سوات(سوات نیوز )ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس لگانے کی تیاریاں ہورہی ہے،سیکشن فور لگاکر اراضیات کو قبضہ کیا جارہا ہے، عوامی نیشنل پارٹی ائین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سوات کے ضلعی صدر ایوب اشاڑی، جنرل سیکرٹری خواجہ محمد خان، شیر شاہ خان، جعفر شاہ اور دیگر بھی موجود تھے میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیاسی کمیٹی برائے ملاکنڈ ڈویژن کے دوروں اور تنظیم سازی بہتر طریقے سے ہوئی عوامی نیشنل پارٹی پر عوام کا اعتماد ہے، تنظیمیں فعال و ارگنائز ہے اور لوگ جوق درجوق پارٹی میں شامل ہورہے ہیں دوروں کا دوسرا راوٗنڈ تھاجس کے دور رس نتایٗج برامد ہونگے انہوں نے کہا کہ حالیہ کمر توڑ مہنگائی کے حوالے سے بھی عوام سے ملاقاتیں ہوئی جس کا ان پر انتہائی خراب اثر ہے لوگ خوار ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں شامل ہوا لہذا ان معاہدوں کی پاسداری کی جائے ٹیکس کا نفاذ یہاں کے عوام پر مزید بوجھ ڈالنا ہوگا یہاں کے عوام کو یہاں کے وسائل پر اختیار دیا جائے نہ کہ ان پر ٹیکس لگاکر انہیں مزید بوجھ تلے روندا جائے انہوں نے کہا کہ جنگل اور ریت کا اختیار بھی یہاں کے عوام کے پاس نہیں ہے یہاں کے زمینوں پر سیکشن فور لگاکر قبضہ کیا جارہا ہے ایسا کرنا یہاں کے جنگ زدہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں یہاں بھی اور وہاں بھی امن چاہتے ہیں لیکن وہاں کے حالات الگ ہیں لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں لوگ روٹی کے خاطر ملک چھوڑ رہے ہیں دھماکے ہو رہے ہیں وہاں کوئی محفوظ نہیں ہے لہذا امن ضروری ہے امن و امان کے حوالے سے وہاں کردار ادا کیا جائے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اعلان تو ہو گیا لیکن اس میں بھی خدشات ہے ہم چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات ہوں اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پہلے ہی دن سے ناجائز ہے یہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے ڈی جی ائی ایس ائی کے تقرری کے حوالے سے بدگمانیاں پیدا ہوئیں تمام ادارے ائین کے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں تو ملکی مفاد میں بہتر ہوگا انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں بھی دھاندلی کا خدشہ ہے جس طرح یہ حکومت ہم پر مسلط ہے اسی نظام سے دوسرے بھی مسلط ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی مصنوعی پیدا کردہ ہے اگر عالمی سطح پر مہنگائی ہے تو بنگلہ دیش اور انڈیا میں کیوں نہیں ہے لہذا حکومت مہنگائی کا خاتمہ کریں اور سیاسی قیادت اس ظلم کے خلاف اواز اٹھائیں۔
610 total views, no views today



