درخت اس کرہ کے پھیپھڑے ہیں۔ جو شہر جتنا سر سبز ہوگا، اُس کے شہری اُتنے ہی صحت مند ہوں گے۔ یہ علم اب خفیہ نہیں رہا۔ دنیا کے بہت سارے ملکوں میں ایسے قوانین ہیں کہ گھر کے اندر بھی متعلقہ شہر کی میونسپلٹی کی اجازت کے بغیر درخت نہیں کاٹا جاسکتا اور ایک ہمارا شہر ہے جسے ’’مینگورہ‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس شہر نے بہت ظلم دیکھے۔ یہاں انسانوں کے سر کاٹے گئے اور دفنانے والا کوئی نہ تھا۔ اُن ادوار میں شہر کے کتے انسانی گوشت کو مرغوب غذا کے طور پر کھاتے رہتے اور پھر آخر میں انھی کتوں کے خلاف ایک مہم چلانا پڑی۔
ایک بہت بڑی قدرتی آفت سیلاب کی صورت میں اس شہر نے الگ سے برداشت کی۔ ہمارا پٹوار کا نظام ویسے کے ویسے رہا اور آبی گزر گاہیں مزید تنگ ہوگئیں، جو اَب ایک اور آفت کو پہلے سے بڑی تباہی مچانے کی دعوت دے رہی ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ ترقی کے نام پر کچھ روڈ بھی پختہ ہوئے۔ ٹریفک کے دباؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے تارکول کے ساتھ ساتھ روڈ کی سائیڈوں کو سیمنٹ کے ذریعے پختہ بھی کیا گیا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ متعلقہ افسران اور نہ ٹھیکہ دار ہی نے اس بات کا خیال رکھا کہ روڈ کی سائیڈوں پر بوڑھے درخت بھی ہیں۔ مذکورہ عمل میں ان درختوں کا گلا گھونٹا گیا جس میں اب ڈھیر سارے درخت سوکھنا شروع ہوگئے ہیں۔
ہم نے یہ نکتہ متعلقہ افسران بہ شمول ڈپٹی کمشنر اور ہائے وے کے ذمہ داران کے سامنے اُٹھایا اور ہائے وے والوں نے اس حوالہ سے اقدام کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ہم نے فضل حکیم جو کہ متعلقہ ایم پی اے ہیں، کے سامنے بھی صورت حال واضح کی۔ ہائے وے والوں نے اپنی غلطی مانتے ہوئے اس کا ازالہ کرنے کا بھی کہا۔ یوں ودودیہ اسکول کے سامنے چار چھ درختوں کے ارد گرد سیمنٹ کھول بھی دیا گیا، لیکن
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
شگئی سے لے کر گراسی گراؤنڈ تک اور کالج کالونی روڈ پر بیان شدہ صورت حال جوں کی توں ہے۔ اب بہار کا موسم تقریباً شروع ہونے کو ہے۔ اگر فوری طورپر اقدام نہیں کیے گئے، تو ڈھیر سارے درخت سوکھ جائیں گے۔’’سونامی‘‘ کے پودے جب لگیں گے اور پھر نشو و نما پا کر درختوں کی شکل اختیار کریں گے، تو اس وقت تک بہت کچھ ہوچکا ہوگا۔ خیر، ہم ان کے اس اقدام کا تو خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ساتھ یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ’’قید شدہ‘‘ درختوں کو آزاد کیا جائے اور شہر کے ارد گرد زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ شہر میں اور کیا کیا ہو رہا ہے یا کیا کیا ہونا چاہیے، اس پر گاہے بہ گاہے رائے دیتے رہیں گے۔ ملاکنڈ ڈویژن کے لوگ ذہنی طور پر تیار بھی رہیں اور بیدار بھی۔
’’بڑی تبدیلیاں‘‘ آنے والی ہیں۔
722 total views, no views today


