تحریر،مرجان علی
جمعہ کے روز تھانہ سٹی کے حدود پلہ ڈھیری میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں کبوتر کے تنازعہ پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا۔جس میں نوجوان شاہسوار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔قتل کا مقدمہ سلیمان ولد شمس الرحمن اور شمس الرحمن کے خلاف تھانہ سٹی میں درج کردیاگیا۔تھانہ سٹی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شمس الرحمن کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا۔واقعے کے بعدشاہسوار کے رشتہ داروں نے مساجد میں اعلانات کرکے علاقہ مکینوں کو اکٹھا کیا۔جس کے بعد علاقے میں موجود چند انتشار پسند افراد نے اسد ولد شمس الرحمن اور اس کے والدہ کو گھر میں محصور کرکے گھر کو آگ لگا دی۔پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے ضلعی سربراہ سمیت ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایچ اوز موقع پر پہنچ گئے۔چونکہ مشتعل عوام کا ہجوم تھا اور پولیس مسمار شدہ گھر میں موجود ماں بیٹے کی جان بچانے کی ہرممکن کوشش کررہے تھے لیکن مشتعل مظاہرین پولیس اور ریسکیو1122کی راہ میں رکاوٗٹ بنے رہے۔ڈی پی او چارسدہ نے واضح احکامات دئیے کہ گھر میں محصور اسد عرف ملنگ کی اور اس کی والدہ کو باحفاظت گھر سے نکالا جائے لیکن چونکہ رات کا وقت تھا اور مشتعل مظاہرین کی تعداد کافی زیادہ تھی جن میں چند افراد مسلح بھی تھے۔پولیس نے آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج بھی کیا اور اسی دوران ایس ایچ او سٹی بہرہ مند خان بذات حود ماں بیٹے کو بچانے کیلئے آگے بڑے لیکن مشتعل مظاہرین نے ان پر حملہ کرکے کئی پولیس اھلکاروں سمیت شدید زخمی کردیا۔اور اسد عرف ملنگ کو ماں سمیت آگ میں پھینک دیا۔ایس ایچ او سٹی اور نے ڈی پی او چارسدہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسد عرف ملنگے کی والدہ کو آگ سے بچاتے ہوئے خود شدیدزخمی بھی ہوئے جن کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کردیا گیا جوکہ ابھی تک زیرعلاج ہے۔یہ تمام واقعہ میرے آنکھوں کے سامنے تھا۔اس دوران ایس ایچ او پڑانگ عرفان خان بھی موجود تھے اور وہ بھی مشتعل مظاہرین کی پتھراؤ کا نشانہ بنے۔میرے لئیے دونوں پارٹیاں نہایت قابل اخترام ہے اور میر تجزیہ بالکل غیرجانبدار ہے اور میرا مقصد محض حقائق کو منظرعام پر لانا ھے تاکہ لوگوں کی غلط فہمییاں دور ہوسکیں۔یہاں پر بعض لوگ ذاتی عناد کی بناء پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ھے۔ چارسدہ پولیس نے اس تمام واقعے کے دوران انتہائی تدبر کا مظاہرہ کیا اگر پولیس اس سے زیادہ حرکت میں آتی تو خالات مزید سنگین صورت اختیار کرسکتے تھے۔ چونکہ میں موقع پر موجود اس لئے میڈیا کے تمام دوستوں کو میں ساتھ ساتھ اپڈیٹ دیتا رہا۔سانحہ پلہ ڈھیری کے بعد چارسدہ پولیس نے تقریبا 13افراد کو گرفتار کرلیا ھے،اور ثبوتو ں کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی عمل لائی جائیگی۔
888 total views, no views today



