‘‘ کے مصداق اعلانات کے مینار کھڑے ہوتے رہیں گے اور میڈیا میں خبر بنانے کے لیے دوڑ جاری رہے گی۔ عملی طورپر ہوگا کچھ بھی نہیں۔
کیا پی کے اسی کے عوام کو اب ایک اور انتخابی معرکہ کاانتظار کرنا ہوگا؟ یہ تبدیلی کے علم بردار ہی بہتر طورپر بتاسکتے ہیں۔
658 total views, no views today


