10 اکتوبر کے ادارتی صفحہ (روزنامہ آزادی) میں گلینہ نعیم کی آواز سنی۔ اس آواز کو سب کو سننا چاہیے، نہ صرف سنا چاہیے بلکہ اس پر عمل بھی کیا جانا چاہیے۔ اُس نے وقت کے خداؤں سے شکایت کی ہے کہ ’’میری آواز کو دیگر آوازوں میں مت دبائیں‘‘۔ کیوں کہ اُسے یقین ہے کہ ایک زمانے سے آوازوں کے دبانے کا رواج چلا آرہا ہے۔
قارئین! محترمہ گلینہ نعیم گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج کی ایک طالبہ ہے۔ کالج میں طالبات تو اور بھی ہوں گی…… لیکن وہ ایک حساس طالبہ ہے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ زندہ ضمیر کی مالکن ہیں۔ حساس اور زندہ ضمیر والے انسان ناجائز بات اور ظلم برداشت نہیں کرسکتے۔ وہ زیادتی کے خلاف ضرور چیخ اٹھتے ہیں۔ وہ چیخ کوئی سنے یا نہ سنے…… لیکن وہ اثر ضرور رکھتی ہے اور مستقبل کے انقلابات کی شروعات کے لیے ایک نہ ایک دن ضرور نقطۂ آغاز ثابت ہوتی ہے۔ کیوں کہ وقت کے ظالم آوازوں کو تو دباسکتے ہیں، لیکن کسی کی فکر کو نہیں دبا سکتے۔
گلینہ نعیم کی ایک خواہش کا خون ہوچکا ہے اور اس کے لیے وہ احتجاج پر آمادہ ہے۔ اُس نے اپنے احتجاج کے لیے بہت خوب صورت اور اخلاقی طریقہ اپنایا ہے۔ اُس نے ایک ’’احتجاجی کالم‘‘ لکھا ہے۔ مَیں اُس کے احتجاج کو سلام پیش کرتا ہوں اور کالم لکھنے کے اس خوب صورت عمل کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
مجھے اُمید ہے کہ وہ اس طرح اپنے احتجاج کا سلسلہ اپنے کالموں کے ذریعے پیش کرتی رہے گی۔
قارئین، اُسے شکایت ہے کہ اُس کا فزکس کے ایک قابل اُستاد ’’ملک عظمت صاحب‘‘ کو گورنمنٹ ڈگری کالج باغ ڈھیریٔ ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ گلینہ کو باغ ڈھیریٔ سکول کے طلبہ سے کوئی دشمنی نہیں۔ وہ اُن کی حق تلفی نہیں چاہتی۔ البتہ وہ یہ چاہتی ہے کہ بہت سے ایم اے اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر بے چارے بے روزگار دھکے کھا رہے ہیں۔ لہٰذا ایک نئے کالج کے لیے نیا سٹاف بھرتی کیا جائے۔ کیوں کہ فزکس کا مضمون مشکل ہے اور اس کو پریکٹیکل کی مدد کے بغیر سمجھنا مشکل ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ملک عظمت صاحب یہاں جہاں زیب کالج میں بی ایس کے سینئر طلبہ و طالبات کو ایک عرصے سے پڑھارہا ہے۔ بقولِ گلینہ نعیم وہ ایک قابل اور تجربہ کار استاد ہے۔ اُس کی تقریباً 31 مختلف اشاعتیں انٹرنیشنل لیول پر شائع ہوچکی ہیں۔ یہاں کے طلبہ کے ساتھ وہ سکھانے کا اچھا سلسلہ شروع کرچکے ہیں۔ طلبہ اور یہاں کے ماحول کے ساتھ ان کی انڈر اسٹینڈنگ ہے ۔ طلبہ اور استاد ایک دوسرے کو سمجھ چکے ہیں۔ لہٰذا سینئر طلبہ کا سلسلۂ تعلیم روک کر اُسے اچانک کہیں اور بھیج کر ظلم نہیں، تو اور کیا ہے؟ یہ سلسلہ تو ٹوٹ گیا۔ طلبہ اور اُستاد دونوں ڈسٹرب ہوگئے۔ اب اُستاد اور طلبہ دونوں نئے طلبہ اور نئے اُستاد کے ساتھ سرے سے آغاز لیں گے۔ یوں پرانے لیول تک پہنچتے پہنچتے ایک عرصہ گزر جائے گا۔
