ویب سایٹ ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ پر پانچ فروری اور ’’روزنامہ آزادی سوات‘‘ میں چھ فروری 2015 ء کوامجد علی سحاب ؔ کا کالم بہ عنوان’’ ہزارہ اور علیگرامہ کو ڈبونے کا منصوبہ‘‘ شایع ہواتھا۔ سحابؔ نے دریائے سوات پر ایوب پل کے مغرب میں جنوب کی جانب دریا کی حدود میں عمل دخل اور دریا کی رُخ کو موڑنے کی کوشش کی طرف بر وقت توجہ دلا کر آنے والی تباہی سے خبردار کیا جو کہ ایک احسن اور قابل ستایش اقدام تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر یہ کام کوئی بھی حکومتی ادارہ، عوام یا دونوں مشترکہ طورپر کررہے تھے، تو کثیر عوامی مفاد میں اور ایک بڑی تباہی سے بچنے کی خاطر اس سے ہاتھ کھینچ لیتے، لیکن جیسا کہ ہمارا قومی خاصہ ہے کہ ذاتی اور گروہی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے اور اس صورت میں بھی ایسا ہی طرز عمل سامنے آیا۔
چوں کہ میری تحریروں میں اس حوالہ سے بھی کئی دفعہ ذکر آچکا ہے جو کہ اب بھی’’ زما سوات ڈاٹ کام ‘‘پر فولڈر مضامین میں میرے نام کے فولڈر میں موجود مضامین’’ ایک اور تباہی سے بچنے کی ضرورت‘‘ (فروری 2012ء)،’’ مینگورہ اور تجاوزات ‘‘(اپریل 2013ء) اور’’ عرض مکرر، تجاوزات ‘‘(جون 2013ء) میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا پچھلے سال جب دریائے سوات نے اہل ہزارہ کی ہزاروں سالہ پرانی زرعی زمینوں کو تباہ کرنا شروع کیا، تو میرے ایک محترم کا اس بابت لکھنے کے لیے کہنے کے باوجود میں نے قلم اُٹھانے سے گریز کیا۔ سحاب ؔ کے کالم پر متعلقہ حکومتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے اجتماعی مفاد میں اقدام کی بجائے حیرت انگیز طور پر سولہ فروری کو ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ پراور سترہ فروری کو ’’روزنامہ آزادی سوات ‘‘میں ہمارے ایک محترم کا کالم بہ عنوان ’’دریائے سوات بہ مقابلہ اینگرو ڈھیرئی و ہزارہ‘‘ سامنے آیا۔جس میں حقایق کو توڑمروڑ کر پیش کرنے یا مسخ کرنے کی شاید نادانستہ کوشش کی گئی تھی۔ لہٰذا یہ جانتے ہوئے کہ اس تحریر سے دریائے سوات میں ایوب پل کے مغرب کے جنوب کی جانب نقصان دہ پشتہ بندی کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری حلقوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیوں کہ جو کچھ انھوں نے کرنا تھا، وہ اب تک تقریباً کر چکے ہیں اور کر کے رہیں گے۔ محترم کی تحریر سے پیدا شدہ بعض غلط فہمیوں اور حقایق کو مسخ ہونے سے بچانے کی خاطر یہ سطور تحریر کیے جاتے ہیں۔ امید ہے کہ محترم ان کو دل پہ نہیں لیں گے۔
محترم نے والئی سوات سے پہلے اور بعد میں اہل جنوب و اہل شمال کے مابین ایک یادداشت اور معاہدہ کی بات کی ہے جس کے مطابق طے پایا تھا کہ’’ دریا کی لہر ان کی حد ہوگی‘‘ یعنی’’ مطلب اگر دریا میں طغیانی کی وجہ سے دریا کا پانی اُس پار کی زرعی زمینیں دریا برد کرتا ہے، تو اس پار کے مکینوں کو اجازت ہوگی کہ وہ زمین جس سے دریا کا پانی رخ موڑ چکا ہو، اسے زیر قبضہ اور قابل کاشت بنایا جا سکتاہے۔ اس طرح اُس پار کے مکین بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ اس اُصول اور یادداشت پر اہل شمال و جنوب سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ‘‘
