اپنے وطن اکر اپنے بھائی لیاقت علی خان کی فاتحہ خوانی کی، سوات اور شانگلہ کے ساتھ میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئی، تورپیکئی ، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی والدہ اور ضیاء لدین یوسفزئی کی اہلیہ تورپیکئی اپنے بھائی کی وفات پر آنے کے بعد برطانیہ واپس روانہ ہوئی، انہوں نے جاتے ہوئے مشال ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے کہاکہ ا ن کا ارمان تھاکہ اپنے بھائی لیاقت علی خان کو دیکھیں مگر ان کی وفات کی بعد ان کے لئے یہ غم برداشت کرنا مشکل تھا ۔ اس لئے وطن آگئی اپنوں سے مل کر دل ہلکا ہوا، انہوں نے مزید کہاکہ یہ دور خالصتاً ذاتی نوعیت کا تھا، تاہم جب وہ اسلام آباد سے سوات اور شانگلہ کے طرف روانہ ہوئی توان کو سکو ن کا احساس ہوا ۔ انہوں نے شانگلہ میں اپنے سسر کے آبائی گاؤں برکانڑہ اور اپنے آبائی گاؤں کارشٹ میں اپنے رشتہ داروں، سہلیوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا وہاں کے لوگوں نے ان کو بہت زیادہ عزت اور احترام دیا، اس کے ساتھ جب وہ مینگورہ آئی جہاں پر اس نے بیس سال گزارے تھے۔ تو ان کو طمانیت کا احساس ہوا انہوں نے خوشحال پبلک سکول کا دورہ کیا وہاں پر بچوں اور اساتذہ سے ملاقات کی انہوں نے کہاکہ ان کوبہت زیادہ سکون اس بات پرہوا کہ اب علاقے میں امن ہے بچے سکول جاتے ہیں لوگوں کے زندگی معمول پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ اور ضیاء الدین چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے سوات منتقل ہوجائیں۔ انہوں اس موقع پر سوات اور شانگلہ پولیس کاخصوصی شکریہ ادا کیاکہ انہوں نے اس کایہ دورہ آسان بنایا اور ہرجگہ پر ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، ملالہ یوسفزئی کی والدہ توپیکئی بدھ کے روز اسلام آباد سے برطانیہ روانہ ہوئی، ملالہ کی والدہ کی امد پر ان کے بھائی فیض محمد پاپا نے کہاکہ تورپیکئی کی امد ان کے لئے کسی عیدکی خوشی سے کم نہیں تھی گوکہ وہ غم رازی پر آئی تھی مگر سارے خاندان کے لوگ ان کی امد پر بہت خوش تھے ، انہوں نے ایک ماہ سے زائد عرصہ کے ان کے درمیان گزارا انہوں نے کہاکہ علاقے کے لوگوں اور رشتہ داروں نے جو عزت اور مہمان نوازی ان کی بہن کو دی اس پر وہ ان سب لوگوں کا شکر ادا کرتاہے۔
780 total views, no views today