گلینہ نعیم کی یہ خواہش ہے کہ تعلیم اور سیاست کے بیچ یہ معاہدے ختم ہوجائیں۔ دراصل یہ بہت گہرا فقرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اساتذہ کی تبدیلیاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ کوئی طاقت ور سیاسی بندہ اس کے پیچھے ہوگا۔ اُس کی یہ بات بالکل صحیح اور جائز ہے کہ محکمۂ تعلیم میں یہ سفارشیں اور سیاسی مداخلت بند کی جائے۔ خالص میرٹ کی بنیاد پر اور محکمہ کے اپنے قانون اور ضابطوں کے تحت یہ کام سرانجام دیے جائیں۔ ایسا کرتے ہوئے انصاف، حق اور ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔ کیوں کہ بہ قولِ گلینہ، ’’آپ سارے سیاسی لوگ عوام کے خادم ہیں۔ آخر میں حق اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ایک نئے کالج کو کامیاب کرنے کے لیے ایک پرانے اور معیاری کالج کا تعلیمی معیار گرانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ آخر میں میری ایک درخواست ہے کہ میری آواز کو کسی ہنگامہ خیز موج کی نذر نہ کیا جائے۔ قلم میں بہت طاقت ہوتی ہے اور میرا قلم کسی بھی نا انصافی پر لکھنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے گا۔‘‘
مَیں اس احتجاج میں گلینہ نعیم کا ساتھ دیتے ہوئے محکمۂ تعلیم کے متعلقہ افسران سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ گلینہ نعیم کا پُرزور مطالبہ جلد از جلد مانتے ہوئے محترم پروفیسر ملک عظمت صاحب کا گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج میں واپس اپنی جگہ پر تعین کریں۔ اس مسئلے کو خالص تعلیمی اور طلبہ کی ضرورت کے مسئلے کی بنیادوں پر حل کریں۔ اُسے بلا ضرورت اپنی ضد اور انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ طلبہ کی ذہنی آسودگی اور خواہش کو مد نظر رکھا جائے۔ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ نہ کھیلا جائے۔
قارئین، گلینہ نعیم جیسے قابل اور حساس طلبہ اور طالبات کی خواہشات کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ وہ طلبہ اور طالبات ستائش کے قابل ہیں۔ وہ وطنِ عزیز کے ہیرے اور جواہر ہیں۔ وہ علم و دانش کے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے ہیں…… جنہیں اپنی تعلیم اور مستقبل کی فکر ہے اور اس کے لیے جائز جد و جہد بھی کررہے ہیں۔
مَیں گلینہ نعیم کو یہ امید دلاتا ہوں کہ وہ اس جد و جہد میں اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھے۔ میرا قلم اس کے قلم کا اس جد و جہد میں ساتھ دیتا رہے گا۔
مَیں تمام طلبہ و طالبات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس قانونی اور جائز جد و جہد میں گلینہ نعیم کے قدم پر قدم رکھیں اور کندھے سے کندھا ملائیں۔ یہ کسی ذاتی مفاد کی نہیں…… سب کے مفاد کی لڑائی ہے۔ اور یہ لڑائی یک آواز ہوکر اتفاق و اتحاد سے جیتی جاسکتی ہے۔
آیئے، آج یہ عہد کریں کہ گلینہ نعیم کی آواز کے ساتھ اپنی سیکڑوں آوازوں کو ملائیں گے، تاکہ کسی کو آواز دبانے کی ہمت نہ ہو اور تم سب کی آوازیں ظلم و زور کی در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیں۔
722 total views, no views today
Comments