محترم کی اس بات نے ایک اور بات یاد دلائی۔ کہتے ہیں کہ سوات میں روایتی نظام’’ ویش‘‘ (جسے عارضی تقسیم اراضی کہا جاتا تھا) کے ایک موقعہ پر جب زمین کے مختلف حصوں کی حدود کا تعین کیا جا رہا تھا، تو دور ایک گدھا کھڑا تھا۔ متعلقہ افراد میں سے کسی نے کہا کہ اس جانب وہ گدھا ہی حد مقرر ہے۔ چند لمحوں بعد جب لوگ حد بندی سے فارغ ہوئے، تو گدھا دور جاکر کسی اورمقام پر کھڑا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ گدھا جدھر بھی جائے، تو اس کے ساتھ وہ حد بندی بھی گھومتی رہے گی بلکہ گدھا اُس وقت جس مقام پر کھڑا تھا، وہی جگہ حد قرار پائی تھی۔ پس دریائے سوات کے پاٹ کو حد قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ دریا ئے سوات جدھر بھی جا ئے اس کے ساتھ زمین کی حدبندی بھی گھومتی اور تبدیل ہوتے رہے گی بلکہ جس وقت اس حد بندی کا تعین کیا جا رہا تھا، تو اس وقت اس کا پاٹ جس مقام پر تھا وہ حد مقرر ہوا ۔نیز خودمحترم بھی خوب جانتے ہیں کہ اُس وقت دریائے سوات کا پاٹ کس مقام پر تھا۔
تاہم بات کی وضاحت کی خاطر اگر محترم کی اس بات کو اصول تسلیم کیا جائے کہ دریا کا پاٹ اُن کی حد ہوگی یعنی دریا اگر اپنا رُخ تبدیل کرتا رہا، تو اس کے ساتھ زمین کی حد بندی بھی بدلتی رہے گی۔ پس اس صورت میں دریائے سوات کے کنارے کسی بھی پشتہ بندی کی اجازت اور گنجایش نہیں۔ اس لیے کہ پشتہ بندی اپنی مستقل حد میں ہی کی جاسکتی ہے جب کہ دوسری صورت میں کوئی خاص حد معلوم اور متعین نہیں اور دریا کی لہروں کو کھلا اختیار حاصل ہے کہ جس طرف کا چاہیں رُخ کرلیں اور دوسری جانب کے لوگوں کی زمین کی حد بڑھائیں۔ لہٰذااس مذکورہ یاد داشت کے تحت پشتہ بندی کی اجازت نہیں۔ اس لیے کہ یہ دریائے سوات کے صواب دیدی اختیارپر قدغن لگانے اور اس کی راہ میں رکاؤٹ بننے کا سبب ہوگا۔ چناں چہ جو بھی پشتہ بندیاں کی گئی ہیں، اس اصول اور یادداشت کی بنیاد پر ان کو اکھاڑ نااور ہٹانا لازمی ہے، تاکہ دریائے سوات کے پاٹ کو حد بندی کی جو حیثیت حاصل ہے وہ برقرار رہے۔
یاد رہے کہ ذاتی طور پر میرا اس اصول سے اتفاق نہیں۔ اس لیے کہ اگر پرانے زمانہ میں ایسا کوئی بھی اصول تھا، تو 1980ء کی دہائی میں صوبائی محکمہ مال کے بندوبست اراضی میں اس وقت کی زمینی حقیقت کی بنیاد پر دریا کے دونوں پار کی زمینوں اور دریا کی حدود کا تعین کر کے ان کو ختم کر دیا گیا،جو کہ اب ایک اٹل قانون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے مذکورہ سابقہ مضا مین میں محکمہ مال کے بندوبست اراضی یعنی عرف عام میں ’’پٹوار‘‘ کے ریکارڈکی بنیاد پر پشتہ بندی وغیرہ کی ضرورت پر زور دیاہے۔
محترم مزید تحریر فرماتے ہیں کہ’’یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایوب پل کی تباہی کے بعد دریا کے اُس پار کے مکینوں کے پرزور مطالبہ پر لوہے کا ایک عارضی پل بنایا گیا تھا، جو ایوب پل سے نیچے غرباً تقریباً سات سو فٹ دوری پر تھا۔ اُس پل کے لیے شمال کی طرف دریا کے وسط اور احاطہ میں کچی سڑک جو اونچائی اور بھرائی میں ایک ٹھیک ٹھاک بند دکھائی دے رہی تھی، بنا کر ایوب پل کے شمالی سرے تک گھمائی گئی تھی، جو کافی عرصہ تک استعمال ہوتی رہی۔ جب ایوب پل کی جگہ پر عارضی لوہے کا پل بہ حال کیا گیا اور لوگوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا، تو اینگروڈھیرئ کی حدود سے منسلک بنائے گئے عارضی پل کو ہٹایا گیا اور مذکورہ کچی سڑک جو شمالاً دریا کے حدود میں بنائی گئی تھی کو جان بوجھ کر مضبوط بند اور پشتہ کے طور پر رہنے دیا گیا اور اس پر مستزاد یہ کہ پل کے شمالی سرے پر کام ہونے دیا کی وجہ سے دریا کا پورا پانی جنوبی سرے پر چھوڑ دیا گیا۔ پھر جب پچھلے سال دریا کی طغیانی اور بپھرنے کا عمل شروع ہوا، تو ظاہری بات ہے کہ وہی کچی سڑک جو مضبوط بند اور پشتہ کی شکل اختیار کر گئی تھی، کی وجہ سے دریا کا رُخ جنوب کی طرف مڑ گیا جس سے اہل علاقہ اور خاص کر اینگروڈھیرئ کی آبائی زرعی زمینوں کو کافی نقصان ہوا۔ دوسری طرف اہل شمال نے پہلے سے اپنی زرعی زمینوں کومحفوظ بنانے کے لیے پشتے تعمیر کروائے ہیں۔ حکومت دیگر متعلقہ اداروں کی مدد سے خوب پشتہ بندی کرواچکی ہے۔‘‘
چوں کہ میرا روزانہ کی بنیاد پر اس سڑک اور عارضی پل پر سے گزر ہوتا تھا جو دریائے سوات میں طغیانی کے بعد مغرب کی طرف تعمیر کیا گیا تھا، لہٰذا موصوف کی ان درج بالا باتوں کا حقیقت سے واسطہ نہیں۔ نہ تو وہ سڑک ان معنوں میں دریا کے وسط میں تعمیر کی گئی تھی جن میں موصوف نے اسے پیش کیا ہے اور نہ اس (سڑک) نے کسی پشتہ بندی کا کام کیا تھا۔ نیز پچھلے سال تک اس کا نام و نشان تھا کہ اس نے پچھلے سال دریا کے پانی کا رُخ موڑ کر دوسری جانب تباہی کا سامان پیداکیا اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا۔
اس ضمن میں تفصیل اس مضمون کی طوالت کا باعث بنے گی۔ تاہم جو کوئی بھی اُس کچی سڑک کی حتمی حدود، عارضی پن اور وہ عارضی پل ملاحظہ کرنا چاہتا ہے، تو اُس پل کی تعمیر مکمل ہونے پر اُس کی آمد و رفت کے لیے کھولنے کے وقت ایوب پل کے پاس سے اُن کی لی گئی تصاویر ملاحظہ کر سکتا ہے، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکتاہے۔
جہاں تک ایوب پل کے شمالی حصہ کی تعمیر کے وقت دریا کے پانی کا جنوبی سرے پر چھوڑنے اور اس کی وجہ سے پچھلے سال جنوب کی طرف زرعی اراضی کو نقصان پہنچنے کی بات ہے، تو محترم کو اگرزمینی حقیقت معلوم ہوتی یا اس سے صرف نظر نہ کرتے، تو شاید اس طرح کی بات نہ لکھتے۔اس لیے کہ اُس شمالی حصہ کی تعمیر کے بعد جنوبی حصہ کی تعمیر کی خاطر دریا کے پانی کو ایکسکی ویٹر کے ذریعے شمالی سرے پرچھوڑ دیا گیا جو کہ آج بھی اسی حال پر ہے۔
رہی محترم کی اہل شمال کی اپنی زرعی زمینوں کو محفوظ بنانے کے لیے پہلے ہی سے پشتے تعمیر کرنے کی بات، تو میں اس بابت اپنے سابقہ محولہ بالا مضامین میں بھی تحریر کرچکا ہوں کہ حکومت نے ایوب پل اور اُن پشتوں کی تعمیر میں اہل شمال یا کانجو کے لوگوں کی حق تلفی کی ہے۔ ان کی زرعی زمینوں کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ محکمۂ مال کے بندوبست اراضی یا عرف عام میں ’’پٹوار‘‘ میں درج ان کی زمینوں کو طغیانی کی وجہ سے دریا میں بہنے کے بعد بندوبست اراضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر پشتہ بندی کرنے کی بجائے ان کی دریا میں بہنے والی زرعی اور عماراتی زمینوں کو دریا کا حصہ بنا دیا، جس کی بہ دولت اس کے ایک حصہ کے ساتھ اب اہل جنوب نے حکومتی امداد سے ایکسکی ویٹر کے ذریعے دریا کا رُخ موڑ دیا۔ ایوب پل کے دونوں یعنی مشرقی و مغربی اطراف اہل شمال یا کانجو کے لوگوں سے اس ریاستی نا انصافی کا مداوا یا تو سرکار کے بندوبست اراضی کے ریکارڈ کے مطابق نئی پشتہ بندیاں ہیں اور یا ان کو ان کی زمینوں کا مارکیٹ ریٹ پر معاوضہ ادا کرناہے۔
