پشاور میں باچا خان مرکز پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کاکہنا تھا کہ اے این پی جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے عدالتی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس طرح کے فیصلے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہیں۔اگر سپریم کورٹ میں پشاور ہائی کورٹ کافیصلہ تبدیل ہوجاتا ہے تو اے این پی اسکے خلاف عوام میں جائے گی۔
انکاکہنا تھا کہ جو بلدیاتی نظام موجودہ حکومت پیش کررہی ہے وہ عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت آرٹیکل 140 کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔عوام کو وسائل اور اختیارات سے محروم کرنا چاہتی ہے۔یہ تاریخ کی پہلی ضلعی حکومت ہوگی جس میں ضلع ہی نہیں ہوگا۔جب ضلعی حکومت ہی نہیں ہوگی تو عوام کو انکے وسائل اور فیصلوں کا اختیار کیسے ملے گا۔
ایمل ولی نے کہا کہ اگر ضلعی حکومتوں کو ختم کرنے کا مقصد اختیارات کی جنگ کو ختم کرنا ہے تو پھر صوبے میں وزیراعلیٰ کو بھی ختم کردیں اور سارے اختیارات چیف سیکرٹری کو منتقل کردیں۔تحریک انصاف کی حکومت جمہوریت کو کمزورکرنے پر تلی ہوئی ہے۔
520 total views, no views today



