مینگورہ،سیدوشریف کے علاقہ گلی گرام کے رہائشی محمدشیرین نے کہاہے کہ اے سی سوات نے بلا وجہ میری چاردکانیں اورایک مکان مسمارکرکے مجھے چالیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا ہے،جہاں پر ہماری دکانیں اورمکان موجود ہیں یہ زمین ریاستی دور میں ہم نے خریدی تھی جس کی تمام تر دستاویزات بھی موجود ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا گیا جس کے سبب میں دل کے عارضہ میں مبتلا ہوگیا،سوات پریس کلب میں دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ عرصہ بیشتر مجھے اے سی سوات اشفاق کی جانب نوٹس ملا چونکہ میری دکانیں ناجائزتجاوزات کے زمزے میں نہیں آتیں اس لئے میں اس نوٹس کیخلاف عدالت گیا ،
انہوں نے کہاکہ نوٹس تین دکانوں کا ملا مگر اے سی سوات اشفاق اورڈی سی سوات محموداسلم وزیر نے میری چار دکانیں مکان سمیت مسمار کردئے،انہوں نے کہاکہ میرے علاوہ دیگر چودہ افرادکو بھی نوٹس ملے تھے مگر ان کی املاک کو چھواتک نہیں کیونکہ ان لوگوں نے رقم دی تھی ،انہوں نے کہاکہ میری دکانیں مسمارکرنے سے قبل اسدنامی پٹواری نے آکر مجھ سے ایک لاکھ روپے کا تقاضاکیا چونکہ میں ٹیکسی ڈرائیورہوں اوراتنی بڑی رقم دینے کی استطاعت نہیں تھی لہٰذہ میری املاک کو مسمارکردیا گیا جس سے مجھے چالیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچ گیا،انہوں نے کہاکہ املاک کے مسمارہونے کی وجہ سے میں دل کے مرض میں مبتلا ہوگیا ہوں ،انہوں نے کہاکہ جہاں میری دکانیں اورمکان موجود ہیں وہ کوئی سپرہائی وے نہیں بلکہ ایک عام شاہراہ ہے جہاں سے میری دکانیں کافی فاصلہ پر موجود ہیں مگراس کے باوجود بھی میرے ساتھ یہ ظلم کیا گیا جس کے بعدمیں انصاف کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھاتا پھررہاہوں ،انہوں نے کہاکہ انصاف کے نام پر قائم ہونے والی صوبائی حکومت اوردیگراعلیٰ حکام میرے ساتھ ہونے والے اس ظلم کے بارے میں فوری تحقیقات کرکے مجھے انصاف فراہم کرے،انہوں نے کہاکہ اس وقت میں دل کے مرض میں مبتلا ہوں اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری اے سی سوات اورڈی سی سوات پر عائدہوگی۔
419 total views, no views today