محترم نے سحابؔ کا نیچے یا پشتہ بندی کی جگہ پرجاکر صورت حال نہ جانچنے کی بات کی ہے، تو محترم بھی بہ حیثیت فریق نہیں بلکہ منصف اور محقق نئی تعمیر شدہ ایوب پل کے بیچ (جو کہ اب دریا میں بہنے والے پرانے پل کا تقریباً شمالی سراہے) کھڑے ہو کر خود غیر جانب دارانہ جایزہ لیں اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائیں کہ ’’اہل علاقہ نے حکومت کے تعاون سے‘‘ ایکسکی ویٹر کے ذریعے پانی کے بہاؤ کا جو رُخ موڑا اور بہ قول ان کے دریا کے پاٹ میں نہیں’’بلکہ دریا کے کنارے‘‘جوایک پشتہ تعمیر کروا رہا ہے، آیا واقعی یہ دریا کے پاٹ میں نہیں؟ نیز کیا واقعی یہ اہل علیگرامہ اوراہل ہزارہ کے (چند سال پہلے تک دریا لیکن اب اہل جنوب کی زرعی زمینوں کی طرح زرعی زمینیں نہیں بلکہ)ہزاروں سالہ پرانی زرعی زمینوں کو ڈبونے کا اہتمام نہیں؟
جہاں تک اہل جنوب کے دریا کے کنارے پشتہ بندی کے حق کا معاملہ ہے، تو میں نے اپنے سابقہ مضامین میں لکھا ہے کہ اگر جنوب کی جانب بھی پشتہ بندی کرنی ہے، تو وہ ایوب پل کے جنوبی کونے سے سیدھ میں اس طرح کی جائے جس طرح کے شمال کی جانب کی گئی ہے۔ اس طرح کی پشتہ بندی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، لیکن جو پشتہ بندیاں پچھلے سالوں میں کی گئی ہیں اور جو اَب کی جا رہی ہیں وہ( جیسا کہ میں پہلے بھی اپنے مضامین میں لکھ چکا ہوں) حفاظتی نہیں بلکہ تخریبی پشتہ بندیاں اور دریا کے پاٹ اور حدود پر دست اندازی ہے جو کہ ایک طرح سے ملکی قوانین، محکمۂ مال کے بندوبست اراضی کے ریکارڈ اور موصوف کے محولہ بالا ’’دریا کی لہر کی حد‘‘ یعنی دریا کے پاٹ کی حدہونے والے روایتی اصول سب کی خلاف ورزی اور ریاستی اداروں اور غیر ریاستی عناصر کے قانون کی پاس داری نہ کرنے کا غماز ہے۔ اس طرح کی پشتہ بندی در اصل ورزاء اور ممبران اسمبلی نہیں (اس لیے کہ وہ ذاتی مفاد کی خاطر ووٹ پرست اور حلقہ پرست بن چکے ہیں، خواہ وہ موجودہ انصاف پرست ہونے کے دعویٰ دارہوں یا سابقہ قوم پرست ہونے کے دعویٰ دار) بلکہ متعلقہ ریاستی محکموں اور انتظامی افسروں کے کردار اور کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ نیز یہ اُن کی ہی ذمہ داری ہے کہ انھیں ’’نار تھ ویسٹ فرنٹئیر پراونس پبلک پراپرٹی (ریموول آف اینکروچمنٹ) ایکٹ،1977 ء‘‘(جو کہ سوات میں بھی لاگو ہے) کے تحت اور اس کی پاس داری کی خاطر اُکھاڑ پھینک کر دریا برد کریں جو کہ ایک قانونی تقاضا بھی ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے سال اہل ہزارہ کی ہزاروں سالہ زرعی اراضی اس وجہ سے دریائے سوات کے موجوں کی نذر ہو گئی تھی کہ جب دریا نے ایوب پل سے کچھ مغرب میں اپنا رُخ اپنے سابقہ یعنی اس وقت کے پاٹ (جو کہ اب زرعی اراضی اور تعمیرات میں تبدیل کیا گیا ہے) جب دریاکے پاٹ کو حدمقرر ہونے کی بات ہوئی تھی(جس کا محترم نے ذکر کیا ہے) کی جانب موڑ دیا، تو اس پرانی اصل پاٹ والی موجودہ اراضی پرآباد تعمیرات اور زرعی اراضی میں پانی داخل ہونے پر میڈیا میں دریا کی طغیانی کی بھیانک تباہی کی رپورٹنگ کی گئی۔ اس پر مقامی، ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ کے سربراہوں نے نہ صرف وہاں کے دورے کیے بلکہ محترم کے ذکر کردہ دریا کے رُخ موڑنے کی صواب دید پر قدغن لگانے کی خاطر ہنگامی بنیادوں پر پشتہ بندیاں کیں، جس نے اس پانی کا رُخ جنوب سے شمال کی جانب ہزارہ کی طرف موڑ دیا اور وہاں پر تباہی مچا دی۔ لیکن میڈیا اور انتظامیہ کو ان کے کردار کی وجہ سے آئی ہوئی اس تباہی کی خبر ہوئی نہ احساس۔ لہٰذااُس تباہی کا ذمہ دار دریائے سوات نہیں بلکہ میڈیا،انتظامیہ اور متعلقہ دوسرے سرکاری محکمے ہیں۔
766 total views, no views today


