مینگورہ،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ڈاکٹر حیدر نے اے این پی کا ساتھ اسلئے چھوڑ دیا کیونکہ وہ اقتدار میں نہیں، وہ ٹکٹ کے حصول کیلئے تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں، دہشت گردی کی کارروائیاں اور امن مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے،خودکش حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کبھی بھی پختونوں کی روایات نہیں رہی بلکہ یہ عرب دنیا کی روایات ہیں ، امن کے خاطر اے این پی نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں
،پختونوں کی سرزمین پر دہشت گردی نہیں مانتے،خدا کرے مذاکرات کے ذریعے امن قائم ہو،ان خیالات کااظہار انہوں نے سوات میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، سابق صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی صرف وزیرستان میں نہی بلکہ پورے ملک میں ہورہی ہے لہٰذا شورش زدہ علاقہ صرف وزیرستان نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے امن مذاکرات کی آڑ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ، جس کیخلاف پاک ارمی نے کارروائی کی ہے، یہ کوئی باقاعدہ اپریشن نہیں ہے ، اپریشن کیلئے بھر پور تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو امن مذاکرات کیلئے وقت دیا گیا لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو مذاکرات میں بیٹھنا چاہئے تھا،تاکہ وہ قوم کے کام اتا ،انہوں نے کہا کہ پنجابی طالبان نے اے این پی کو الیکشن کمپین چلانے نہیں دیا اس لئے ان کو شکست ہوئی ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پارلیمنٹ پر قبضہ کرنا چاہتی تھی اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے کیونکہ جو لوگ دفاع پاکستان مہم چلارہے تھے اج وہ امن مذاکرات کے کمیٹیوں کے رکن ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اے این پی کو امن مذاکرات میں شامل ہونے کیلئے کہا تو قوم کیلئے وہ امن مذاکرات میں شامل ہونگے تاکہ قوم کو دہشت گردی سے نجات مل سکے، انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے چھیاسی کے الیکشن کیلئے ضلعی تنظیم فیصلہ کرے گی کہ کسی جماعت کی حمایت کرے یا اپنا امیدوار کھڑے کرے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر حیدر علی ٹکٹ کیلئے تحریک انصاف میں گئے ہیں اس کو پارلیمان میں دلچسپی نہیں ہے صرف وہ ٹکٹ اور کامیابی چاہتے ہیں، کیونکہ اے این پی کی حکومت میں وہ ملک سے بارہے۔
433 total views, no views today


